- فتوی نمبر: 32-180
- تاریخ: 04 اپریل 2026
- عنوانات: مالی معاملات > اجارہ و کرایہ داری > اجارہ علی الطاعات
استفتاء
بندہ ایک مدرسہ کی شوریٰ کا رکن ہے ۔ہمارے ہاں شعبہ حفظ میں 600 طلباء زیر تعلیم ہیں جن کو مسجد کی بیسمنٹ میں پڑھایا جاتا ہے جو کہ مسجد کا ہی حصہ ہے اور فوری طور پر ہمارے پاس متبادل جگہ کا انتظام نہیں ہے ۔ طلباء سے فیس بھی وصول کی جاتی ہے اور وہ فیس مدرسہ کے فنڈ میں جمع ہو جاتی ہے پھر اسی فنڈ سے اساتذہ کو تنخواہیں دی جاتی ہیں ۔ مدرسہ کے فنڈ میں اجتماعی چندہ بھی ہوتا ہے اور اس فنڈ سے مدرسہ کے دیگر امور بھی انجام دئیے جاتے ہیں انہی امور میں سے ایک مصرف اساتذہ کی تنخواہ بھی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے لیے طلباء کو مسجد میں پڑھانے کی گنجائش ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں طلباء کو مسجد میں پڑھانے کی گنجائش ہے بشرطیکہ طلباء مسجد کے احترام کا خیال رکھتے ہوں ۔
توجیہ:اگرچہ حضرات فقہائے کرام نے مسجد میں اجرت لیکر پڑھانے کومکروہ لکھا ہے لیکن اس سے وہ صورت مراد ہے جس میں پڑھانے والا طلباء سے اپنی ذات کے لیے اجرت لے۔ مذکورہ صورت میں طلباء سے جو فیس لی جاتی ہے وہ پڑھانے والا یا خود مدرسے والے اپنی ذات کے لیے نہیں لیتے اس لیے یہ فیس لینا حضرات فقہائے کرام کی ذکر کردہ صورت میں داخل نہیں۔
شامی (9/707) میں ہے:
وفى الوهبانية قال:
ويفسق معتاد المرور بجامع … ومن علم الأطفال فيه ويوزر
(قوله ومن علم الأطفال إلخ) الذي في القنية: أنه يأثم ولا يلزم منه الفسق، ولم ينقل عن أحد القول به، ويمكن أنه بناء على أنه بالإصرار عليه يفسق. أفاده الشارح.
قلت: بل في التتارخانية عن العيون جلس معلم أو وراق في المسجد، فإن كان يعلم أو يكتب بأجر يكره إلا لضرورة وفي الخلاصة تعليم الصبيان في المسجد لا بأس به اهـ لكن استدل في القنية بقوله – عليه الصلاة والسلام – «جنبوا مساجدكم صبيانكم ومجانينكم»
قال الرافعى: ذكر ابن وهبان فى شرحه ان وجه عدم جواز المرور بالجامع انه لم يبن له وانما بنى للصلاة وذكر العلم وقراءة القرآن وان وجه عدم تعليم الصبيان فيه ما يبدو منهم من العفاشة والقذارة وعدم الاحترام والتشويش على المصلين وكل ذلك مما ينبغى ان تصان عنه المساجد ولا يخفى ان ما ذكره من التوجيه يفيد الفسق فى مسألة التعليم بالاولى.
ہندیہ (5/321) میں ہے:
ولو جلس المعلم في المسجد والوراق يكتب، فإن كان المعلم يعلم للحسبة والوراق يكتب لنفسه فلا بأس به؛ لأنه قربة، وإن كان بالأجرة يكره إلا أن يقع لهما الضرورة.
المحیط البرہانی(5/319) میں ہے:
وفي كراهية «العيون» : معلم جلس في المسجد، أو وراق كتب في المسجد، فإن كان المعلم يعلم بأجر، والوراق يكتب لغيره بأجر يكره إلا أن تقع لهما الضرورة.
فتح القدیر (1/435) میں ہے:
والذي يكتب إذا كان بأجر يكره وبغير أجر لا يكره، هذا إذا كتب العلم والقرآن لأنه في عبادة، أما هؤلاء المكتبون الذين تجتمع عندهم الصبيان واللغط فلا لو لم يكن لغط لأنهم في صناعة لا عبادة، إذ هم يقصدون الإجادة ليس هو لله بل للارتزاق، ومعلم الصبيان القرآن كالكاتب إن كان لأجر لا، وحسبة لا بأس به. ومنهم من فصل هذا إن كان لضرورة الحر وغيره لا يكره وإلا فيكره، وسكت عن كونه بأجر أو غيره، وينبغي حمله على ما إذا كان حسبة، فأما إن كان بأجر فلا شك في الكراهة، وعلى هذا فإذا كان حسبة ولا ضرورة يكره لأن نفس التعليم ومراجعة الأطفال لا تخلو عما يكره في المسجد.
البحر الرائق (5/270) میں ہے:
لو علم الصبيان القرآن في المسجد لا يجوز ويأثم وكذا التأديب فيه أي لا يجوز التأديب فيه إذا كان بأجر وينبغي أن يجوز بغير أجر وأما الصبيان فقد قال النبي – صلى الله عليه وسلم – «جنبوا مساجدكم صبيانكم ومجانينكم» وكذا لا يجوز التعليم في دكان في فناء المسجد هذا عند أبي حنيفة وعندهما يجوز إذا لم يضر بالعامة .
چنانچہ امداد الاحکام (3/623) میں ہے:
سوال: مدارس میں فیس داخلہ اور فیس ماہواری طلبہ سے لینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: جائز ہے کیونکہ یہ اجرت نہیں بلکہ چندہ ہے اور چندہ میں شرط جائز ہے کیونکہ اس سے جبر لازم نہیں آتا جس کو شرط منظور نہ ہوگی اس کو عدم داخلہ کا اختیار ہوگا۔
ودليله انه صلى الله عليه وسلم قال لمن اضافه وعائشة رضى الله عنه قال لا قال فلا اذن حتى قال فى الثالثة وعائشة رضى الله قال فنعم.
فتاویٰ قاسمیہ (18/432) میں ہے:
سوال: کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں :کہ ایک مسجد کے اندر تعلیم قرآن کا سلسلہ چند ماہ سے چل رہاہے، اس کی تفصیل یہ ہے۔
(۱)اس کاقیام مسجد کے اندر کیاگیاہے، باہر کسی اورجگہ بالکل کوئی نظام نہیں ہے۔
(۲) اس کو فروغ دینے اور سنبھالنے کیلئے محلہ والوں نے ایک مستند ومشاق قاری وعالم دین کو بٹھارکھا ہے۔
(۳)پڑھنے والے طلبہ پر ماہانہ فیس مقرر کردی گئی ہے، اور یہ طلبہ بخوشی ادا کرتے ہیں ، او ر یہی درحقیقت معلم صاحب کی تنخواہ کا واحد ذریعہ ہے، چندہ وغیرہ کا کوئی سلسلہ نہیں رکھا گیا ہے، اب ہم آپ سے یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں ، کہ کیا یہ نظام شرعی نقطۂ نظر سے صحیح ہے یانہیں ؟ بعض حضرات کا یہ کہنا ہے کہ مسجد کے اندر فیس لیکر تعلیم دینا جائز نہیں ہے، لہٰذا آپ فیصلہ فرمادیں نیز یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں ، کہ اگر کوئی شخص اس عمل میں دخل اندازی کرکے، نظام کو بند کرانا چاہتاہے، بلاوجہ طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالتاہے، تو شرعاً ا س کے بارے میں کیاحکم ہے ۔مفصل بیان فرمائیں ؟
الجواب:اس مسئلہ کے بارے میں کتب فقہ میں اس بات کی صراحت ہے کہ مسجد میں بلاضرورت درس وتدریس کاکام کرنا مکروہ ہے اور ضرورت کی وجہ سے مسجد کے اندر درس دینے کی گنجائش ہے ، فقہاء نے شدت گرمی کی علت جگہ جگہ لکھی ہے کہ گرمی سے بچنے کیلئے ضرورۃً مسجد میں درس دینا بلاکراہت جائز ہے، اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے، کہ اگر دینی تعلیم اور قرآن کریم کی تعلیم کیلئے کوئی جگہ ہی نہ ہو تو مجبوراً مسجد میں تعلیم دینایہ بھی اہم ترین ایک ضرورت ہے ، اور فتاویٰ بزازیہ میں ایک جگہ اجرت اور فیس لے کر کے درس دینے کو مکروہ لکھاہے، اب دونوں قسم کی عبارات کے درمیان تطبیق اورموافقت کی بہتر شکل یہی معلوم ہو تی ہے،کہ جس طرح بغیر اجرت کے حسبۃً ﷲ مسجد کے اندر درس دینا بلاکراہت جائز ہے، اسی طرح تنخواہ دار معلم جو براہ راست بچوں سے فیس نہیں لیتے ان کے لئے بھی بچوں کو مسجد میں درس دینا بلاکراہت جائز ہے، اور بچوں سے فیس لے کر ٹیوشن پڑھانا مکروہ تنزیہی او رخلاف اولیٰ ہے، لہٰذا مذکورہ مسئلہ میں مناسب شکل یہ ہے کہ جن بچوں کو پڑھایاجاتاہے، دوسرے آدمی ان بچوں سے فیس وصول کرلیں پھر بچوں کو پڑھانے والے معلم کو ہر مہینہ تنخواہ کے طور پر دیاجائے تو کراہت بھی ختم ہوجائیگی، ایسی صورت میں فقہاء کی دونوں قسم کی عبارتوں کے درمیان کا تعارض بھی ختم ہوجاتاہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved