• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

موبائل فون پالیسی

استفتاء

ملازمین کو چونکہ کمپنی کے کاموں کے لیے موبائل فون کے استعمال کرنے کی ضرورت پڑتی رہتی ہے اس لیے ایسے ملازمین کو ان کے گریڈ کے لحاظ سے کمپنی کی طرف سے موبائل اور پوسٹ پیڈ (Post Paid) سم بھی دیے گئے ہیں، جسے ملازم استعمال کرتا رہتا ہے اور مہینے کے آخر میں اس کا بل آتا ہے جو کمپنی کی طرف سے ادا کر دیا جاتا ہے۔ ملازمین کے کام کے حساب سے بیلنس کی ایک حد مقرر کر دی گئی ہے۔ نیز ملازمین کو دیے گئے موبائل فون کمپنی ہی کی ملکیت ہیں ملازمین کو صرف استعمال کے لیے دیے گئے ہیں۔ اس حوالے سے درج ذیل شرائط و ضوابط طے کیے گئے ہیں:

1۔ چونکہ فون  کمپنی کے کاموں میں استعمال کے لیے دیا گیا ہے اس لیے اس کا ذاتی استعمال حتی الامکان کم کیا جائے۔

2۔ کمپنی کی طرف سے مقرر کردہ بیلنس کی حد (Limit) سے زیادہ استعمال کی صورت میں اضافی رقم ملازم کی تنخواہ سے کاٹی جائے گی۔

3۔ دوران ڈرائیورنگ فون کا استعمال غیر قانونی ہے۔

4۔ ملازم کی طرف سے فون کے استعمال کے سلسلے میں لاپرواہی / غیر ذمہ داری (Irresponsibilty) کی صورت میں کمپنی کو ملازم سے فون واپس لینے کا حق حاصل ہو گا۔

5۔ اگر فون خراب ہو جائے اور اس کی وارنٹی کی مدت باقی ہو تو پھر متعلقہ کمپنی سے کلیم کیا جائے گا۔

6۔ اگر وارنٹی کی مدت گذر جانے کے بعد خراب ہو جائے یا وہ خرابی اس وارنٹی کی پالیسی کے تحت نہ آتی ہو تو ایسی صورت میں ٹھیک کرنے (Repairing) کے اخراجات ملازم خود برداشت کرے گا۔

7۔ اگر فون12 مہینے استعمال ہونے کے بعد خراب یا بیکار (Dead) ہو جائے تو ایسی صورت میں اس کی کم ہونے والی قیمت (Depreciation Value) کا 70% کمپنی اور 30% ملازم برداشت کرے گا۔

8۔ فون کے گم یا چوری ہونے کی صورت میں اس کی قیمت کا 70% ملازم اور 30%کمپنی برداشت کرے گی۔

9۔ متعلقہ شعبہ کے منیجر کی منظوری سے فون تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

10۔  یہ معاہدہ اٹھارہ ماہ کے لیے ہو گا۔ اٹھارہ ماہ کے بعد کمپنی کی طرف سے فون چیک ہوں گے، اس وقت اگر کوئی موبائل خراب ہوا اور ٹھیک ہو سکتا ہو تو کمپنی کی طرف سے ٹھیک کروا کر دیا جائے گا اور اگر ٹھیک نہ ہو سکتا ہو تو نیا فون فراہم کیا جائے گا۔ اس دوران اگر کسی ملازم کی ترقی ہو جائے تو اس  کے گریڈ کے لحاظ سے فون تبدیل کر کے دیا جائے گا۔

11۔ ملازمت کے اختتام اور ریٹائرمنٹ کے وقت کمپنی کی طرف سے دیا گیا فون اور اس کے متعلقات چارجر وغیرہ کمپنی انتظامیہ (Admin Department)  کو واپس کرنا ضروری ہے۔

سوال: موبائل فون کے بارے میں اختیار کردہ مذکورہ بالا پالیسی شرعاً درست ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

کمپنی کی طرف سے ملازمین کو استعمال کے لیے دیے گئے موبائل ان کے پاس امانت ہیں۔ لہذا اگر کوئی ملازم معمول کے مطابق موبائل فون کا استعمال کرتا ہو لیکن استعمال کرنے کے نتیجے میں موبائل خراب ہو جائے یا کوئی جزوی نقصان ہو جائے تو اس کو دوبارہ ٹھیک کرانے کا ذمہ داری ملازم پر نہ ہو گی بلکہ یہ ذمہ داری کمپنی کی ہو گی۔ اسی طرح اگر ملازم سے موبائل گم ہو جائے یا چوری ہو جائے اور اس میں ملازم کی طرف سے کوئی غفلت یا کوتاہی نہ ہو تو بھی ملازم موبائل فون کا ذمہ دار نہ ہو گا۔ اس تمہید کی روشنی میں سوال میں پوچھے گئے امور کا شق وار جواب درج ذیل ہے:

1۔ درست ہے۔

2۔ درست ہے۔

3۔ درست ہے۔

4۔ درست ہے۔

5۔ درست ہے۔

6,7,8۔ درست نہیں۔ تفصیل تمہید میں آ چکی ہے۔

9۔ درست ہے۔

10۔ درست ہے۔

11۔ درست ہے۔

عالمگيري: (4/368) دار صادر

وفي فتاوى الديناري إذا انتقص عين المستعار في حالة الاستعمال لا يجب الضمان بسبب النقصان إذا استعمله استعمالا معهودا كذا في الفصول العمادية.

شرح المجلة: (3/302) رشيديه

العارية أمانة في يد المستعير فإذا هلك أو ضاعت نقصت قيمتها بلا تعد و التقصير لا يلزم الضمان. أطلق عدم الضمان فشمل ما إذا هلك في حال الاستعمال و ما إذا شرط عليه الضمان، فإنه شرط باطل………………. فقط و الله تعالى أعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved