- فتوی نمبر: 34-153
- تاریخ: 08 دسمبر 2025
- عنوانات: مالی معاملات > شرکت کا بیان > مشترکہ خاندانی نظام
استفتاء
ہم چھ بھائی ایک گھر میں رہتے ہیں ان میں سے چار بھائی کاروبار کرتے ہیں دو بھائیوں میں سے ایک مدرسے میں پڑھتا ہے اور دوسرا اسکول میں پڑھتا ہے اور یہ پڑھنے والے دو بھائی گھر کے چھوٹے موٹے کام بھی چھٹی کے وقت کرتے ہیں مثلا باغ کو سیراب کرنا یا کبھی کبھی مال مویشی کی دیکھ بھال کرنا یا اس کے علاوہ گھر کا کوئی کام ہو۔
(1) یہ بتائیں کہ ان دو پڑھنے والے بھائیوں کا باقی چار بھائیوں کی کمائی میں حصہ ہے یا نہیں اور کاروبار والوں میں ایک بھائی کی دکان ہو اور دوسرے کی پراپرٹی ہو تو تقسیم کے وقت وہ بھی تقسیم ہوگی یا نہیں ؟
(2)کھانا ،پینا سب کچھ مشترک ہے تو ان مشترکہ بھائیوں میں قربانی کس پر واجب ہوگی اگر سب کے پیسے ایک ساتھ جمع کریں تو سب صاحب نصاب ہوں گے اور اگر ہر ایک کا الگ حساب لگایا جائے تو بعض صاحب نصاب ہوں گے اور بعض نہیں اب ہم کس اعتبار سے قربانی کا حساب کریں گے سب کے پیسے ایک ساتھ جمع کریں گے یا ہر ایک کا الگ حساب ہوگا؟ جبکہ بھائی سب مشترک ہیں گھر کے اخراجات ہوں یا کوئی اور ضرورت ہو سب برداشت کرتے ہیں اور ہمارے عرف میں یہ بھی ہے کہ تقسیم کے وقت سب کو برابر حصہ دیتے ہیں چاہے کسی نے زیادہ کمایا ہو یا کم ، اور ہم سب بھائی یہ کمائی بڑے بھائی کے پاس جمع کرتے ہیں بغیر کسی وضاحت کے۔ ہم بلوچستان ژوب میں رہتے ہیں تو کیا پھر قربانی صرف بڑے بھائی پر لازم ہے یا سب بھائیوں پر لازم ہے ؟
(3) اور پیسے اگر شراکت کے طور پر دیتے ہیں تو پھر کیا حکم ہے؟ وضاحت کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں ۔
(4) اور یہ بھی بتائیے کہ شراکت کی صورت میں ایک بھائی نےشرکت کے پیسوں سے جو پیسے خود کمائے ہیں بغیر دوسرے بھائیوں کی اجازت کے استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں؟ مثلا جیب کا خرچ ہو یا کوئی اور ضرورت ہو۔
(5) اور کیا دوسرے بھائیوں کو کاروبار کا مکمل اختیار ہے یا باقی شریک بھائیوں سے اجازت لینا ضروری ہے؟
(6) اگر ان شریک بھائیوں میں سے کوئی نقصان کرے تو نقصان کس پر ہوگا سب بھائیوں پر یا صرف نقصان کرنے والے پر ؟
وضاحت مطلوب ہے: مذکورہ بیان کس کا ہے ؟دیگر بھائیوں کا کیا موقف ہے؟
جواب وضاحت: محترم مفتی صاحب : دیگر بھائی تو امی لوگ ہیں انہوں نے پہلے یہ بات طے نہیں کی کہ پیسے بڑے بھائی کو ملکیت کے طور پر دیتے ہیں یا شراکت کے طور پر بغیر وضاحت کے دیتے ہیں ۔
ہاں یہ بات ہر بھائی کے ذہن میں ہوتی ہے کہ جائیداد میں یا پیسوں میں میرا حق بھی باقی بھائیوں کے برابر ہے اور جب الگ ہونا چاہتے ہیں تو اس وقت حصے کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔
تنقیح : والد صاحب بھائیوں کے کاروبار شروع کرنے کے وقت حیات تھے اس وقت تین بھائیوں نے کام شروع کیا تھا چوتھا سکول پڑھتا تھا جو بعد میں شریک ہو گیا تھا نظام اور اختیار سب بڑے بھائی کے پاس ہے ،مال مویشی بھائیوں کی کمائی سے ہی حاصل ہوئے ہیں ، باغ کی زمین وراثت کی ہے البتہ درخت بھائیوں کی کمائی سے لگائے گئے ہیں اور سیراب بھی بھائی ہی کرتے ہیں جو موقع پر موجود ہو ، سوال میں مذکور جائداد وغیرہ بھائیوں کی کمائی ہے وراثت کا مال نہیں ہمارے عرف میں اس طرح ہے کہ بھائیوں کی كمائی میں سے والدہ اور بہنوں کو حصہ نہیں ملتا صرف وراثت میں سے ملتا ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں چونکہ آپ کے علاقے کا عرف یہ ہے کہ سب بھائیوں کے مشترک ہونے کی صورت میں سب کو برابر کا شریک سمجھا جاتا ہے اور الگ ہونے کے وقت سب کو برابر حصہ ملتا ہے اس لیے فی الحال جتنا مال جمع ہو چاہے جس نے بھی کمایا ہو وہ سب مشترک ہی سمجھا جائے گا کسی ایک کی ملکیت شمار نہ ہوگا چاہے انتظام سنبھالنے کے لیے عملا کسی ایک کے پاس جمع کروایا جاتا ہو ، نیز اگرچہ ان کمائیوں میں باغ کی کمائی بھی شامل ہے لیکن چونکہ صرف زمین وراثت کی تھی کمائی بھائیوں کی محنت سے حاصل ہوئی ہے اس لیے زمین تو ماں اور بہنوں سمیت تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے بقدر تقسیم ہوگی باقی کمائی صرف بھائیوں میں مشترک شمار ہوگی اور ان میں برابر تقسیم ہوگی اور چونکہ دیگر ورثاء نے زمین استعمال کرنے پر کوئی اعتراض نہیں کیا تو اسے ان کی طرف سے دلالۃ اجازت سمجھا جائے گا ، اس تفصیل کے مطابق آپ کے سولات کے جوابات حسب ذیل ہیں :
1۔ ان دو پڑھنے والے بھائیوں کا بھی باقی چار بھائیوں کی کمائی میں حصہ ہے اور ایک بھائی کی دکان اور دوسرے کی پراپرٹی (جائیداد) بھی تقسیم کے وقت سب میں تقسیم ہوگی۔
2۔ سب بھائیوں پر لازم ہوگی۔
3۔تب بھی یہی حکم ہے جو پہلے مذکور ہوا۔
4۔ معمولی مقدار یعنی جتنی عرفا اجازت ہوتی ہے وہ استعمال کر سکتے ہیں اس سے زائد کے لیے بھائیوں کو یا اگر کوئی ایک بڑا بھائی جو نگران ہو اسے بتانا ضروری ہوگا ۔
5۔ اس میں آپ کے علاقے کا جو عرف ہو اس کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے۔
6۔ تاوان سب پر آئے گا چاہے نقصان کسی ایک کی وجہ سے ہو۔
تنقیح الحامدیہ (ص 95) میں ہے:
سئل في اخوة خمسة تلقوا تركة عن ابيهم فاخذوا في الاكتساب والعمل فيها جملة علي قدر استطاعته في مدة معلومة وحصل ربح في المدة وورد علي الشركة غرامة دفعوها من المال فهل تكون الشركة وما حصلوا بالاكتساب بينهم سوية وان اختلفوا في العمل والراي كثرة وصوابا
الجواب : نعم اذ كل واحد منهم يعمل لنفسه واخوته علي وجه الشركة
مجلۃ الاحکام (1/96) میں ہے:
المعروف عرفا كالمشروط شرطا أى المعروف المعتاد بين الناس وان لم يذكر صريحا فهو بمنزلة الصريح لدلالة العرف عليه
شامی (6/484) میں ہے:
فان جني ثم عقل عنه تقرر ارثه له لان الغنم بالغرم
امداد الفتاوی(8/129)میں ہے
سوال: ایک استفتا آیا ہے جس کا جواب یہ سمجھ میں آتا ہے لیکن دو متضاد روایات قیل قیل کر کے لکھا ہے کس کو ترجیح دی جاوے۔شامی، فاروقی ص:349، فصل فى الشركة الفاسدة [تنبيه] يؤخذ من هذا ما أفتى به في الخيرية في زوج امرأة وابنها اجتمعا في دار واحدة وأخذ كل منهما يكتسب على حدة ويجمعان كسبهما ولا يعلم التفاوت ولا التساوي ولا التمييز.فأجاب بأنه بينهما سوية.چند سطر کے بعد لکھا ہے: فقيل هي للزوج وتكون المرأة معينة له، إلا إذا كان لها كسب على حدة فهو لها، وقيل بينهما نصفان.
الجواب: میرے نزدیک ان دونوں روایتوں میں تضاد نہیں، وجہ جمع یہ ہے کہ حالات مختلف ہوتے ہیں جن کی تعیین کبھی تصریح سے کبھی قرائن سے ہوتی ہے، یعنی کبھی تو مراد اصل کاسب ہوتا ہے اور عورت کے متعلق عرفا کسب ہوتا ہی نہیں وہاں تو اس کو معین سمجھا جاوے گا اور کہیں گھر کے سب آدمی اپنے اپنے لیے کسب کرتے ہیں، جیسا کہ اکثر بڑے شہروں میں مثل دہلی وغیرہ کے دیکھا جاتا ہے وہاں دونوں کاسب قرار دے کر عدم امتیاز مقدار کے وقت علی السویہ نصف نصف کا مالک سمجھا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved