- فتوی نمبر: 31-331
- تاریخ: 07 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارا ایک مسئلہ کورٹ میں چل رہا ہے بہن اپنے بھائی سے والد کی وراثت میں سے حصہ مانگ رہی تھی تو جج نے سفارش کی بناء پر بہن کو حصہ نہیں دیا، ہم شریعت کے مطابق فتویٰ لینا چاہتے ہیں کہ کیا والد کی وراثت میں سے بھائی سے حصہ لے سکتی ہے؟
تنقیح: مرحوم کے ورثاء میں ایک بیٹا اور سات بیٹیاں ہیں، مرحوم کی بیوی اور مرحوم کے والدین ان کی زندگی میں ہی فوت ہو گئے تھے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں مرحوم کے کل ترکے کے9حصے کیے جائیں گےجن میں سے مرحوم کے بیٹے کو 2حصے (22.22%) اورہر ایک بیٹی کو1 حصہ (11.11%) ملے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved