- فتوی نمبر: 34-252
- تاریخ: 06 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > نکاح کا بیان > جن عورتوں سے نکاح جائز ہے
استفتاء
اگر کسی شخص (زانی) نے کسی خاتون (مزنیہ) کی بیٹی سے نکاح کیا، بعد میں معلوم ہوا کہ زنا کا تعلق اس کی والدہ (مزنیہ) سے تھا، اس لیے اس بیٹی سے نکاح شرعاً منعقد ہی نہیں ہوا۔اب سوال یہ ہے کہ جب زانی نے مزنیہ کی بیٹی سے صرف نکاح کیا ہو، اور اس کے ساتھ خلوت یا جماع نہ کیا ہو، تو کیا اب وہ اس مزنیہ سےنکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟
وضاحت مطلوب ہے: کیا یہ معلوماتی سوال ہے یا کوئی واقعہ پیش آیا ہے؟
جواب وضاحت: اصول الشاشی پڑھاتے وقت طالب علم نے پوچھ لیا میں نے اسے کہا کہ بعد میں بتا دوں گا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں زانی شخص کا مزنیہ عورت سے نکاح کرنا درست ہے۔
توجیہ : مذکورہ صورت میں چونکہ مزنیہ کی بیٹی سے صرف نکاح ہوا تھا، جماع یا دواعی جماع کا وقوع نہیں ہوا تھا اور نکاح بھی صحیح نہیں تھا بلکہ فاسد تھا لہذا اس نکاح کی وجہ سے خود مزنیہ حرام نہ ہوگی اور اس مزنیہ سے نکاح کرنا درست ہوگا۔
شامی (3/ 30) میں ہے:
(و) حرم المصاهرة (بنت زوجته الموطوءة وأم زوجته) وجداتها مطلقا بمجرد العقد الصحيح (وإن لم توطأ) الزوجة لما تقرر أن وطء الأمهات يحرم البنات ونكاح البنات يحرم الأمهات.
(قوله: الصحيح) احتراز عن النكاح الفاسد، فإنه لا يوجب بمجرده حرمة المصاهرة بل بالوطء أو ما يقوم مقامه من المس بشهوة والنظر بشهوة؛ لأن الإضافة لا تثبت إلا بالعقد الصحيح بحر أي الإضافة إلى الضمير في قوله تعالى – {وأمهات نسائكم} [النساء: 23] أو في قوله وأم زوجته ويوجد في بعض النسخ زيادة قوله فالفاسد لا يحرم إلا بمس بشهوة ونحوه
فتاویٰ قاضیخان (1/326) میں ہے:
رجل تزوج إمرأة ثم طلقها قبل الدخول وتزوج بابنتها فجاءت الام بولد لاقل من ستة اشهرمن وقت الطلاق فنفاه، قال أبويوسف رحمه الله بانت منه امرأته وله ان يتزوج الام بعد ذلك ولا يمنعه عن ذلك زعمه ان نكاح البنت كان جائزا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved