• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

منی ایکسچینج کرنے والے کا چیک کے ذریعے معاملہ کرنا

استفتاء

ایک شخص مختلف ممالک کی کرنسی کا کام کرتا ہے جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ جس شخص کو مثلاً دبئی میں دراہم کی ضرورت ہوتی ہے وہ پاکستان میں اس کو  روپے دے دیتا ہے اور دبئی میں اپنے وکیل کے ذریعے اس کے وکیل سے دراہم وصول کر لیتا ہے اور بسا اوقات تبادلہ چیک کے ذریعے بھی ہوتا ہے یعنی یہاں روپوں کا چیک دے کر وہاں دراہم کا چیک وصول کر لیا ۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ:

1۔آیا چیک پر قبضہ قبضہ شمار ہوگا؟

2۔ کیا  یہ بیع ہے یا قرض؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1،2۔مذکورہ صورت بیع کی ہے اور چیک پر قبضہ رقم پر قبضہ شمار نہیں ہوگا کیونکہ چیک کی حقیقت حوالہ کی ہے اور صرف حوالہ کرنے سے قبضہ ثابت نہیں ہوتالہذا مذکورہ معاملہ بیع الکالی بالکالی (ادھار کی ادھار سے بیع) ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔

نوٹ: مذکورہ صورت میں اگر تبادلہ چیک کے ذریعے نہ ہو تب بھی  مذکورہ معاملے کے  جائز ہونے کیلئے ضروری ہے کہ کسی ایک طرف سے ادائیگی موقع پر ہو اگر کسی ایک طرف سے بھی ادائیگی موقع پر نہ ہوئی تو یہ بھی بیع الکالی بالکالی ہونے کی وجہ سے ناجائز ہوگا۔

سنن الدارقطنی(رقم:3060)میں ہے:

ثنا علي بن محمد المصري نا سليمان بن شعيب الكيساني ثنا الخصيب بن ناصح نا عبد العزيز بن محمد الدراوردي عن موسى بن عقبة عن نافع عن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم «نهى عن ‌بيع ‌الكالئ بالكالئ»

درمختار(5/ 179)میں ہے:

«(باع فلوسا بمثلها أو بدراهم أو بدنانير فإن نقد أحدهما جاز) وإن تفرقا بلا قبض أحدهما لم يجز لما مر»

فقہ البیوع(1/451) میں ہے:

وقد شاع فی کثیر من البیوع الرائجة الیوم ان المشتری یوفی الثمن بطریق اصدار الشیک الشخصی باسم البائع او یصدر الشیک لحامله ۔۔۔وحقیقة هذه العملیة فقها ان المشتری یحیل البائع علی بنکه ۔۔فالظاهر کون الحوالة بمنزلة القبض فی حق براءة ذمة المحیل فقط۔۔ومن هذه الجهات یصعب ان یقال ان قبض الشیک الشخصی قبض لمحتواه فی الصرف

تکملہ فتح الملہم(1/327) میں ہے:

”فالصحیح أن الشیک المصرفي سند یدل علی الذی وقع علیه قد  وکل حامله لقبض دینه من البنک و مقاصة دینه منه لیس ذلک من الأثمان في شیٔ فلا یعتبر القبض علیه قبضاً علی مبلغه حتی ینقده البنک.، ولا یتأدی بأدائه الزکاة حتی ینقده الفقیر، ولا یجوز اشتراء الذهب والفضة به، لفقدان التقابض في المجلس، ویجوز لموقعه أن یعزل حامله عن الوکالة، قبل أن یبلغ به إلی البنک.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved