- فتوی نمبر: 32-132
- تاریخ: 27 جنوری 2026
- عنوانات: مالی معاملات > مضاربت
استفتاء
دستاویزات برائے معاملہ
یہ معاملہ فریقین کے درمیان ہے۔فریق اول ( مولا نا گلزار احمد صاحب ولد خان محمد) اورفریق ثانی (ڈاکٹر شفیق صاحب) ہیں۔
ا۔ سرمایہ صرف فریق اول کا ہی ہو گا اور فریق ثانی کو سر مایہ لگانے کا حق نہیں ہو گا۔ مال کی خرید و فروخت اور حفاظت فریق ثانی کے ذمے ہوگی۔
۲۔ فریق ثانی اس بات کا پابند ہوگا کہ مال کا حساب و کتاب اور خرید و فروخت اور نفع کی مکمل تفصیل فریق اول کو مہیا کرے گا۔
۳۔ اس معاملے میں دونوں فریق نفع اور نقصان میں برابر کے شریک ہونگے ۔
۴۔یہ معاملہ پانچ سال تک کے لئے ہو گا۔
۵۔اصل رأس المال نفع نقصان کی صورت میں دونوں فریق پورا کریں گے۔
۶۔مال کی خریدوفروخت اور سٹاک کی مکمل تفصیل نوٹ کی جائے گی جسے دونوں فریق مہینے میں دو مرتبہ چیک کرنے کے پابند ہونگے۔
۷۔کل سرمایہ جو فریق اول دے گا ایک لاکھ روپے ( ۱۰۰۰۰۰) ہے۔
اس معاملے کو شرعی کیسے بناسکتے ہیں اور اس میں مزیدر ہنمائی فرمائیں۔
وضاحت مطلوب ہے: یہ مضاربت کسی خاص چیز میں ہوگی یا عمومی اجازت ہوگی؟
جواب وضاحت: خاص چیزیں ہوں گی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ معاملے کی شق نمبر 3 اور 5 شریعت کے خلاف ہے اس لیے کہ مذکورہ معاملہ مضاربت کا ہے اور مضاربت میں نفع میں تو دونوں شریک ہوتے ہیں لیکن نقصان میں دونوں شریک نہیں ہوتے بلکہ نقصان صرف سرمایہ دینے والے کا ہوتا ہے اور اگر نقصان کام کرنے والے کی کوتاہی کی وجہ سے ہوا ہو تو ایسی صورت میں نقصان کا ذمہ دار صرف کام کرنے والا ہوتا ہے۔ لہٰذا مذکورہ معاملہ میں اگر یہ دو شرطیں ختم کردی جائیں تو باقی معاملہ جائز ہو سکتا ہے۔
شامی (8/501) میں ہے:
(وشرطها) …… (وكون الربح بينهما شائعا)
التنویر مع الدر (8/514) میں ہے:
(وما هلك من مال المضاربة يصرف الى الربح) لانه تبع (فان زاد الهالك على الربح لم يضمن ) ولو فاسدة من عمله لانه امين
وفى الشامية: قوله: (من عمله) يعني المسلط عليه عند التجار، وأما التعدي فيظهر أنه يضمن سائحاني.
تبيين الحقائق (5/ 57) میں ہے:
«إن التصرفات في المضاربة ثلاثة أقسام …………….. وقسم آخر ليس من المضاربة المطلقة لكنه يحتمل أن يلحق بها عند وجود الدلالة وهو إثبات الشركة في المضاربة بأن يدفع إلى غيره مضاربة أو يخلط مال المضاربة بماله أو بمال غيره فإنه لا يملك هذا بمطلق المضاربة؛ لأن رب المال لم يرض بشركة غيره وهو أمر زائد على ما تقوم به التجارة فلا يتناوله مطلق عقد المضاربة لكن يحتمل أن يلحق به فإذا قيل له اعمل برأيك فله ذلك
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved