- فتوی نمبر: 34-361
- تاریخ: 09 اپریل 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > عملیات، تعویذات اور جادو و جنات
استفتاء
“ناد ابوبكر حل المشكلات دافع البلاء والوباء والآفات يسر لى كل عسر واغننى من الفقر بقدرتك يا الله وبنبوتك يا محمدوبخلافتك يا ابو بكر ابو بكر ابوبكر”
کیا یہ وظیفہ پڑھ کر دعا مانگنا جائز ہے ؟یا پھر روزانہ کچھ مخصوص عدد میں پڑھنا جائز ہے؟ یہ پڑھنے سے کوئی شرکیہ عقائد کا خطرہ تو نہیں ہوتا؟ حکیم طارق چغتائی صاحب نے اپنی کتاب “70دکھ ایک تعویذ “میں درج بالا وظیفہ ذکر کیا ہے اورحوالہ میں مختلف کتب مثلا تالیفات ابن عساکر ،المجمع المؤسس للمعجم المفہرس وغیرہ کا نام بھی ذکر کیا ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ بالا وظیفہ پڑھ کر دعا مانگنا جائز نہیں اور نہ ہی مذکورہ وظیفہ پڑھنا جائز ہے خواہ روزانہ پڑھا جائے یا کبھی کبھار۔ نیز مخصوص عدد میں پڑھا جائے یا بغیر مخصوص عدد کے پڑھا جائے کیونکہ اس میں ایک تو نداء للغائب ہے اور دوسرے غائب سے طلب استعانت ہے اور ان دونوں امور کا جواز یعنی نداء للغائب اور غائب سے طلب استعانت کا جواز نص پر موقوف ہے اور نص اس بارے میں مفقود ہے اور بغیر نص کے غائب کے سننے کا اعتقاد اور غائب کے مدد کرنے کا اعتقاد شرکیہ کاموں میں سے ہے۔
نوٹ:مذکورہ کتب میں حوالہ کے طور پر جن کتابوں کا نام درج ہے ان کتب میں یہ وظیفہ ہمیں نہیں ملا لہٰذا اگر سائل ان کتابوں کے متعلقہ صفحات کی تصاویر ارسال کرے تو ان کو سیاق و سباق سمیت دیکھ کر کوئی رائے قائم کی جا سکتی ہے ۔
امداد الفتاویٰ (5/369) میں ہے:
الجواب :جو استعانت و استمد اد بالمخلوق با عتقاد علم و قدرت مستقل مستمد منہ ہو شرک ہے۔ اور جو باعتقاد علم و قدرت غیر مستقل ہو مگر وہ علم و قدرت کسی دلیل صحیح سے ثابت نہ ہو معصیت ہے، اور جو با اعتقاد علم و قدرت غیر مستقل ہو اور وہ علم و قدرت کسی دلیل سے ثابت ہو جائز ہے، خواہ وہ مستمدمنہ حی ہو یا میت اور جو استمداد بلا اعتقاد علم و قدرت ہو نہ مستقل نہ غیر مستقل، پس اگر طریق استمد او مفید ہو تب بھی جائز ہے جیسے استمداد بالنار والماء والواقعات التاریخیہ ، ورنہ لغو ہے۔
یہ کل پانچ قسمیں ہیں ، پس استمداد ارواح مشائخ سے صاحب کشف الارواح کیلئے قسم ثالث ہے اور غیر صاحب کشف کے لئے محض ان حضرات کے تصور اور تذکر سے قسم رابع ہے، کیونکہ اچھے لوگوں کے خیال کرنے سے ان کو اتباع کی ہمت ہوتی ہے اور طریق مفید بھی ہے، اور غیر صاحب کشف کیلئے قسم خامس ہے۔
کفایت المفتی (9/78) میں ہے:
عملیات جبکہ جائز طریقے سے کیے جائیں ان کا کرنا جائز ہے ضروری ہے کہ ان میں غیر اللہ سے استمداد اور غیر معلوم المعنی الفاظ اور غیر اللہ کے لیے نذروبھینٹ نہ ہو۔
فتاوی محمودیہ(20/92) میں ہے:
سوال:” ناد علی” کے نام سے مشہور ایک عمل عملیات کی کتابوں میں ہے کیا اس کو بطور وظیفہ کے پڑھنا جائز ہے؟
ناد علی یہ ہے: ناد عليا مظهر العجائب وتجده عونا لك في النوائب كل هم وغم سینجلي بنبوتک يا محمد وبولایتك يا علي يا علي يا علي.
جواب : نادِ علی کا وظیفہ پڑھنا غلط ہے، خلاف شرع ہے اس کو ہرگز نہ پڑھا جائے۔
خیر الفتاوی(1/342) میں ہے:
سوال: بعض لوگ مصائب و پریشانیوں میں “ناد علیا مظھر العجائب” کا وظیفہ پڑھتے ہیں۔ شرعااس کا پڑھنا کیسا ہے ؟
جواب: حل مشکلات اور دفع مصائب کے لیے احادیث میں اور بہت سے زود اثر وظائف موجود ہیں۔ علماءو محدثین سے پوچھ کر ان کا ورد کیا کریں۔ ایہام شرک کی وجہ سے نادعلیا کا وظیفہ پڑھنا جائز نہیں۔
عملیات وتعویذات کے شرعی احکام از افادات حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ(96) میں ہے:
یاد رکھو نادِ علی کا مضمون بھی شرک ہے۔ اسے چھوڑنا چاہیے اس لیے کہ وہ مضمون یہ ہے:
ناد عليا مظهر العجائب تجده عونا لك في النوائب
كل هم وغم سينجلى يا محمد بنبوتك وبولايتك يا على يا على يا على
بعضے سنی بھی اسے بڑے شوق سے گلے میں ڈالتے ہیں، سو یہ جائز نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved