• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

نفع لینے کی حد

استفتاء

ہم مارکیٹ میں ہوتے ہیں، ایک مسئلے میں شک ہے۔ وہ یہ ہے کہ کسی چیز پر منافع لینے کی کیا حد ہے 10 فیصد، 20 فیصد یا کوئی حد مقرر نہیں؟ براہ مہربانی جواب عنایت فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

جن چیزوں کا ریٹ مارکیٹ میں مقرر ہے ان کو مارکیٹ ریٹ پر فروخت کرے ۔ اور جن چیزوں کا ریٹ مقرر نہیں ہے ان میں فریقین کی رضامندی سے جو طے ہو جائے اسی پر فروخت کرے۔ لیکن اس میں ایک تو انسانی اور اسلامی ہمدردی کا خیال رکھا جائے اور دوسرے خریدار کے سیدھے پن اور بھولے پن  کو دیکھ کر کسی چیز کا اتنا ریٹ نہ لگایا جائے کہ اس چیز کے بارے میں سمجھ بوجھ رکھنے والوں میں سے کوئی بھی اس کا اتنا ریٹ دینے پر آمادہ نہ ہو۔

في سنن ابن ماجة (276):

عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال غلا السعر على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالوا يا رسول الله! قد غلا السعر فسعّر لنا فقال إن الله هو المسعر القابض الباسط الرزاق إني لا أرجوا أن ألقي ربي و ليس أحد يطلبني بمظلمة في دم و لا مال.

و في رد المحتار (6/ 400):

و لا يسعر حاكم: إلا إذا تعدى الأرباب على القيمة تعدياً فاحشاً فيسعر بمشورة أهل الرأي.

وفي تبيين الحقائق (7/ 28):

و لا يسعر إلا إذا أبوا أن يبيعوه إلا بغبن فاحش ضعف القيمة و عجز عن صيانة حقوقهم إلا به فلا بأس بمشورة أهل الرأي.

و في البحر الرائق (8/ 71- 370):

و لا يسعر السلطان إلا أن يتعدى أرباب الطعام عن القيمة تعدياً فاحشاً … و الغبن الفاحش هو أن يبيعه بضعف قيمته.

و في شرح المجلة (2/ 335، الغبن الفاحش):

الغبن الفاحش هو ما لا يدخل تحت تقويم المقومين هو الصحيح كما في البحر و ذلك كما لو وقع البيع بعشرة مثلاً ثم أن بعض المقومين يقول إنه يساوي خمسة دراهم و بعضهم ستة و بعضهم سبعة فهذا غبن فاحش لأنه لم يدخل تحت تقويم أحد بخلاف ما إذا قال بعضهم ثمانية و بعضهم تسعة و بعضهم عشرة فهذا غبن يسير……………….. فقط و الله تعالى أعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved