• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

مزارع کے ذمے عشر

استفتاء

غور طلب مسئلہ یہ ہے کہ ایک زمین میں رب الارض اور مزارع شریک تھے، ایک خاص مقدار پر یہ دونوں شریک تھے، فصل

کی کٹائی کے موقع پر رب الارض اپنا حصہ لے گیا، اور فصل کا کچھ حصہ ٹیوب ویل والا جو ان کو پانی دیتا تھا، وہ لے گیا، اب شریعت کی روشنی میں بتانا یہ ہے کہ مزارع جو عشر نکالے گا، آیا وہ فصل کی تمام مقدار سے نکالے گا یا اپنی مطلوبہ حاصل شدہ فصل سے نکالے گا؟ اور جب کہ فصل کی تقسیم ہو چکی ہے، اور اب صرف مزارع کے پاس جو گندم باقی ہے وہ صرف اس کا اپنا حصہ باقی ہے، باقی گندم تقسیم ہو چکی ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اگر زمین دوسرے شخص کو مزارعت پر دی ہے، کہ پیداوار میں ایک معین حصہ مالک زمین کا اور دوسرا معین حصہ کاشتکار کا مثلاً دونوں نصفا نصف ہو، یا ایک تہائی ہو، اس صورت میں عشر دونوں پر اپنے اپنے حصہ پیداوار کے مطابق ہو گا۔ (جواہر الفقہ: 3/ 367)

و في المزارعة علی قولهما العشر عليها[1] بالحصة و علی قوله علی رب الأرض لكن يجب في حصته في عينه. (هندية: ۱/ ۱۸۷) فقط و الله تعالی أعلم

[1] ۔ و الصحيح عليهما كما في البحر: ۲/ ٤۱۲

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved