- فتوی نمبر: 30-353
- تاریخ: 21 اپریل 2024
- عنوانات: مالی معاملات
استفتاء
میری پرچون کی دکان ہے جس میں جس طرح بالغ افراد سودا لینے آتے ہیں اسی طرح نابالغ بچے بھی آتے ہیں تو کیا بچوں کے سودا کرنے سے خرید وفروخت درست ہوجاتی ہے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اس کا دارومدار اس پر ہے کہ جو چیز بچہ خریدنے آیا ہے اس چیز کے بارے میں اگر غالب گمان یہ ہو کہ اس چیز کے خریدنے کی بچے کے ولی (سرپرست) کی طرف سے اجازت ہے تو ایسی چیزیں بچوں کو فروخت کرنا جائز ہے اور جس چیز کے بارے میں غالب گمان یہ ہو کہ بچے کے ولی ( سرپرست) کی طرف سے اس چیز کو خریدنے کی اجازت نہیں تو ایسی چیز بچے کو فروخت کرنا جائز نہیں۔
ہندیہ (3/154) میں ہے:
ومن البيع الموقوف بيع الصبي المحجور الذي يعقل البيع والشراء يتوقف بيعه وشرائه على اجازة والده او وصيه او جده او القاضي
التجرید للقدوری(5/202) میں ہے:
واما الصبي اذا باع فيقف عقده على اجازة وليه فان بلغ قبل الفسخ جاز العقد من جهته
البحر الرائق (3/279) میں ہے:
وليس من شرائط العاقد البلوغ فانعقد بيع الصبي وشرائه موقوفا على اجازة وليه ان كان شرائه لنفسه ونافذا بلا عهدة عليه ان كان لغيره
بدائع الصنائع(4/321) میں ہے:
ان يكون عاقلا فلا ينعقد بيع المجنون والصبي الذي لا يعقل لان اهلية المتصرف شرط انعقاد التصرف والاهليةلا تثبت بدون العقل فلا يثبت الانعقاد بدونه فاما البلوغ فليس بشرط لانعقاد البيع عندنا حتى لو باع الصبي العاقل مال نفسه ينعقد عندنا موقوفا على اجازة وليه وعلى اجازة نفسه بعد البلوغ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved