• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

مقررہ وقت میں قیمت ادا نہ کرنے کی وجہ سے سابقہ بیع کو ختم کرکے نیا معاہدہ کرنا

استفتاء

***کی وفات کے بعد ان کی ملکیت میں ایک عدد  وراثتی مکان تھا جس میں سے ان کے بیٹے (***) نے اپنی ہمشیرہ اور بھائی ***سے  ان کا حصہ  خرید لیا،مکان کی کُل قیمت 15500000 طے ہوئی جس میں سے ہمشیرہ کا حصہ باہمی رضامندی سے  2600000 روپے طے پایا اور مدتِ ادائیگی ایک سال طے پائی یعنی 18/10/27 سے 19/10/27 ۔ رقم مقررہ وقت پر ادا کردی گئی اس کے بعد تین سال کی مدت بھائی محمد ***کے لیے طے ہوئی جس کی رقم باہمی رضامندی سے  5200000 روپے طے ہوئی اس رقم میں سے 2000000 روپے ایک سال کے اندر ادا کرنے تھے یعنی 20/10/27 تک لیکن میں یہ رقم مقررہ مدت میں ادا نہیں کرسکا اس کی وجہ کرونا کی وجہ سے معاشی حالات تھے لیکن باقی مدت یعنی دو سال گذرنے کے بعد میں نے کل رقم 5200000  کا بندوبست کیا اور بھائی کو آگاہ کیا کہ رقم موجود ہے آپ وصول کرلیں لیکن انہوں نے انکار کردیا اور کہا کہ پہلا معاہدہ منسوخ ہوچکا ہے اس لیے اب نیا معاہدہ کریں اور اس کے مطابق رقم ادا کریں، ہم لوگ دوبارہ اکٹھے ہوئے اور اس میں مکان کا دوبارہ ریٹ لگا جوکہ 52لاکھ کی بجائے 89لاکھ کا ہوگیا تھا لیکن یہ زبانی تھا مجھے کسی دوست جو کہ  دین کا علم جانتے ہیں نے بتایا کہ شرعاً آپ کا پہلا معاہدہ منسوخ نہیں ہوا وہ قائم ہے۔ اس لیے براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں۔

مستفتی *** کا  مزید بیان :

    جب ***نے یہ تقاضہ کیا تھا اب نئے ریٹ پر معاملہ ہوگا تو میں اس وقت راضی نہیں ہوا تھا نیا ریٹ بھی ہمارے درمیان فیصل جس نے پہلا معاملہ کرایا تھا اس نے لگوایا تھا کہ کتنا لگتا ہے اور  میں ریٹ لگنے کے بعد بھی راضی نہیں ہوا تھا میں پہلے معاملے کو جاری رکھنے پر ہی راضی تھا ۔

فریق دوم محمد ***کا بیان :

یہ دوسرا معاملہ ہمارے درمیان فیصل نے کروایا تھا اور *** اس پر راضی ہوگیا تھا  بعد میں انکاری ہوا ہے۔

**کا بیان :

*** اس موقع پر دوسرے ریٹ  پر راضی ہوگیا تھا بعد میں جب ریٹ لگوایا گیا  تب بھی اس نے یہ کہا تھا کہ مجھے دینے پڑیں گے میں دیکھتا ہوں  بعد میں ریٹ زیادہ ہونے کی وجہ سے پیچھے ہٹ گیا ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اگر اویس نیا ریٹ لگوانے پر راضی ہوگیا تھا (جیسا کہ خود ***کا بیان ہے اور ***اور اویس دونوں کے درمیان جو  فیصل  تھا اس کا بیان ہے) تو پہلا معاملہ منسوخ ہوچکا ہے اور ***اب اپنے حصے کا نئے ریٹ کے مطابق تقاضا کرسکتا ہےاور  اگر  اویس نیا ریٹ لگوانے راضی نہیں ہوا تھا( جیسا کہ اویس کا  اپنا بیان ہے ) تو ***کے لیے نئے ریٹ کا تقاضا کرنا جائز نہیں۔

توجیہ:مذکورہ صورت میں اگر اویس نیا ریٹ لگوانے پر راضی ہوگیا تھا تو ***اس نئے ریٹ کا تقاضا کرسکتا ہے کیونکہ یہ اقالہ کہلائے گا اور اگر اویس نئے ریٹ پر راضی نہیں ہوا تھا تو ***کے لیے نئے ریٹ کا تقاضا کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ اقالہ نہیں ہوا بلکہ پہلی بیع ابھی تک موجود ہے ختم  نہیں ہوئی۔

الدرالمختار (7/332) میں ہے:

(و) تصح أيضا (بفاسختك وتركت ورفعت وبالتعاطي) ولو من أحد الجانبين (كالبيع) هو الصحيح.بزازية.وفي السراجية: لا بد من التسليم والقبض من الجانبين (وتتوقف ‌على ‌قبول الآخر) في المجلس ولو كان القبول (فعلا) كما لو قطعه أو قبضه فور قول المشتري أقلتك لان من شرائطها اتحاد المجلس ورضا المتعاقدين.

فتاویٰ حامدیہ (1/270) میں ہے:

(أقول) ولا ‌بد ‌من ‌قبول الآخر في المجلس ولو كان القبول فعلا كما لو قطعه أو قبضه فور قول المشتري أقلتك كما في التنوير وشرحه

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم               

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved