• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مسئلہ طلاق ثلاثہ

استفتاء

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

محمد********** ’’میں اپنی بیوی ********** کو طلاق ،طلاق،طلاق دیتا ہوں ‘‘ اس کا کیا حکم ہے؟نیز طلاق دینے والااگر نشہ میں ہو تو کیا حکم ہے؟

وضاحت مطلوب ہے:(1)کہ شوہر نے مذکورہ الفاظ زبان سے بولے ہیں یالکھ کردئیے ہیں؟(2)نشہ سے کونسا نشہ مراد ہے؟(3)طلاق دیتے وقت کس درجہ کا نشہ تھا؟(4)اگر کوئی خاص صورت درپیش ہے تو وہ تفصیل سے لکھیں۔

جواب وضاحت:(1)صرف لکھ کرواٹس ایپ پربھیجے ہیں جو کہ اوپر میسج موجود ہے۔(2)شراب کا نشہ مراد ہے۔

(3)شوہر مکمل ہوش میں تھا ۔(4)جوتفصیل تھی وہ لکھ کردی ہے ۔یہ میسج طلاق کی نیت سے لکھا تھا ۔باربار طلاق کا اصرار کرتی تھی تو میں نے لکھ دیا۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں تین طلاقیں ہوگئی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہوگئی ہے ،لہذا اب نہ صلح ہوسکتی ہے اورنہ رجوع کی گنجائش ہے

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved