- فتوی نمبر: 34-205
- تاریخ: 16 دسمبر 2025
- عنوانات: عبادات > زکوۃ و صدقات > مصارف زکوۃ کا بیان
استفتاء
اگر نابالغ بچہ اپنے صاحب نصاب والد کی پرورش میں نہ ہو تو کیا اب بھی اس کے حق میں والد کا غنی ہونا غنا شمار ہوگا؟ اور کن وجوہ کی بنیاد پر نابالغ بچہ اپنے والد کے غنا سے نکل جاتا ہے؟
وضاحت مطلوب ہے: 1۔ بچے کا والد نفقہ ادا کرتا ہے یا نہیں؟ اگر نہیں کرتا تو اس کی وجہ؟ کیا اس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بچے کا نفقہ دے یا مطالبہ نہیں کیا گیا؟ 2۔کیا بچہ سمجھدار ہے؟ ملکیت اور قبضہ کو سمجھتا ہے یا نہیں؟ 3۔ بچے کے اور کون کون سے قریبی رشتہ دار موجود ہیں نیز کوئی اور( والدین یا کوئی اور رشتہ دار) بھی بچے کی پرورش کرنا چاہتا ہے یا نہیں؟4۔ بچے کی ملکیت میں مال ہے؟
جواب وضاحت:1۔ نفقہ ادا نہ کرنے کی وجہ متعنت ہونا ہے ۔2۔ بچہ سمجھ نہیں رکھتا ۔3۔ چچا کے علاوہ کوئی اور پرورش نہیں کر رہا ۔4۔ مال نہیں ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔ مذکورہ صورت میں بھی اصح قول کے مطابق یہ بچہ اپنے والد کے غنی ہونے کی وجہ سے غنی شمار ہوگا۔
2۔اصح قول کے مطابق ایسی کوئی وجہ نہیں کہ جس کی وجہ سے بچہ اپنے والد کے غنی ہونے کے باوجود غنی شمار نہ ہوتا ہو، تاہم اگر بچے کا والد اس کا خرچہ برداشت نہ کر رہا ہو اور نہ عزیز و اقارب میں سے کوئی اور اس کا خرچہ برداشت کر رہا ہو اور نہ ہی زکوٰۃ وصدقات واجبہ کی تملیک شرعی کرواکر اس کی کفالت کا کوئی نظم بن رہا ہو تو ایسی مخصوص صورتحال میں خلاف اصح قول پر عمل کرتے ہوئے زکوۃ و صدقات واجبہ سے اس کی ضروری کفالت کی حد تک نظم بنایا جا سکتا ہے۔
فتاوى شامی (3/349 )میں ہے:
“(و) لا إلى (طفله) بخلاف ولده الكبير.
(قوله: ولا إلى طفله) أي الغني فيصرف إلى البالغ ولو ذكرا صحيحا قهستاني، فأفاد أن المراد بالطفل غير البالغ ذكرا كان أو أنثى في عيال أبيه أولا على الأصح لما أنه يعد غنيا بغناه نهر.
المحیط البرہانی (2/283) میں ہے:
ولا يعطي منها [الزكاة] غنيا ولا ولد غني إذا كان صغيرا، وإن كان كبيرا فقيرا جاز الدفع إليه، وهذا لأنه إذا كان صغيرا يعد غنيا بمال أبيه؛ لأن كفايته عليه، ولا كذلك ما إذا كان كبيرا، فهو ليس بغني بغنى الأب؛ لأن كفايته ليس على الأب هكذا. ذكر القدوري في «كتابه».
وبعض مشايخنا ذكروا في «شرح الجامع الصغير» خلافا في المسألة، فذكر أن على قول أبي حنيفة يجوز الدفع إلى أولاد الأغنياء إذا كانوا فقراء صغارا كان الأولاد، أو كبارا، وعلى قول أبي يوسف ومحمد يجوز الدفع إلى الكبار، ولا يجوز الدفع إلى الصغار، وبه أخذ جلال الرازي، وجه قولهما ما ذكرنا.
وجه قول أبي حنيفة أنهم فقراء حقيقة، ووجوب النفقة على غيرهم يدل على فقرهم لا على غناهم؛ لأن الغني لا يستوجب النفقة على الغير
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved