- فتوی نمبر: 31-204
- تاریخ: 18 دسمبر 2025
- عنوانات: حظر و اباحت > مساجد و مدارس سے متعلق
استفتاء
مسجد میں افطار کرنا
سوال:مسجد میں افطار کرنا کیسا ہے؟ کیا اپنی افطاری مسجد لے جاکر کی جاسکتی ہے؟ مسجد میں آئی ہوئی افطاری غیر شرعی مسافر کھا سکتا ہے؟
جواب:۱،۲: مسجد میں اعتکاف کی نیت کے بغیر سحری یا افطاری کرنا مکروہ ہے،اگر بالفرض کبھی مسجد میں افطار وغیرہ کی ضرورت ہو تو کم سے کم نفلی اعتکاف کی نیت کرلیں تو کراہت نہیں رہے گی، باقی جہاں تک ممکن ہو مسجد کو کھانے پینے کی اشیاء سے گندہ ہونے سے بچانا ضروری ہے۔۳: اوپر ذکر کردہ تفصیل کے ساتھ جائز ہے بشرطیکہ افطاری بھیجنے والوں نے صرف مسافروں کی تخصیص نہ کردی ہو۔واللہ اعلم
فتویٰ نمبر: 143509200016 دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
آپ حضرات کی اس بارے میں کیا تحقیق ہے؟ اگر یہ فتویٰ درست ہے تو اس کی تصدیق فرمادیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
ہماری رائے میں بھی مذکورہ فتویٰ درست ہے جس کے مزید حوالہ جات مندرجہ ذیل ہیں۔
امداد الاحکام (1/453) میں ہے:
سوال :مسجد میں روزہ افطار کرنا اس خیال سے کہ اگر گھر افطار کر کے مسجد میں گئے تو جماعت کا کچھ حصہ نہیں ملے گا، افطار سے مطلب یہ ہے کہ افطار میں کھانا وغیرہ اچھی طرح سے کھا لیا جاوے ، ورنہ یہ ممکن ہے کہ اگر ایک گھونٹ پانی یا صرف چھوارا وغیرہ کھا کر چلے تو اول رکعت میں بخوبی شامل ہو سکتا ہے، اور مسجد والوں سے یہ دشوار ہو کہ وہ اذان وتکبیر میں اس قدر وقفہ کریں کہ گھر کے افطار کرنے والے جماعت کی اول رکعت میں شامل ہو جائیں ، تو ایسی صورت میں مسجد میں افطار کا کیا حکم ہے ؟
الجواب :ایسی حالت میں افطار مسجد میں کیا جاوے ، مگر مسجد کی حد کے اندر نہ کھائیں بلکہ باہر کھائیں ، اور باہر کوئی جگہ مناسب نہ ہو تو مسجد ہی میں کھالیں اور کھانے سے کچھ دیر پہلے اعتکاف کی نیت کر کے مسجد میں آجایا کریں، امام محمد ؒکے نزدیک اعتکاف قدر قلیل زمان کا بھی صحیح ہے ، قال في الدر وكره اكل ونوم الا لمعتكف الخ قال الشامي قوله اكل ونوم الخ اذا أراد ذلك ينبغي أن ينوى الاعتكاف فيدخل ويذكر الله تعالى بقدر ما نوى او يصلى ثم يفعل ما شاء
احسن الفتاویٰ (6/457) میں ہے:
سوال : رمضان میں روزہ داروں کو مسجد میں بیٹھ کر افطار کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
جواب؛آجکل جس طرح مساجد کے اندر افطار کرنے کا دستور ہے اس میں مسجد کی تلویث اور بے حرمتی ہوتی ہے لہذا یہ جائز نہیں ، مسجد کی منتظمہ پر ضروری ہے کہ اذان کے بعد اتنا وقفہ دے کہ محلہ کے نمازی گھروں میں اطمینان سے افطار کر کے مسجد میں پہنچ سکیں۔
خیر الفتاوی(2/768) میں ہے:
سوال: سنا ہے کہ مسجد میں کھانا نہیں چاہیے لیکن رمضان المبارک میں افطار وغیرہ وہیں کرتے ہیں۔ کیا یہ جائز ہے یا نہیں ؟
جواب:بہتر تو یہی ہےکہ مسجد کے متصل کوئی جگہ بنالیں جس میں افطار وغیرہ کرلیا کریں ار مسجد میں نہ کریں۔ لیکن اگر کوئی ایسی مناسب جگہ نہ ملے تو مسجد میں بھی گنجائش ہے۔ مگر دو باتوں کا ضرور خیال رکھیں ۔ایک یہ کہ مسجد میں کھانے کے ریزے وغیرہ نہ گریں اور مسجدملوث نہ ہو ۔ اور دوسری یہ کہ مسجد میں داخل ہوتے وقت اعتکاف کی نیت کر لیا کریں۔
واعلم انه كما لا يكره الأكل ونحوه فى الاعتكاف الواجب فكذلك في التطوع كما في كراهية جامع الفتاوى ونصه يكره النوم والاكل فى المسجد لغير المعتكف واذا اراد ذلك ينبغي ان ينوى الاعتكاف فيدخل فيذكر الله تعالى بقدر ما نوى او يصلى ثم يفعل ما يشاء
فتاویٰ محمودیہ (15/207) میں ہے:
سوال: مسجد میں روزہ افطار کرنا ایسےہی سحری کھانا کیسا ہے؟ اگر مکان پر افطاری کرتا ہے۔تو جماعت فوت ہو جاتی ہے، لہذا کیا کرے؟
الجواب حامداً ومصلياً :بہتر یہ ہے کہ ایسی صورت میں اعتکاف کی نیت کرلے۔ مسجد میں افطار کرنا یا سحری کھانا درست ہے، لیکن جہاں تک ممکن ہو مسجد کو ملوث نہ کیا جائے ، یا جو جگہ قریب مسجد ہو وہاں کھایا پیا جاوے تو بہتر ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved