• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

میقات سے بغیر احرام کے گذرنا

استفتاء

پاکستان سے چند افراد عمرہ کرنے کے ارادہ سے روانہ ہوئے۔ لاہور ایئرپورٹ سے احرام کی تیاری تو کی، لیکن نیت نہیں کی اور نہ ہی تلبیہ کہا۔ ارادہ یہ کیا کہ جب میقات آئے گا تب نیت کر کے تلبیہ پڑھ کر احرام باندھ لیں گے۔ لیکن اس دوران نیند آ گئی، حتیٰ کہ بغیر احرام کے مکہ مکرمہ میں داخل ہو گئے۔ اب ان کے لیے کیا حکم ہے؟ کیا یہ حضرات مکہ مکرمہ میں سے احرام باندھ کر عمرہ کریں گے؟ اگر ان پر دم پڑے گا تو وہ عمرہ کرنے سے پہلے دینا ہو گا یا عمرہ کرنے کے بعد بھی دے سکتے ہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت حال میں ان لوگوں کے لیے حکم یہ ہے کہ جس میقات سے یہ لوگ بغیر احرام کے گذرنے ہیں، اسی میقات پر واپس آئیں یا کم از کم کسی بھی میقات پر واپس آئیں اور میقات سے احرام باندھ کر میقات سے گذریں اس صورت  میں ان پر دم نہیں آئے گا۔

اور اگر یہ لوگ میقات پر نہیں آتے بلکہ مکہ مکرمہ میں کسی ایسی جگہ سے عمرہ کا احرام باندھتے ہیں جو حدود حرم سے باہر ہے مثلاً مسجد عائشہ یا جعرانہ سے عمرہ کا احرام باندھ کرعمرہ کر لیتے ہیں تو اس صورت میں بغیر احرام کے میقات سے گذرنے کا ان پر دم  آئے گا۔

دم خواہ عمرہ کرنے سے پہلے دیں یا بعد میں دیں، دونوں طرح درست ہے۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ جتنی جلدی ہو سکے اتنی جلدی دم دیدیں۔ اور یہ دم حدود حرم میں دیا جائے گا، کسی اور جگہ دینا معتبر نہ ہو گا۔

نوٹ: مکہ مکرمہ کی کسی ایسی جگہ سے عمرے کا احرام باندھنا درست نہیں جو کہ حدود حرم کے اندر ہو۔

في مناسك ملا علي القاري (85- 84):

(من جاوز وقته) أي ميقاته الذي وصل إليه سواء كان ميقاته الموضع المعين له شرعاً أم لا (غير محرم) بالنصب على الحال (ثم أحرم) أي بعد المجاوزة (أو لا) أي لم يحرم بعدها (فعليه العود) أي فيجب عليه الرجوع (إلى وقت) أي إلى ميقات من المواقيت، و لو كان أقربها إلى مكة، و لم يتعين عليه العود إلى خصوص ميقاته الذي تجاوز عنه بلا إحرام …. (و إن لم يعد) أي مطلقاً (فعليه دم) أي لمجاوزة الوقت.

و في الدر المختار (3/552-551):

(و حرم تأخير الإحرام عنها) كلها (لمن) أي لآفاقي (قصد دخول مكة) يعني الحرم (و لو لحاجة) غير الحج. و في الشامية تحت قوله (حرم … الخ) فعليه العود إلى ميقات منها  و إن لم يكن ميقاته ليحرم منه و إلا فعليه دم.

و في الدر المختار (3/ 706-705):

(آفاقي) مسلم بالغ (يريد الحج أو العمرة و جاوز وقته ثم أحرم لزمه دم … فإن عاد) إلى ميقات مّا، (ثم أحرم أو) عاد إليه حال كونه (محرما لم يشرع في نسك و لبى سقط دمه). و في الشامية تحت قوله (إلى ميقات ما) فالمراد أي ميقات كان، سواء كان ميقاته الذي جاوزه غير محرم أو غيره أقرب أو أبعد لأنها كلها في حق المحرم سواء. و الأولى أن يحرم من وقته، بحر عن المحيط.

و في غنية الناسك (62):

ولا فرق في لزوم دم المجاوزة بين من جاوز عامداً أو ناسياً أو مكرهاً أو غير ذلك.

و في مناسك ملا علي القاري (299):

(ثم لا فرق في وجوب الجزاء فيما إذ جنى عامداً أو خاطئاً … ذاكراً أو ناسياً عالماً أو جاهلاً …. نائماً أو منتبهاً)

و في غنية الناسك (241):

و الكفارات كلها واجبة على التراخي فلا يأثم بالتأخير عن أول وقت الإمكان و يكون مؤديا لا قاضياً في وقت أدى و إنما يتضيق عليه الوجوب في آخر عمره في وقت يغلب على ظنه أنه لو لم يؤد لفات فإن لم يؤده فمات أثم.

و في مناسك ملا علي القاري (396):

(و الثالث ذبحه في الحرم) بالاتفاق سواء وجب شكراً أو جبراً.

و في غنية الناسك (58):

و أما ميقات أهل الحرم. و المراد به كل من كان داخل الحرم، سواء كان أهله أو لا، مقيماً به أو مسافراً. فالحرم للحج فيحرمون من دورهم و من المسجد أفضل …. و الحل للعمرة، و الأفضل إحرامها من التنعيم من معتمر عائشة رضي الله عنها.

و في رد المحتار (3/ 554):

فلو عكس (يعني من بداخل الحرم. از ناقل) فأحرم للحج من الحل أو للعمرة من الحرم لزمه دم إلا إذا أعاد ملبياً إلى الميقات المشروع له…….. فقط و الله تعالى أعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved