- فتوی نمبر: 34-256
- تاریخ: 06 جنوری 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > سجدہ تلاوت کا بیان
استفتاء
میں مغرب کی سنتیں پڑھ رہا تھا جو سورت شروع کی اس میں متشابہ لگ گیا جس کی وجہ سے ایسی سورت پڑھی جس میں سجدہ تھا سجدہ کی آیت کی تلاوت کے بعد پانچ سے چھ آیات زیادہ پڑھ لیں پھر یاد آیا کہ میں نے تو دوسری سورت شروع کی تھی اس وقت وہ سورت شروع کر دی اور سنتیں اسی سورت پر ختم کیں لیکن آخری قعدہ میں میں نے سجدہ سہو کر کے نماز ختم کی۔ کیا ایسا کرنا میرا ٹھیک تھا یا نہیں؟ اس کے بارے میں میری رہنمائی فرمائیں مزید یہ کہ نماز کے ختم کے بعد میں نے سجدہ تلاوت کیا ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں آپ کا سجدہ سہو کرنا تو ٹھیک تھا تاہم نماز کے بعد سجدہ تلاوت کرنا کافی نہیں بلکہ یہ سجدہ تلاوت نماز کے اندر ہی کرنا ضروری تھا اور چونکہ نماز کے اندر آپ نے سجدہ تلاوت نہیں کیا اور نماز کے بعد کیا ہوا سجدہ تلاوت معتبر نہیں لہذا اب توبہ و استغفار کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں۔
حاشیہ ابن عابدين (2/ 109)میں ہے:
(وهي على التراخي) على المختار ويكره تأخيرها تنزيها، ويكفيه أن يسجد عدد ما عليه بلا تعيين ويكون مؤديا وتسقط بالحيض والردة (إن لم تكن صلوتية) فعلى الفور لصيرورتها جزءا منها ويأثم بتأخيرها ويقضيها ما دام في حرمة الصلاة ولو بعد السلام فتح.
وفي الشامية: (قوله ويأثم بتأخيرها إلخ) لأنها وجبت بما هو من أفعال الصلاة. وهو القراءة وصارت من أجزائها فوجب أداؤها مضيقا كما في البدائع ولذا كان المختار وجوب سجود للسهو لو تذكرها بعد محلها كما قدمناه في بابه عند قوله بترك واجب فصارت كما لو أخر السجدة الصلبية عن محلها فإنها تكون قضاء……… (قوله وإذا لم يسجد أثم إلخ) أفاد أنه لا يقضيها. قال في شرح المنية وكل سجدة وجبت في الصلاة ولم تؤد فيها سقطت أي لم يبق السجود لها مشروعا لفوات محله. اه
فتح القدیر (2/19) میں ہے:
لأنها صارت دينا في ذمته لفواتها عن محلها؛ لأنها لوجوبها بما هو من أفعال الصلاة التحقت بأفعال الصلاة شرعا بدليل وجوب أدائها في الصلاة من غير نقص فيها. وتحصيل ما ليس من الصلاة فيها إن لم يوجب فسادها يوجب نقصانها، وكذا لا تؤدى بعد الفراغ؛ لأنها صارت جزءا من الصلاة فلا تؤدى إلا بتحريمة الصلاة كسائر أفعالها، ومبنى الأفعال أن يؤدى كل فعل في محله المخصوص، فكذا هذه فإذا لم تؤد في محلها حتى فات صارت دينا، والدين يقضى بما له لا بما عليه والركوع والسجود عليه فلا يتأدى به الدين، بخلاف ما إذا لم تصر دينا؛ لأن الحاجة هناك إلى التعظيم عند تلك التلاوة وقد وجد في ضمنهما فكفى
امداد الفتاوی(1/424)میں ہے:
سوال : اگر امام نے سجدہ تلاوت نماز میں سہو کیا اور جب یاد آیا تو اسی رکعت میں یا دوسری رکعت میں ادا کیا پس سجدۂ سہو اس پر واجب ہوا یا نہیں اور اگر سجدہ تلاوت بعد فراغ نماز کے یاد آیا تو جبر اس نقصان کا کس طرح کرے آیا دوسرے شفع تراویح میں سجدہ تلاوت ادا کرے یا نماز کا مع قراءت وسجدہ تلاوت اعادہ کرے؟
الجواب : سجدہ تلاوت علی الفور واجب ہے اور معنی علی الفور کے یہ ہیں کہ دو یا تین آیت سے زیادہ فصل نہ ہو پس جب اپنے فعل سے سہوا ًتاخیر ہوگئی تو جب یاد آوے اس وقت ادا کرے اور بوجہ ترک واجب کے بناء بر مذہب مختار کے سجدہ سہو اس پر واجب ہوگا۔
وهي على التراخي ان لم تكن صلوية فعلى الفور لصيرورتها جزءا فيها وياثم بتاخيرها ويقضيها مادام في حرمة الصلوة ولو بعد السلام فتح .اه در مختار، قوله :فعلى الفور عدم طول المدة بين التلاوة والسجدة بقراءة أكثر من آيتين او ثلاث على ماسياتى حلية. قوله:ويأثم بتاخيرها ولذا كان المختار وجوب سجود السهو لو تذكرها بعد محلها كما قد مناه فى بابه عند قوله بترك واجب اه. رد المحتار.
اور اگر بعد فراغ یاد آیا سو اگر عمداً چھوڑا تھا تو اس کا تدارک بجز استغفار کے کچھ نہیں ، اور اگر سہواًچھوٹ گیا تھا سو اگر علی الفور اس شخص نے بعد تلاوت آیت سجدہ کے رکوع کر کے سجدہ نماز کا کیا تھا تب تو سجدہ تلاوت بھی ادا ہو گیا اگر چہ نیت نہ کی ہو اور اگر اس طرح ادا نہیں ہوا پس اگرکوئی عمل منافی نماز کے ہنوز صادر نہیں ہوا تو اس وقت ادا کر کے سجدہ سہو کرے ورنہ بجز استغفار کے کچھ چارہ نہیں اور اعادہ شفعہ سے کچھ نہیں ہوتا کیونکہ اگر اس میں سجدہ کیا بھی تو اس شفعہ اولی سے تو خارج ہے۔
ولو تلاها في الصلوة سجدها فيها لا خارجها لمامر و في البدائع واذا لم يسجد اثم فتلزمه التوبة درمختار ، قوله واذا لم يسجداثم الخ افاد انه لا يقضيها قال فى شرح المنية وكل سجدة وجبت في الصلوة ولم تؤد فيها سقطت اي لم يبق السجود لها لفوات محله اه. اقول وهذا اذا لم يركع بعدها على الفور والادخلت في السجود وان لم ينوها كما سياتي وهو مقيد ايضاً بما اذا تركها عمداً حتى سلم وخرج من حرمة الصلوة اما لوسهواً وتذكرها ولو بعد السلام قبل ان يفعل منافياً يأتى بها ويسجد للسهو كما قدمناه اه. رد المحتار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved