- فتوی نمبر: 34-182
- تاریخ: 15 دسمبر 2025
- عنوانات: عبادات > طہارت > مسواک کا بیان
استفتاء
گزارش ہے کہ آپ حضرات کی طرف سے جاری کردہ حضرت ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب نور اللہ مرقدہ کا مرتب کردہ ایک سالہ فہم دین کورس پڑھانے کی سعادت حاصل ہو رہی ہے الحمدللہ عوام تو عوام خود میرے لئے بہت ہی مفید سلسلہ ہے اللہ تعالی اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے آمین۔
آمدم برسر مطلب یہ کہ دوران مطالعہ ودرس کچھ ایسی باتیں جو سمجھ نہیں آ سکیں یا جن پر اپنی ناقص عقل کی وجہ سے کچھ اشکال سا ذہن میں آیا وہ سمجھنا یا حل کرنا چاہ رہا ہوں امید ہے تشفی فرما دیں گے، بعداز تحقیق جو بھی نتیجہ سامنے آئے اس سے بندہ کو بھی مطلع فرمادیں گے،جزاکم اللہ خیرا۔
مسائل بہشتی زیور، مسواک کے بیان میں یہ مسئلہ مذکور ہےکہ :
اگر لکڑی کی مسواک نہ ہو یا کسی کے دانت ہی نہ ہوں یا اس کے منہ میں تکلیف ہو تو مسواک کا ثواب حاصل کرنے کے لیے انگلی یا کھردرا کپڑا استعمال کر سکتے ہیں ۔ ایسی صورت میں خواہ کسی بھی انگلی سے دانتوں کو ملے کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن افضل یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں کی انگشت شہادت سے ملے یعنی پہلے بائیں ہاتھ کی انگشت شہادت سے ملے پھر دائیں ہاتھ کی انگشت شہادت سے ملے۔
مذکورہ خط کشیدہ الفاظ میں اولاً بائیں ہاتھ اور ثانیاً دائیں ہاتھ کا ذکر قابل اشکال ہے،کہ یہ تو خلافِ حدیث ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ اس کو افضل کہہ کر لکھا گیا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ بات حضرت ڈاکٹر صاحبؒ نے از خود نہیں لکھی بلکہ حضرات فقہائے کرام نے یہی طریقہ ذکر کیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انگلی تو محض ایک آلہ ہے،اصل مقصود منہ کی دائیں اور بائیں جہت ہے لہذا بائیں انگلی سے منہ کی دائیں جہت کو ملا جائے (کیونکہ دائیں انگلی سے منہ کی دائیں جہت کی ابتداء کرنا مشکل ہے اور تکلف سے خالی نہیں)اور دائیں انگلی سے منہ کی بائیں جہت کو ملا جائےاور دائیں اور بائیں میں اصل اعتبار منہ کی جہت کا ہوگا جوکہ مقصود ہے،دائیں یا بائیں انگلی کا نہ ہوگا جو کہ محض ایک آلہ ہے اور منہ کی جہت کے لحاظ سے مذکورہ طریقہ حدیث کے عین مطابق ہے نہ کہ مخالف۔
حلیہ، لابن امیر حاج (1/63) میں ہے:
التتميم الخامس: ولا يقوم الأصبع مقام السواك عند وجوده، فإن لم يوجد يقوم مقامه، ذكره في الكافي وغيره؛ يعني ينال ثوابه كما ذكره في الخلاصة بما روى البيهقي والحافظ ضياء الدين المقدسي في أحكامه بإسناد قال: لا أرى به بأساً عن أنس أن رسول الله ﷺ قال: «يجري من السواك الاصابع، وأخرج الطبراني عن أبي أيوب قال: كان رسول الله ﷺ إذا توضأ استنشق ثلاثاً ومضمض وأدخل أصبعه في فمه…. ثم بأي أصبع استاك لا بأس به والأفضل أن يستاك بالسبابتين يبدأ بالسبابة اليسرى ثم باليمنى وإن شاء استاك بإبهامه اليمنى والسبابة اليمنى يبدأ بالإبهام من الجانب الأيمن فوقاوتحتا ثم بالسبابة من الجانب الأيسر يستاك فوقاوتحتا ويدعو عند ذلك: اللهم طيب نكهتي، ونور قلبي، وطهر أعضائي، ومحض ذنوبي، وأدخلني برحمتك في عبادك الصالحين ذكره الغزنوي.
البحر الرائق(1/ 72) میں ہے:
والأفضل أن يبدأ بالسبابة اليسرى ثم باليمني.
شامی (1/253) میں ہے:
قوله ( أو الأصبع ) قال في الحلية ثم بأي أصبع استاك لا بأس به والأفضل أن يستاك بالسبابتين يبدأ بالسبابة اليسرى ثم باليمنى وإن شاء استاك بإبهامه اليمنى والسبابة اليمنى يبدأ بالإبهام من الجانب الأيمن فوق وتحت ثم بالسبابة من الأيسر كذلك .
ہندیہ (1/ 7)میں ہے:
(ومنها السواك) وينبغي أن يكون السواك من أشجار مرة؛ لأنه يطيب نكهة الفم ويشد الأسنان ويقوي المعدة وليكن رطبا في غلظ الخنصر وطول الشبر ولا يقوم الأصبع مقام الخشبة فإن لم توجد الخشبة فحينئذ يقوم الأصبع من يمينه مقام الخشبة. كذا في المحيط والظهيرية.
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار(1/80)میں ہے:
قوله:أو ألاصبع)في الهندية تقييد ألاصبع باليمني وهذا انما يظهر من جهة اليسري فقط ولذا قال في البحر والافضل أن يبدأ بالسبابة اليسري ثم باليمني اه.أي لأن اليسري لجهة اليمني واليمني لجهة اليسري.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved