• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

نوافل میں جہراً قراءت کا حکم

استفتاء

نوافل یعنی اشراق، چاشت، اوابین اور تہجد وغیرہ میں جہراً قراءت کرنا کیسا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

دن کے نوافل میں  سراً قراءت کرنی چاہیے جہراً قراءت مکروہ ہےالبتہ رات کے نوافل میں اختیار ہے چاہے سراً کرے یا جہراً کرے لہذا اشراق اور چاشت کے نوافل میں جہراً قراءت مکروہ ہے اور اوابین اور تہجد کے نوافل میں اختیار ہے۔

الفتاوی العالمگیریۃ، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع فی صفۃ الصلاۃ، الفصل الثانی فی واجبات الصلاۃ (طبع: مکتبہ رشیدیہ، جلد نمبر 1صفحہ نمبر144)  میں ہے:

"وأما نوافل النهار فيخفي فيها حتما وفي نوافل الليل يتخير كذا في الزاهدي”

الھدایۃ، کتاب الصلاۃ، فصل فی القراءۃ (طبع: مکتبہ المصباح لاہور، جلد نمبر 1 صفحہ نمبر116) میں ہے:

"وفي التطوع بالنهار يخافت، وفي الليل يتخير اعتبارا بالفرض في حق المنفرد، وهذا لأنه مكمل له فيكون تبعاً”

غنیۃ المتملی (الحلبی الکبیر)، مسائل شتی(طبع: سہیل اکیڈمی لاہور، صفحہ نمبر 618) میں ہے:

"ويكره له الجهر في نوافل النهار ايضا”

فتاوی محمودیہ،کتاب ، باب السنن والنوافل (طبع: جامعہ فاروقیہ کراچی، جلد نمبر 7صفحہ نمبر236 ) میں ہے:

"سوال(۳۳۴۷): اگر تہجد فوت ہو جائے اور دن میں اس کے بجائے کچھ نفلیں پڑھ لے تو آیا جماعت بھی نفلوں کے لئے کر سکتا ہے یا نہیں اور جہراً بھی پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟

الجواب حامدا و مصلیا: ۔۔۔۔ دن میں نفلیں جہر سے پڑھنا مکروہ ہے”

مسائل بہشتی زیور،حصہ اول: عبادات،  باب ۱۱: نماز پڑھنے کا طریقہ،قراءت (طبع: مجلس نشریات اسلام کراچی ، جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 168) میں ہے:

” مسئلہ:جو نفل نمازیں دن کو پڑھی جائیں ان میں آہستہ آواز سے قراء ت کرنا چاہیے اور جو نفلیں رات کو پڑھی جائیں ان میں اختیار ہے”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved