- فتوی نمبر: 34-369
- تاریخ: 13 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > طلاق کے بعد رجوع کے احکام
استفتاء
میرے شوہر نے مجھ پر قید لگائی کہ اگر آپ ایک مہینے کے لیے اپنے گھر نہ گئی تو میری طرف سے طلاق ، آپ کو طلاق ہے۔ پھر میں اپنے گھر چلی گئی اور پورا مہینہ ٹھہر کر آئی۔ دوسری دفعہ اس کے تقریبا 10 ماہ بعد دوبارہ میرے شوہر اپنے کسی رشتہ داروں میں جانا چاہتے تھے اور میں شک کی بنا پر ان کو زبردستی روک رہی تھی ۔انہوں نے کہا اگر آپ بھی اپنی رشتہ داروں میں گئی تو میری طرف سے فارغ ہو ، لہذا میں ابھی تک ان رشتہ داروں میں نہیں گئی جن کے بارے میں اس نے قید لگائی تھی جبکہ وہ خود بعد میں چلا گیا ۔تیسری مرتبہ گھر میں بھائیوں کا تنازع ہوا تھا وہ اس کو میری شکایت کر رہے تھے جبکہ میں نے وہ کام نہیں کیا تھا، تو اس نے اپنے بھائی سے کہا کہ میں پہلے اس کو دو دفعہ طلاق دے چکا ہوں کیا تیسری بھی دلوانا چاہتے ہو ! اور وہ مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ میں اللہ ورسول کی قسم کھاتا ہوں کہ میری نیت طلاق کی نہیں تھی میں نے تو صرف بھائیوں سے جان چھڑائی تھی جبکہ میرا اور ان کا آپس کا معاملہ بالکل ٹھیک ہے اور ہم دونوں ایک دوسرے سے بالکل مطمئن ہیں۔
شوہر کا بیان :
جو طلاق پہلےدی تھی اورقید لگائی تھی وہی میں نے ذہن میں رکھتے ہوئے کہا تھا کہ میں پہلے دو طلاق دے چکا ہوں کیا تیسری بھی دلوانا چاہتے ہو ! مقصد یہ تھا کہ گھر والے زیادہ بحث وتکرار نہ کریں جبکہ گھر والوں کو ایسی بات کا کوئی علم ہی نہیں تھا ۔ صرف گھر والوں پر پریشر ڈالنا تھا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں دو رجعی طلاقیں واقع ہوگئی ہیں لہٰذا عدت ( تین ماہواریاں ) گزرنے سے پہلے شوہر بیوی سے رجوع کرنا چاہے تو زبان سے کہہ لے کہ میں تم سے رجوع کرتا ہوں یا میاں بیوی والے تعلقات قائم کرلے ۔نیز شوہر نے جو طلاق بیوی کے رشتہ داروں کے گھر جانے پر معلق کی تھی وہ باقی ہے بیوی اگر وہاں جائے گی تو تیسری طلاق بھی واقع ہوجائے گی جس کے بعد رجوع یا صلح کی گنجائش باقی نہ رہے گی لہٰذا شوہر اگر اس تیسری طلاق سے بچنا چاہتا ہے تو اگر ابھی تک عدت ( تین ماہواریاں) نہیں گزری اور شوہر نے ابھی تک رجوع بھی نہیں کیا تو وہ عدت ( تین ماہواریاں) گزرنے تک رجوع نہ کرے اور جب عدت گزرجائے تو عورت ان رشتہ داروں کے گھر چلی جائے جن کے گھر جانے پر شوہر نے طلاق کو معلق کیا تھا ایسا کرلینے سے یہ معلق طلاق ختم ہوجائے گی اور دوبارہ شرط ( یعنی بیوی کا ان رشتہ داروں کے گھر جانا) کے پائے جانے سے کوئی طلاق واقع نہ ہوگی ۔اس کے بعد میاں بیوی باہمی رضامندی سے دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ نکاح کرلیں ۔لیکن اگر شوہر عدت کے اندر رجوع کرچکا ہے( چاہے زبان سے کہہ کر یا میاں بیوی والے تعلقات کے ذریعہ )تو اب اس تیسری معلق طلاق سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ۔ جب بیوی ان رشتہ داروں کے گھر جائے گی تیسری طلاق واقع ہوجائے گی ۔
توجیہ : شوہر نے بھائیوں سے بحث کے دوران جب یہ الفاظ کہے کہ “میں پہلے دو طلاق دے چکا ہوں کیا تیسری بھی دلوانا چاہتے ہو” یہ دو طلاقوں کا اقرار تھا اگر چہ شوہر کے ذہن میں اس وقت وہ پہلی دو طلاقیں ہوں جو اس نے شرط پر معلق کی تھیں ۔ اور طلاق کا اقرار کرنے سے بھی قضاء طلاق واقع ہوجاتی ہے چاہے شوہر جھوٹا اقرار کرے یا کسی غلط فہمی کی وجہ سے کرے ۔
فتاوٰ ی شامی (3/ 236) میں ہے :
«ولو أقر بالطلاق كاذبا أو هازلا وقع قضاء لا ديانة.»
غمز عيون البصائر فی شرح الأشباه والنظائر(1/ 461)میں ہے :
«قوله: ولو أقر بطلاق زوجته ظانا الوقوع إلى قوله لم يقع إلخ. أي ديانة أما قضاء فيقع كما في القنية لإقراره به، فإن قيل كيف يتبين خلافه؟ أجيب بأنه يحتمل أن يكون المفتي أفتى غير ما هو في المذهب، فأفتى من هو أعلم منه بعدم الوقوع ويحتمل أن المفتي أفتى أولا بالوقوع من غير تثبت، ثم أفتى بعد التثبت بعدمه»
احسن الفتاوی (157/5) میں ہے:
سوال: ایک آدمی نے اپنی بیوی کو غصہ میں آکر کہا کہ اگر دوبارہ آواز کی تو تجھے تین طلاق دوں گا اس سے پہلے کچھ کشمکش چل رہی تھی اس نے خیال کیا کہ میں نے جو الفاظ استعمال کیے ان سے شاید طلاق واقع ہو گئی اس لیے لوگوں سے کہنے لگا کہ اس کو میں نے طلاق دے دی ہے کیا اس صورت میں طلاق واقع ہو سکتی ہے ؟ بینوا توجروا
الجواب: طلاق ہو گئی بلکہ کسی مفتی کے غلط فتوے کی بناء پر شوہر طلاق کی خبر دے تو بھی قضاء طلاق ہوجاتی ہے دیانۃً نہیں ہوتی صورت سوال میں تو اس کی خبر مفتی پر مبنی نہیں ہے اس لیے دیانۃً بھی طلاق ہو گئی مگر طلاق کے عدد میں اس کے قول اول ” تین طلاق دے دوں گا ” کا اعتبار نہیں بلکہ لوگوں کو خبر دینے میں جو الفاظ استعمال کیے ہیں ان کا اعتبار ہے۔ اگر یوں کہا کہ “میں نے طلاق دے دی ہے ” جیسا کہ سوال میں مذکور ہے تو ایک طلاق ہوئی اور اگر ” تین طلاق دے دی ہے ” کہا تو تین طلاقیں ہو گئیں۔
قال في الأشباه في القاعدة السابعة عشر : ولو أقر بطلاق زوجته ظانا الوقوع بافتاء المفتي فتبين عدمه لم يقع كما في القنية.وقال الحموي : قوله (لم يقع ) اي ديانة اما قضاء فيقع كما في القنية لاقراره به.
فتاوی ہندیہ (1/416) میں ہے :
وزوال الملك بعد اليمين بأن طلقها واحدةً أو ثنتين لا يبطلها، فإن وجد الشرط في الملك انحلت اليمين بأن قال لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق فدخلت وهي امرأته وقع الطلاق ولم تبق اليمين، وإن وجد في غير الملك انحلت اليمين بأن قال لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق فطلقها قبل وجود الشرط ومضت العدة ثم دخلت الدار تنحل اليمين ولم يقع شيء، كذا في الكافي.”
فتاوی رحیمیہ (8/305) میں ہے :
اور تین طلاقوں سے بچنے کی صورت یہ ہے کہ شوہر ایک طلاق رجعی دے کر بیوی کو الگ کر دے ۔ عدت کے بعد(تین حیض گذر نے کے بعد اور اگر حاملہ ہوتو وضع حمل کے بعد ) ماں یا بہن کی یہاں جاوے اس سے تعلیق اور شرط پوری ہوجائے گی اور تین طلاقیں واقع نہ ہوں گی کیونکہ شرط پوری ہونے کے وقت نکاح میں نہیں ہے ،اس کے بعد شوہر سے نکاح کر لے ، اب ماں یا بہن کے یہاں جانے سے نکاح پر اثر نہ پڑے گا اور طلاق واقع نہ ہوگی درمختار میں ہے: وتنحل الیمین بعد وجود الشرط مطلقاً لکن ان وجد فی الملک طلقت وعتق والالا۔ فحيلة من علق الثلاث بد خول الدار ان یطللقهاواحدة ثم بعد العدۃ تدخلهافتنحل الیمین فینكحها.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved