• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

نابالغ بچے کی طلاق

استفتاء

طلاق نامہ

میں مسمی*** ولد ***نے اپنے لڑکے***ہ کا نکاح***دختر*** ولد*** سے سن بلوغت سے پہلے کیا تھا۔ لیکن اب*** بالغ ہے  اور میرا لڑکا ***بالغ نہ ہے۔ لہذا  میں مسمی*حلفا تحریرا بغیر حیل حجت بلامعاوضة اللہ پا ک کی رضا کے لیے طلاق لکھ کر دیتاہوں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

نابالغ بچہ (اگر چہ بلوغت کے قریب ہو) نہ خود طلاق دے سکتاہے اور نہ ہی اس کا ولی ، لہذا مذکورہ صورت میں طلاق واقع نہیں ہوئی۔

لا يقع طلاق المولى على امرأة عبده…والمجنون …(والصبي) ولو مراهقاً أو أجازه بعد البلوغ.شامي ص:438ج:4

وتصرف الصبي والمعتوه…إن كان نافعا محضاً كالإسلام واتهاب صح بلا إذن…وإن ضارا كالطلاق والعتاق …لا وإن أذن به وليهما…قال الشامي تحته لا شتراط الأهلية الكاملة…وكذا لا تصح من غيره كأبيه ووصيه والقاضي للضرر قلت ومواضع الضرورة مستثناة عن قواعد الشرع كما لو كان مجبوباً أو ارتد أو أسلمت امرأته وأبى الإسلام.   شامی،5/ 121۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved