• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مسجد قباء میں نماز کا ثواب

استفتاء

1۔مسجد قبا میں کونسی نماز(فرض یا نفل) پڑھیں اور کتنی رکعتیں پڑھیں تو عمرہ کا ثواب ملتا ہے؟

2۔دوسرے عمرے کے ثواب کے لیے کچھ دیر کے لئے مسجد سے باہر آئیں گے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔دو رکعت فرض یا نفل پڑھنے سے مذکورہ  ثواب مل جائے گا۔

2۔ دوسرے عمرے کے ثواب کے لیے مسجد سے باہر آنا ضروری  نہیں۔

سنن ترمذی (2/145) میں ہے:

عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: الصلاة فى مسجد قباء كعمرة.

فیض القدیر (2/244) میں ہے:

(الصلاة) أل فيه للجنس ‌فيشمل ‌الفرض ‌والنفل أو للعهد فيختص بالفرض (في مسجد قباء) هو من عوالي المدينة ….. (كعمرة)

اس حوالہ میں الف لام  کو جنس کے  لیے لینے کی صورت میں تقاضہ یہ ہے کہ ہر دفعہ عمرہ کا ثواب  حاصل کرنے کے لیے مسجد سے باہر جانا ضروری نہیں کیونکہ جنس نماز مراد لینے کی  صورت میں مطلق نماز  پر ثواب مرتب ہوگا، چاہے مسجد سے باہر جاکر پھر نماز پڑھی جائے یا مسجد میں رہ کر پھر نماز پڑھی جائے جیسے بظاہر الف لام کو عہد کے لیے لینے کی صورت میں ہر فرض نماز پر ثواب مرتب ہوگا چاہے دوسرے فرض سے پہلے  مسجد سے باہر نہ بھی گئے ہوں۔

مرقاۃ المفاتیح (2/590) میں ہے:

وفي رواية: «‌من ‌توضأ ‌فأسبغ الوضوء وجاء مسجد قباء فصلى فيه ركعتين كان له أجر عمرة» ، وفي أخرى صحيحة أيضا: «من توضأ فأحسن وضوءه ثم دخل مسجد قباء فركع فيه أربع ركعات كان ذلك عدل عمرة» ، ويجمع بأنه يحتمل أن ثواب العمرة رتب أولا على أربع ركعات، ثم سهل الله على عباده وتفضل عليهم، فرتبه على ركعتين.

تخريج احاديث احياء علوم الدين (2 /667) ميں ہے:

رُوي أن رسول الله  صلّى الله عليه وسلم  قال من ‌خرج ‌من ‌بيته حتى يأتي مسجد قباء ويصلي فيه كان عدل عمرة.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved