- فتوی نمبر: 31-310
- تاریخ: 11 جنوری 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > نماز میں قراءت کرنے کا بیان
استفتاء
1۔ نماز کی ایک ہی رکعت میں سورت فاتحہ کے بعد میں وہ سورتیں جو باہم متصل( جڑی) نہ ہوں یعنی ان کے درمیان ایک یا زیادہ سورتوں کا فاصلہ ہو،پڑھ سکتے ہیں ؟
2۔کیا ہر سورت کے شروع میں بسم اللہ پڑھیں گے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔فرض نماز میں یہ صورت مکروہ تنزیہی ہے البتہ نفل نمازمیں مکروہ نہیں۔
2۔ہر سورت کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا بہتر ہے۔
1۔شامی (2/330) میں ہے:
وهذا لو في ركعتين أما في ركعة فيكره الجمع بين سورتين بينهما سور أو سورة فتح. وفي التتارخانية: إذا جمع بين سورتين في ركعة رأيت في موضع أنه لا بأس به. وذكر شيخ الإسلام لا ينبغي له أن يفعل على ما هو ظاهر الرواية.
حاشیۃ الطحطاوی (ص:352) میں ہے:
والجمع بين سورتين أى في ركعة واحدة لا يكره هذا فى النفل يعنى القرأة منكوسا والفصل والجمع كما هو مفاد عبارة الخلاصة.
فتاویٰ دارالعلوم دیوبند (2/183) میں ہے:
سوال: عشاء یا صبح کی نماز میں امام ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھے تو کچھ کراہت تو نماز میں نہیں آتی؟
جواب: ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھنا خلاف اولیٰ ہے ،نماز ہوجاتی ہے اور خلاف اولیٰ سے مراد کراہت تنزیہی ہے۔
فتاویٰ محمودیہ(7/90) میں ہے:
سوال: اگرکوئی شخص کسی ایک رکعت میں کئی کئی سورتیں پڑھے مثلاً سورہ نباکے بعد قل ہواللہ پھرناس ،کیایہ جائز ہے؟
جواب: فرائض میں نامناسب نوافل میں مضائقہ نہیں۔
2۔حاشیہ ابن عابدین(2/235) میں ہے:
وذكر فى المحيط: المختار قول محمد وهو أن يسمى قبل الفاتحة وقبل كل سورة فى كل ركعة.
فتاویٰ محمودیہ (7/303) میں ہے:
سوال:دیگر اینکہ اگر ایک ہی رکعت میں کوئی شخص کئی سورۃ پڑھے تو ہرا یک سورۃ کے اول میں بسم اللہ پڑھنی چاہئے یا نہیں؟
جواب: اس میں چند اقوال ہیں پڑھنا بہتر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved