- فتوی نمبر: 34-113
- تاریخ: 06 دسمبر 2025
- عنوانات: مالی معاملات > اجارہ و کرایہ داری > الاجیر الخاص
استفتاء
1۔مسجد یا مدرسے کا سفیر مقرر کرکے اس کی تنخواہ مقرر کرنا کیسا ہے؟
2۔اگر جائز ہے توکتنی تنخواہ جائز ہے؟ مثلاً جتنا چندہ کرکے آئے اس میں سے چوتھائی یا تہائی یا نصف یا پھر ماہانہ فکس کرکے تنخواہ دینا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1،2) مسجد یا مدرسے کے سفیر کی تنخواہ مقرر کرنا جائز ہے باقی رہی یہ بات کہ کتنی تنخواہ جائز ہے؟تو اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر ماہانہ فکس تنخواہ دی جائے تو اس میں کوئی لگی بندھی حد مقرر نہیں،جانبین کے حالات کو مدنظر رکھ کر اس کی مقدار مقرر کی جا سکتی ہے۔ تاہم اس میں عرفاً اس جیسے سفیر کو جو ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہو اس سے تجاوز نہ کیا جائے کیونکہ یہ معاملہ ذاتی نہیں بلکہ وقف کا ہے اور وقف میں عرفی اجرت کی پابندی ضروری ہے[1]۔
اور اگر تنخواہ حاصل کردہ چندہ میں سے مقرر کی جائے تو اس کا ضابطہ یہ ہے کہ حاصل کردہ چندہ میں سے نصف سے زیادہ نہ ہو نصف اور نصف سے کم کم ہو سکتی ہے اور اس میں بھی اس جیسے سفیر کو نصف یا نصف سے کم کم عرفاً کتنی تنخواہ دی جاتی ہے اس کا لحاظ کرنا ضروری ہے۔
تنبیہ: مذکورہ تنخواہ زکوۃ اور صدقاتِ واجبہ میں سے نہ دی جائے بلکہ دیگر انواع کے چندہ میں سے دی جائے۔تاہم اگر زکوۃ اور صدقات واجبہ میں سے تنخواہ دینے کی مجبوری ہو تو زکوۃ اور صدقات واجبہ کی تملیک شخصی ضروری ہے اس کے بغیر زکوۃ اور صدقات واجبہ میں سے تنخواہ دینا جائز نہیں۔
نوٹ: سفیر کی تنخواہ اگر وقت (مثلاً ماہانہ یا یومیہ) مقرر کر کے دی جائے تو اس کے جواز میں کوئی علمی اشکال نہیں(دیکھئے حوالہ نمبر: 1)
لیکن اگر چندہ کرنے کے عمل پر تنخواہ دی جائے یا حاصل کردہ چندہ کا کوئی فیصدی تناسب مقرر کر کے تنخواہ دی جائے تو اس کے جواز پر چند علمی اشکالات ہیں جو متعدد اہل علم نے ذکر کیے ہیں۔ذیل میں ان اشکالات اور ان کے جوابات کا ذکر کیا جاتا ہے تاکہ ہمارا جواب کسی کے لیے علمی اشکال کا سبب نہ بنے۔
(۱)پہلا اشکال یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں اجیر کو جس کام کے لیے اجارے پر لیا گیا ہے وہ اس کی قدرت کے تحت داخل نہیں ہے کیونکہ کوئی شخص اس سفیر کو چندہ دے یا نہ دے یہ سفیر کے بس کی بات نہیں بلکہ چندہ دینے والے کی مرضی پر موقوف ہے جبکہ کسی شخص کے ساتھ عمل کےاجارہ کے جائز ہونے کے لیے ایک شرط یہ ہے کہ وہ عمل اجیر کے لیے مقدور القدرت ہو ۔(دیکھئے حوالہ نمبر: 2،3)
(۲) دوسرا اشکال یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں اجرت کی مقدار میں جہالت ہے وہ اس طرح کہ عقد کے وقت اجرت متعین نہیں کہ کتنی ہوگی جبکہ اجارہ کے جائز ہونے کے لیے اجرت کا عقد کے وقت متعین ہونا ضروری ہے۔ (دیکھئے حوالہ نمبر: 4،5،6،7)
(۳) تیسرا اشکال یہ ہے کہ مذکورہ صورت قفیز طحان کے تحت داخل ہے جبکہ قفیز طحان سے شریعت میں نہی وارد ہوئی ہے لہذا جو صورت قفیز طحان کے تحت داخل ہوگی وہ بھی منہی عنہ ہوگی اور مذکورہ صورت قفیز طحان کے تحت اس طرح داخل ہے کہ قفیز طحان میں بھی اجرت ایسی چیز کو مقرر کیا جاتا ہے جو اجیر کے عمل سے حاصل ہوتی ہے اور مذکورہ صورت میں بھی اجرت ایسی چیز کو بنایا جارہا ہے جو اجیر کے عمل سے حاصل ہوتی ہے ۔(دیکھئے حوالہ نمبر:3،5،8 )
(۴) چوتھا اشکال یہ ہے کہ اجرت میں غرر کا احتمال ہے وہ اس طرح کہ ہو سکتا ہے کہ کچھ بھی چندہ جمع نہ ہو سکے اور سفیر کو کوئی اجرت نہ مل سکےاور اس کا عمل ضائع جائے اور شریعت میں غرر سے بھی منع کیا گیا ہے(دیکھیے حوالہ نمبر 9)۔
ان تمام اشکالات کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ بالا خرابیوں کے باوجود عرف کی وجہ سے متعدد ایسی صورتوں کو عربی، اردو فتاوی میں جائز کہا گیا ہے جن میں ان میں سے کوئی ایک یا ایک سے زائد خرابیاں موجود ہیں اور چونکہ مذکورہ صورت کا بھی عرف ہے اس لیے مذکورہ صورت بھی جائز ہوگی ۔
چنانچہ ان خرابیوں کا تحمل جن جن جگہوں میں کیا گیا ہے ان کوترتیب وار ذکر کیا جاتا ہے:
(1) پہلی خرابی کا جہاں تحمل کیا گیا ہے ان میں سے ایک دلال کی اجرت کا مسئلہ ہے چنانچہ اصل مذہب میں اس کو ناجائز کہا گیا ہے اور ناجائز ہونے کی وجوہات میں عمل کے اجیر کے مقدور القدرۃ نہ ہونے کو بھی ذکر کیا گیا ہے لیکن اس کا عرف کی وجہ سے تحمل کیا گیا ہے ۔(دیکھئے حوالہ نمبر:10 )
(2)دوسری بات یعنی اجرت میں جہالت کا جواب یہ ہے کہ یہاں اجرت بالکل مجہول نہیں ہے بلکہ ایک فارمولے کے ساتھ منسلک ہے اور اس میں نزاع کا احتمال بھی نہیں جبکہ یہ بات مسلم ہے کہ جہالت بذات خود مفسد عقد نہیں ہوتی بلکہ مفضی الی النزاع ہونے کہ وجہ سے مفسد ہوتی ہے۔لہذا جب یہاں اجرت کا ایک فارمولہ بھی متعین ہے اور نزاع کا احتمال بھی نہیں تو یہ جہالت بھی مضر نہ ہوگی چنانچہ یہ وجہ دلال ،کھیتی کاٹنے والے کی اجرت کھیتی میں سے دینا ،اور روٹی پکانے کی اجرت میں روٹی دینے کی صورت میں بھی پائی جاتی ہے مگر ان صورتوں کو جائز قرار دیا گیا ہے۔(دیکھئے حوالہ نمبر: 10،11،12،13،14)
(3)تیسری بات کا جواب یہ ہے کہ عرفا اس طرح کی صورتوں میں یہ مقصود نہیں ہوتا کہ اجیر کو لازما اجرت اسی چیز میں سے دی جائے گی جو اس کے اجر سے حاصل ہوگی بلکہ اجرت کو اس چیز کے ساتھ منسلک کرناصرف مقدار کی تعیین کے لیے ہوتا ہے لہذا اجیر کی جتنی اجرت بنتی ہے وہ مثلا پہلے سے جمع شدہ چندہ میں سے بھی دے دی جائے تو اجیر انکار نہیں کرتا لہذا یہ صورت اصلا قفیز طحان کی نہیں بنتی ،چنانچہ اس بنا پر اردو فتاوی میں کھیتی کاٹنے والے کی اجرت کھیتی میں سے دینا ،اور روٹی پکانے کی اجرت میں روٹی دینے کی صورت کو اسی بنا پر جائز قرار دیا گیا ہے ۔(ديكهيے حوالہ نمبر: 13،14)نیز اگر اس کو قفیز طحان کی صورت بھی مان لیں تب بھی بعض فقہاء حنفیہ کے نزدیک قفیز طحان کی منصوص صورت کے علاوہ باقی صورتوں میں اگر عرف ہوجائے تو وہ اسے جائز قرار دیتے ہیں لہذا قفیز طحان کی صورت ماننے کے باوجود عرف کی وجہ اس صورت کی گنجائش ہوگی۔(دیکھئے حوالہ نمبر:15)
(4) اجارہ کی جن صورتوں میں غرر کا تحمل کیا گیا ہے ان میں دلال اور سمسار کی اجرت کا مسئلہ بھی ہے کہ وہاں بھی احتمال ہوتا ہے کہ دلال کی کوشش کے باوجود سودا نہ ہوسکے اور دلال کا عمل ضائع چلا جائے ،لیکن اس کے باوجود عرف کی بنا پر اس کا تحمل کیا گیا ہے ۔(دیکھئے حوالہ نمبر: 10)
1۔ احسن الفتاوی (6/468) میں ہے:
ہاں اگر مطلقا اس کی تنخواہ مقرر کی جائے خواہ چندہ وصول ہو یا نہ ہواور قلیل ہویا کثیر تو یہ صورت جائز ہے ۔
2۔ المبسوط للسرخسی (15/ 115) میں ہے:
«وإذا دفع الرجل إلى سمسار ألف درهم وقال اشتر بها زطيا لي بأجر عشرة دراهم فهذا فاسد؛ لأنه استأجره لعمل مجهول فالشراء قد يتم بكلمة واحدة وقد لا يتم بعشر كلمات، ثم استأجره على عمل لا يقدر على إقامته بنفسه فإن الشراء لا يتم ما لم يساعده البائع على البيع»
3۔ احسن الفتاویٰ(7/276)میں ہے:
سوال:بعض مدارس میں سفراء حصہ پر کام کرتے ہیں،یعنی وصول شدہ رقم سے تیسرا یا چوتھا حصہ خود لیتے ہیں،باقی رقم مدرسہ میں جمع کرواتے ہیں،آیا یہ طریقہ صحیح ہے یا نہیں؟
جواب:یہ معاملہ دو وجہ سے جائز نہیں:
(۱)اجرت من العمل ہے جو ناجائز ہے۔
(۲)اجیر اس عمل پر بنفسہ قادر نہیں،قادر بقدرۃ الغیر ہے،اس کا عمل چندہ دینے والوں کے عمل پر موقوف ہے اور قادر بقدرۃ الغیر بحکم عاجز ہوتا ہے،جبکہ صحتِ اجارہ کے لئے قدرت بنفسہ شرط ہے،چنانچہ قفیزِطحان کے فساد کی علت بھی یہی ہے کہ مستأجر قادر علی الاجرۃ بقدرۃالعامل ہے،بنفسہ قادر نہیں۔
4۔ المحيط البرہانی (7/ 395) میں ہے:
«وأما بيان شرائطها فنقول يجب أن تكون الأجرة معلومة»
5۔فتاویٰ محمودیہ(16/629)میں ہے:
سوال:ہمارے یہاں مدرسہ کا چندہ ہوتا ہے،اس میں سفراء کمیشن بھی لیتے ہیں۔یہ کہاں تک درست ہے،اور جائز ہے یا نہیں؟
جواب:اس طرح معاملہ کرنا کہ جس قدر چندہ لاؤ گے اس میں سے نصف یا ثلث وغیرہ تم کو ملے گا،شرعاً درست نہیں،اس میں اجرت مجہول ہے۔نیز اجرت ایسی چیز کو قرار دیا گیا ہے جو عملِ اجیر سے حاصل ہونے والی ہے کہ یہ دونوں چیزیں شرعاً مفسدِاجارہ ہیں۔
6۔فتاوی حقانیہ (6/253) میں ہے:
سوال : بعض دینی مدارس کے مہتممین حضرات کسی شخص کو چندہ کے لیے بھیج دیتے ہیں جبکہ ان کے درمیان یہ طے ہوتا ہے کہ جمع ہونے والے چندہ میں سے تیسرا حصہ اس سفیر کو ملے گا ،کیا ایسا کرنا شرعا جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب عقد اجارہ میں یہ ضروری ہے کہ اجرت متعین ہو ،چونکہ صورت مسئولہ کے عقد اجارہ میں اجرت متعین نہیں اس لیے یہ عقد فاسد ہے ۔
7۔ فتاوی مفتی محمود (9/359) میں ہے:
اجرت غیر معین ہونے کی وجہ سے یہ اجارہ فاسدہ ہے ۔
8۔ شامی (6/ 56) میں ہے:
«(ولو) (دفع غزلا لآخر لينسجه له بنصفه) أي بنصف الغزل (أو استأجر بغلا ليحمل طعامه ببعضه أو ثورا ليطحن بره ببعض دقيقه) فسدت في الكل؛ لأنه استأجره بجزء من عمله، والأصل في ذلك نهيه – صلى الله عليه وسلم – عن قفيز الطحان
9۔ تبیین الحقائق (4/ 46) میں ہے:
ولأن فيه غررا وقد «نهى عليه السلام عن بيع الغرر» على ما بينا والغرر ما يكون مجهول العاقبة لا يدري أيكون أم لا
10۔شامی (6/63) میں ہے:
وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة
11۔شامی (6/53) میں ہے:
ووجهه أن العادة لما جرت بالتوسعة على الظئر شفقة على الولد لم تكن الجهالة مفضية إلى النزاع، والجهالة ليست بمانعة لذاتها بل لكونها مفضية إلى النزاع
12۔درر الحکام فی شرح غرر الحکام (2/155) میں ہے:
والجهالة إنما توجب الفساد إذا كانت مفضية إلى النزاع
13۔امداد الفتاوی جدید (7/300)
سوال : کھیتی کٹوانے میں آج کل یہی عرف ہے کہ کاٹنے والے کو اسی کھیت کٹے ہوئےسے کچھ دے دیتے ہیں ۔۔۔۔
الجواب : جہالت کی نسبت کی تو یہ توجیہ ہو سکتی ہے کہ مجہول محض نہیں ہوتا ایک انداز ہوتا ہے اور جہالت یسیرہ کو فقہاء نے مواضع کثیرہ میں عفو کیا ہے اور قفیز طحان کے شبہ کی یہ توجیہ ہوسکتی ہے بلکہ واقع بھی ہے کہ خواہ عملا اسی محصود میں سے دے دیتے ہوں ،مگر اس کی شرط نہیں ہوتی حتی کہ اگر یوم سابق کے محصود میں سے اسی انداز سے دینے لگے کوئی انکار نہیں کرتا اس لیے میں اس عمل کو جائز سمجھتا ہوں ۔
14۔احسن الفتاوی (7/212) میں ہے:
سوال : پنجاب میں یہ رواج ہے کہ دانے بھنوانے کے لیے دیتے ہیں تو بھٹی والا اجرت میں ان میں سے کچھ دانے ہی بھوننے کی اجرت میں رکھ لیتا ہے ،نیز روٹیاں تندور پر لگوانے جائیں تو بجائے پیسے دینے کے ایک آدھ آٹے کا پیڑہ یا کچھ آٹا کچا ہی رکھ لیتا ہے تو کیا یہ صورت جائز ہے ؟ اگر جائز نہ ہو تو اس گناہ سے کیسے بچا جائے ؟
الجواب : یہ معاملہ جائز ہے ۔بظاہر اس میں دو اشکال ہیں (1) اجرت عمل سے ہے (2) اجرت مجہول ہے ۔
اشکال اول کا جواب یہ ہے کہ دانے کچے لینے میں اور آٹا لینے میں تو اجرت عمل سے نہیں ہاں روٹی اور بھنے ہوئے دانے لینے میں اجرت عمل سے ہے مگر چونکہ یہ شرط نہیں کہ اجرت انہی سے ہوگی ،اگر ان کی بجائے دوسرے دانے اور آٹا دے دے تو بھی کوئی اعتراض نہیں ہوتا ، اجرت من العمل اس وقت ناجائز ہے جبکہ وہ مشروط ہو ،یہاں مشروط نہیں اس لیے جائز ہے ۔
دوسرے اشکال کا جواب یہ ہے کہ جہالت اجرت جب مفضی الی النزاع نہ ہو تو مفسد اجارہ نہیں ۔
15۔ شامی (6/ 58) میں ہے:
«(قوله كما زعمه مشايخ بلخ) قال في التبيين: ومشايخ بلخ والنسفي يجيزون حمل الطعام ببعض المحمول ونسج الثوب ببعض المنسوج لتعامل أهل بلادهم بذلك، ومن لم يجوزه قاسه على قفيز الطحان. والقياس يترك بالتعارف. ولئن قلنا: إنه ليس بطريق القياس بل النص يتناوله دلالة فالنص يخص بالتعارف ألا ترى أن الاستصناع ترك القياس فيه، وخص من القواعد الشرعية بالتعامل، ومشايخنا رحمهم الله -لم يجوزوا هذا التخصيص؛ لأن ذلك تعامل أهل بلدة واحدة وبه لا يخص الأثر، بخلاف الاستصناع فإن التعامل به جرى في كل البلاد، وبمثله يترك القياس ويخص الأثر اهـ.وفي العناية: فإن قيل لا نتركه بل يخص عن الدلالة بعض ما في معنى قفيز الطحان بالعرف كما فعل بعض مشايخ بلخ في الثياب لجريان عرفهم بذلك.
قلت: الدلالة لا عموم لها حتى تخص اهـ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
[1] البحر الرائق (7/ 168)میں ہے :
وفي منية المفتي أقسام المتصرفين تصرف الأب والجد والوصي ومتولي الوقف لا يجوز إلا بمعروف أو بغبن يسير
البحر ارائق (8/ 4)میں ہے :
وإجارة الوقف ومال اليتيم لا يجوز إلا بأجر المثل
شامی (4/ 435)میں ہے :
ليس للقاضي أن يقرر وظيفة في الوقف بغير شرط الواقف، ولا يحل للمقرر الأخذ إلا النظر على الواقف بأجر مثله
(قوله: بأجر مثله) وعبر بعضهم بالعشر والصواب أن المراد من العشر أجر المثل حتى لو زاد على أجر مثله رد الزائد كما هو مقرر معلوم، ويؤيده أن صاحب الولوالجية بعد أن قال: جعل القاضي للقيم عشر غلة الوقف فهو أجر مثله، ثم رأيت في إجابة السائل، ومعنى قول القاضي للقيم عشر غلة الوقف أي التي هي أجر مثله لا ما توهمه أرباب الأغراض الفاسدة إلخ بيري على الأشباه من القضاء.
© Copyright 2024, All Rights Reserved