• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

مختار نامہ کی حیثیت

استفتاء

میں *** ۔۔۔۔ عرض کرتی ہوں کہ مجھے میرے مسئلے میں دینی رہنمائی فرمائی جائے۔

آج سے تقریباً سولہ سال پہلے میں نے اپنی زمین سترہ کنال دس مرلے بمقام چک نمبر  20/ 2L دینالہ جو کہ میرے والد صاحب کی وفات کے بعد ان کی زمین میں میرا حصہ بنتا تھا۔ مالی تنگدستی کی وجہ سے اپنی والدہ کو پانچ لالکھ کے عوض بیچ دیا، اور پیسے وصول کر لیے۔ والد صاحب کی وفات کے کچھ سالوں بعد میری والدہ میرے پاس آ گئیں اور پھر 2014ء تک میرے ہی پاس رہیں، چونکہ میرے میاں کی نوکری ختم ہو چکی تھی اور میرے بیٹے ابھی اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہوئے تھے، اس لیے مجھے مالی پریشانیوں کا سامنا ہوتا رہتا ہے۔ اس عرصے کے دوران میری ماں میری مدد مالی لحاظ سے کرتی رہتی تھی۔ پھر انہیں احساس تھا کہ میرے حالات ذرا مشکل ہیں، تو انہوں نے مجھے کہا کہ میں نے تمہیں وہ پانچ لاکھ جو تم نے زمین دے کر مجھ سے لیے تھے، وہ میں نے تمہیں ہدیہ  کر دیا ہے، اور میں چاہتی ہوں کہ تم نے جو زمین کی Power of attor ney (مختار نامہ) مجھے دی ہے، وہ واپس لے لو تاکہ تمہارے بڑھاپے کی بھی سکیورٹی ہو جائے۔ میں نے امی کی اجازت کے بعد اپنی Power of attor ney واپس لے لی، کیونکہ زمین ابھی میری امی کے نام پر نہیں کی گئی تھی۔

اب صورتحال یہ ہے کہ پچھلے تقریباً نو دس ماہ سے ان کو میرا بڑا بھائی اپنے گھر لے گیا ہے۔ اب گو کہ میرے بھائیوں کے میرے ساتھ کوئی تعلقات نہیں رہے، البتہ میری ماں تقریباً ہر ماہ مجھ سے ملنے آتی رہتی ہیں۔ اب میری والدہ کو فکر ہے کہ چونکہ انہوں نے میری زمین مجھے واپس کر دی ہے، جس پر ان کے بیٹوں کا بھی حق تھا تو اللہ تعالیٰ انہیں عذاب قبر سے دو چار کرے گا، کیونکہ انہوں نے بیٹوں کا حق مارا ہے۔ برائے مہربانی آپ اس مسئلے میں میری اور میری بوڑھی والدہ کی رہنمائی فرمائیں کیونکہ میں کسی طرح بھی اپنی ماں کے لیے عذاب قبر کا باعث نہیں بننا چاہتی۔

Power of attor ney 2014/ 8/ 30 کو کینسل کی گئی۔

نوٹ: میرے والد صاحب کا انتقال 1994ء میں ہوا تھا۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

آپ نے اپنا حصہ اپنی والدہ کو بذریعہ "مختار نامہ” فروخت کیا۔

"مختار نامہ” کی حیثیت "بیع نامہ” کی نہیں ہوتی، بلکہ ایک عمومی وکالت نامہ کی ہوتی ہے۔ اور اگرچہ "وکالت نامہ” یا "مختار نامہ” میں جس شخص کو وکیل یا مختار بنایا گیا ہے اسے متعدد قسم کے اختیارات ہوتے ہیں۔ مثلاً وہ اس جائیداد کو آگے "ہبہ” کر سکتا ہے، اس کی "بیع” کر سکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ مگر وکیل اور مختار شخص وکیل اور مختار ہوتے ہوئے اس جائیداد کو خود نہیں خرید سکتا۔  لہذا مذکورہ صورت میں بیع متحقق ہی نہیں ہوئی، اور جائیداد بدستور آپ کی اپنی ملک ہی میں برقرار رہی۔ اور جو پانچ لاکھ آپ کی والدہ نے آپ کو دیے تھے، ان کی حیثیت قرض کی تھی اور یہ قرض آپ کی والدہ نے بوجہ مخصوص حالات کے آپ کو ہدیہ کر دیا۔

ہدیہ میں آپ کی والدہ کو اس کا خیال رکھنا چاہیے تھا کہ وہ آپ کے بھائی کو بھی کم از کم پانچ لاکھ روپے ہدیہ کرتی۔ لیکن چونکہ یہ پانچ لاکھ روپے آپ کی والدہ نے آپ کی تنگدستی کے پیش نظر آپ کو ہدیہ کیے ہیں، آپ کے بھائی کو ضرر اور نقصان پہنچانا مقصد نہیں تھا۔ اس لیے مذکورہ صورت میں آپ کے بھائی کو اتنی رقم ہدیہ نہ کرنے سے آپ کی والدہ کو گناہ  نہ ہو گا۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved