- فتوی نمبر: 31-300
- تاریخ: 05 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
ایک عورت کا انتقال ہوا ہے اس کا شوہر بیس سال پہلے ہی انتقال کر چکا ہے اس کا کوئی بچہ بھی نہیں ہے شوہر کے انتقال کے بعد اس نے اپنے کزن کی ایک شیر خوار بچی اپنے پاس رکھ لی اس کی عمر اس وقت چودہ برس ہے۔مرحومہ کی ایک بہن حیات ہے جب کہ دو بہنیں اور ایک بھائی فوت ہو چکے ہیں اس کے علاوہ دس بھانجے اور دس بھانجیاں اور تین بھتیجیاں اس وقت موجود ہیں۔مرحومہ کی وراثت کی تقسیم کا کیا طریقہ کار ہوگا ؟
وضاحت مطلوب ہے کہ: (1)مرحومہ کے والدین حیات ہیں یا فوت ہو چکے ہیں ؟(2) مرحومہ کے چچا یا چچاؤں کی اولاد میں سے کوئی زندہ ہے؟
جواب وضاحت : (1-2) کوئی زندہ نہیں ہے سب مرحومہ سے پہلے فوت ہوگئے ہیں
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں مرحومہ کی ساری میراث بہن کو ملے گی۔
توجیہ: مرحومہ کی نصف میراث بہن کو ذوی الفروض میں سے ہونے کی وجہ سے ملے گی اور چونکہ مرحومہ کا کوئی عصبہ وارث نہیں ہے اس لیے باقی نصف بھی بہن پر رد ہوجائے گا۔
فتاوی شامی (10/572،571) میں ہے:
(إن اتحد جنس المردود عليهم) ۔۔۔۔۔۔(قسمت المسألة من عدد رءوسهم)
قوله: (إن اتحد جنس المردود عليهم) يشمل ما لو كان ذلك الجنس شخصا واحدا أو أكثر ۔۔۔۔۔۔ قوله:( من عدد رءوسهم) أي رءوس ذلك الجنس الواحد فيما إذا كان في المسألة أكثر من شخص واحد ورأس ذلك الشخص الواحد إن كان هو فيها
فتاوی ہندیہ (10/512) میں ہے:
[الباب الرابع عشر في الرد] وهو ضد العول الفاضل عن سهام ذوي السهام يرد عليهم بقدر سهامهم إلا على الزوجين
فتاوی بزازیہ (10/512) میں ہے:
إذا أعطينا ذوي السهام سهامهم وبقي سهم لا مستحق له يرد عليهم بقدر سهامهم إلا الزوج و الزوجة۔
سراجی (ص:27) میں ہے:
أحدها أن يكون في المسألة جنس واحد ممن يرد عليه عند عدم من لا يرد عليه فاجعل المسئلة من رؤسهم كما لو ترك بنتين أو أختين أو جدتين فاجعل المسئلة من اثنين ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved