• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

میت کے غسل کا پانی استعمال شدہ مسواکوں سے گرم کرنا

استفتاء

اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں یہ وصیت کر جائے کہ جب میری وفات ہو تو میرے غسل کیلئے جو  پانی گرم کیا جائے وہ میری استعمال شدہ مسواکیں جلا کر کیا جائے (جو کہ وصیت کرنے والا اسی نیت سے اپنی استعمال شدہ مسواکیں جمع کرتا تھا، اور بہت حد تک استعمال شدہ مسواکیں جمع ہو چکی تھیں) تو اس طرح میت کیلئے مسواکیں جلا کر غسل کیلئے پانی گرم کرنا شرعا کیسا ہے؟  تفصیلی و تحقیقی جواب عنایت فرمائیں ۔

نوٹ : ایک محدث گزرے ہیں جن کا نام ذہن سے اتر گیا۔ وہ حدیثیں لکھا کرتے تھے وہ  جو قلم حدیث لکھنے  کے لیے استعمال ہوئے تھے ان کے زوائد یا چھلکے وغیرہ جمع کیا کرتے تھے تو آخری وقت وصیت کی کہ میرے غسل کیلئے پانی ان زوائد وغیرہ سے گرم کیا جائے ۔ اسی واقعہ پر قیاس کرتے ہوئے اگر مسواکوں کے ساتھ بھی ایسا کیا جائے تو شرعا اس کا کیا حکم ہو گا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

جائز ہے۔

توجیہ:مسواک ایک قابلِ تعظیم چیز ہے اور مسواک کے آداب میں سے ہے کہ جب وہ استعمال کے قابل نہ رہے تو اس کو مٹی میں دبادیا جائے یا کسی صاف جگہ میں ڈال دیا جائے اور  اس کی بے حرمتی خلافِ ادب ہے ،مذکورہ صورت میں میت کے غسل کاپانی گرم کرنے کے لیےمسواک کو جلانا کوئی بے ادبی کی بات نہیں بالخصوص جبکہ ایسا بطورِ تبرک کے کیا جائے ، لہٰذا مسواکیں جلا کر میت کے غسل کا پانی گرم  کرنا اور  اس کی وصیت کرنا جائز ہے۔

در مختار  (1/355)میں ہے:

ولا ترمى ‌براية ‌القلم المستعمل لاحترامه، كحشيش المسجد وكناسته لا يلقى في موضع يخل بالتعظيم.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved