- فتوی نمبر: 32-137
- تاریخ: 02 فروری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
ایک شخص نے زوجہ کو طلاق دی، دس ایام کے بعد اس کی موت ہو گئی بیوی عدت میں ہے عدت میں موجود بیوی کیا شوہر کے ترکہ سے بطور وارث حصہ کی حقدار ہو گی؟
تنقیح: ایک ڈیڑھ سال سے شوہر دل کا مریض تھا، طلاق کے وقت چلتا پھرتا تھا۔ بیوی نے طلاق کا مطالبہ نہیں کیا تھا، تین مرتبہ ایک ہی مجلس میں کہا تھا کہ ” میں تمہیں طلاق دیتا ہوں” بیوی کو تین حیض آنے سے پہلے شوہر فوت ہوگیا۔
وضاحت مطلوب ہے: 1۔شوہر کتنا عرصہ بیمار رہا ؟2۔کیا موت سے پہلے اس بیماری میں شدت آئی تھی؟
جواب وضاحت:1۔ ایک سال سے زیادہ عرصہ بیمار رہا۔2۔ موت سے پہلے مرض میں اضافہ بھی نہیں ہوا اور بیماری ایک حالت پر ہی رہی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں بیوی شوہر کی وراثت کی حقدار نہیں ہوگی۔
توجیہ: مرض الموت وہ مرض ہے جس کی وجہ سے موت کا اندیشہ ہو اور اگر کسی مریض کا مرض ایک سال سے بڑھ جائے اور بعد میں اس بیماری میں شدت بھی نہ آئی ہو تو یہ مرض، مرض الموت نہیں کہلائے گا لہٰذا مذکورہ صورت میں شوہر ایک سال سے زائد عرصہ بیمار رہا اور مرض میں کوئی شدت بھی نہیں آئی تھی تو یہ تندرست آدمی کے حکم میں ہے اور تندرست آدمی اگر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدے اور عورت کی عدت گذرنے سے پہلے وفات پا جائے تو بیوی وراثت کی حقدار نہیں ہوتی۔
بدائع الصنائع (3/244) میں ہے:
والحاصل أن مرض الموت هو الذي يخاف منه الموت غالبا …….. وكذلك صاحب الفالج والسل والنقرس ونحوها إذا طال به ذلك فهو في حكم الصحيح؛ لأن ذلك إذا طال لا يخاف منه الموت غالبا فلم يكن مرض الموت إلا إذا تغير حاله من ذلك ومات من ذلك التغير فيكون حال التغير مرض الموت؛ لأنه إذا تغير يخشى منه الموت غالبا فيكون مرض الموت.
ردالمحتار (3/385) میں ہے:
قلت: فائدته أنه قد يطول سنة فأكثر كما يأتي فلا يسمى مرض الموت وإن اتصل به الموت
مجلۃ الاحکام العدلیہ (ص:314) میں ہے:
المادة (1595) مرض الموت هو المرض الذي يعجز المريض فيه عن رؤية مصالحه الخارجة عن داره إن كان من الذكور ويعجز عن رؤية المصالح الداخلة في داره إن كان من الإناث والذي يكون فيه خوف الموت في الأكثر ويموت وهو على ذلك الحال قبل مرور سنة سواء كان ملازما للفراش أو لم يكن وإذا امتد مرضه وكان دائما على حال واحد ومضى عليه سنة يكون في حكم الصحيح وتكون تصرفاته كتصرفات الصحيح ما لم يمتد مرضه ويتغير حاله أما إذا اشتد مرضه وتغير حاله وتوفي قبل مضي سنة فيعد مرضه اعتبارا من وقت التغيير إلى الوفاة مرض موت
ہندیہ (1/530) میں ہے:
وإن كان بائنا أو ثلاثا، فإن لم ترث بأن طلقها في حالة الصحة لا تنتقل عدتها، وإن ورثت بأن طلقها في حالة المرض ثم مات قبل أن تنقضي العدة فورثت.
بدائع الصنائع (3/218) میں ہے:
وإن كانت من طلاق بائن أو ثلاث فإن كان ذلك في حال الصحة فمات أحدهما لم يرثه صاحبه سواء كان الطلاق برضاها أو بغير رضاها، وإن كان في حال المرض فإن كان برضاها لا ترث بالإجماع، وإن كان بغير رضاها فإنها ترث من زوجها عندنا.
بدائع الصنائع (3/218) میں ہے:
وإن كان بائنا أو ثلاثا فإن لم ترث بأن طلقها في حالة الصحة لا تنتقل عدتها
حاشیہ ابن عابدین (3/386) میں ہے:
(قوله فلو أبانها) أي بواحدة أو أكثر ولم يقل أو طلقها رجعيا كما قال في الكنز لما قال في النهر وعندي أنه كان ينبغي حذف الرجعي من هذا الباب لأنها فيه ترث، ولو طلقها في الصحة ما بقيت العدة، بخلاف البائن فإنها لا ترثه إلا إذا كان في المرض. وقد أحسن القدوري في اقتصاره على البائن، ولم أر من نبه على هذا.
امداد الاحکام (4/656) میں ہے:
سوال: زید نے اپنی بیوی ہندہ کو بیماری میں طلاق دی اور اس بیماری میں نہیں مرابلکہ اچھا ہوگیا اور پھر بیمار ہوا اور مرگیا اور موت کے وقت زید کی بیوی ہندہ عدت میں ہے تو زید کے مال سے حصہ میراث پائے گی یا نہیں؟
جواب: اس صورت میں عورت کو میراث سے حصہ نہ ملے گا۔كما فى الدر المختار: فلو صح ثم مات فى عدتها لم ترث.
احسن الفتاویٰ (9/327) میں ہے:
سوال: مرض الموت کی جامع مانع تعریف مطلوب ہے، ضعیف آدمی جس کو کوئی مرض نہ ہو وہ مریض بمرض الموت سمجھا جائے گا یا نہیں؟ اگر سمجھا جائے گا تو کتنی عمر ہو جانے پر؟ نیز کینسر وغیرہ جیسی بیماریاں جو عموماً موت کا سبب سمجھی جاتی ہیں وہ مرض الموت میں داخل ہیں یا نہیں؟
جواب: مرض الموت ایسی حالت کو کہتے ہیں جس میں ہلاکت کا اندیشہ ہو اور اسی حالت میں مر بھی جائے خواہ اسی عارضہ سے مرا ہو یا کسی دوسری وجہ سے خواہ یہ حالت مرض کی وجہ سے ہو یا کسی اور وجہ سے مثلا کوئی شخص کشتی میں ڈوب رہا ہو اگر مرض کا مہلک ہونا معلوم نہ ہو تو اسے مرض الموت جب کہیں گے کہ اس میں اس قدر اضافہ ہوجائے کہ مریض گھر سے باہر کی ضروری مصالح سے عاجز ہوجائے مثلا عالم مسجد میں جانے اور تاجر تجارت سے عاجز ہوجائے اگر مرض کسی مرحلہ پر ٹھہر جائے یعنی اس میں اضافہ نہ ہورہا ہو اور اس ٹھہراؤ کے بعد ایک سال اسی حالت میں پورا ہوجائے تو یہ مرض الموت میں داخل نہیں پھر جب مرض بڑھ جائے اور اسی زیادتی کی حالت میں مر بھی جائے تو اس زیادتی کے وقت سے مرض الموت شمار نہ ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved