• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

نجاست غلیظہ سے متعلق

استفتاء

اگر نجاست غلیظہ میں سے گاڑھی چیز لگ جائے جیسے پاخانہ اور مرغی وغیرہ کی بیٹ تو اگر وزن میں ایک درہم یعنی ساڑھے چار ماشہ یعنی 4.35گرام یا اس سے کم ہو تو دھوئے بغیر نماز درست ہے۔ اگرچہ اس کا پھیلاؤ کم ہو یا زیادہ ہو اور اگر اس سے زیادہ وزن کی لگ جائے تو دھوئے بغیر نماز درست نہیں ۔

مسائل بہشتی زیور میں درہم کی مقدار ساڑھے چار ماشہ ہے تو پوچھنا یہ تھا کہ درہم کی یہ مقدار کس اعتبار سے ہے ؟  اوزان شرعیہ میں اس کے خلاف (ساڑھے تین ماشہ کا) ذکر ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

درہم کی  یہ مقدار “الدرہم  الکبیر” کے اعتبار سے ہے جو کہ ایک مثقال( ساڑھے چار ماشہ)کے برابر ہوتا ہے اور درہم کی جو مقدار اوزان شرعیہ میں مذکور ہے وہ عام درہم کے اعتبار سے ہے جو تین ماشہ ایک رتی اور رتی کے  پانچویں حصہ کے برابر ہےاور نجاست کے باب میں “الدرہم الکبیر” کا اعتبار ہے نہ کہ عام درہم کا۔

نوٹ: اوزان شرعیہ میں عام درہم کی مقدار ساڑھے تین ماشہ مذکور نہیں ہے بلکہ وہ ہے جو ہم نے ذکر کی یعنی تین ماشہ ایک رتی اور ایک رتی کا پانچواں حصہ۔

بدائع الصنائع (1/80) میں ہے:

وأما ‌النجاسة ‌الكثيرة فتمنع جواز الصلاة، واختلفوا في الحد الفاصل بين القليل والكثير من النجاسة قال إبراهيم النخعي: إذا بلغ مقدار الدرهم فهو كثير وقال الشعبي: لا يمنع، حتى يكون أكثر من قدر الدرهم الكبير.

وهو قول عامة العلماء، وهو الصحيح؛ لما روينا عن عمر – رضي الله عنه – أنه عد مقدار ظفر من النجاسة قليلا، حيث لم يجعله مانعا من جواز الصلاة، وظفره كان قريبا من كفنا فعلم أن قدر الدرهم عفو؛ ولأن أثر النجاسة في موضع الاستنجاء عفو، وذلك يبلغ قدر الدرهم خصوصا في حق المبطون، ولأن في ديننا سعة، وما قلناه أوسع فكان أليق بالحنيفية السمحة، ثم لم يذكر في ظاهر الرواية صريحا أن المراد من الدرهم الكبير، من حيث العرض والمساحة، أو من حيث الوزن وذكر في النوادر: الدرهم الكبير: ما يكون عرض الكف وهذا موافق لما روينا من حديث عمر – رضي الله عنه – لأن ظفره كان كعرض كف أحدنا، وذكر الكرخي مقدار مساحة الدرهم الكبير، وذكر في كتاب الصلاة الدرهم الكبير المثقال فهذا يشير إلى الوزن

الجوہرۃ النیرۃ (1/37) میں ہے:

قوله: (مقدار الدرهم) يعنى المثقال

اوزان شرعیہ (ص:09)  میں ہے :

لیکن اختلاف یہاں سے پیدا ہوا کہ مولانا لکھنوی رحمہ اللہ نے ستر جو، جو مقدار درھم ہے اس کو دو ماشہ ڈیڑھ رتی قرار دیا اور جمہور علماء ہند نے تین ماشہ ایک رتی اور پانچواں حصہ رتی کا قرار دیا ۔اس طرح مثقال مولانا لکھنوی رحمہ اللہ کی تحقیق پر تین ماشہ ایک رتی کا ہوتا ہے۔اور جمہور کی تحقیق پر ساڑھے چار ماشہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved