- فتوی نمبر: 32-159
- تاریخ: 03 فروری 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > لباس و وضع قطع
استفتاء
1۔مونچھوں کو بلیڈ ( استرے ) سے صاف کرنا جائز ہے یا نہیں؟
2۔حجامت کونسے دن کرنا مستحب ہے؟
3۔غیر ضروری بال کتنے دنوں کے بعد صاف کرسکتے ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔مونچھوں کو استرے سے مونڈنا بھی جائز ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ قینچی سے کتروائے۔
2۔حجامت (غسل اور زیر ناف بال وغیرہ صاف) کرنا جمعہ کے دن افضل ہے۔
3۔مستحب یہ ہے کہ ہر ہفتے غیر ضروری بال صاف کرلیے جائیں اور اگر پندرہ دن میں صاف کرلیے جائیں تو وہ بھی ٹھیک ہے البتہ آخری حد چالیس دن ہے۔ چالیس دن سے زیادہ مؤخر کرنا جائز نہیں۔
الدر المختار مع ردالمحتار (6/406) میں ہے:
(و) يستحب (حلق عانته وتنظيف بدنه بالاغتسال في كل أسبوع مرة) والافضل يوم الجمعة، وجاز في كل خمسة عشرة، وكره تركه وراء الاربعين.
وفى الشامية: (قوله وكره تركه) أي تحريما لقول المجتبى ولا عذر فيما وراء الأربعين ويستحق الوعيد اهـ وفي أبي السعود عن شرح المشارق لابن ملك روى مسلم عن أنس بن مالك «وقت لنا في تقليم الأظفار وقص الشارب ونتف الإبط أن لا نترك أكثر من أربعين ليلة» وهو من المقدرات التي ليس للرأي فيها مدخل فيكون كالمرفوع.
شامی(2/550) میں ہے:
واختلف في المسنون في الشارب هل هو القص أو الحلق؟ والمذهب عند بعض المتأخرين من مشايخنا أنه القص. قال في البدائع: وهو الصحيح.
کفایت المفتی (9/179) میں ہے:
سوال: مونچھوں کو استرے سے بالکل صاف کردینا کیسا ہے؟
جواب: مونچھوں کو استرے سے مونڈنا بھی جائز ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ قینچی سے کتروائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved