- فتوی نمبر: 32-187
- تاریخ: 05 اپریل 2026
- عنوانات: عبادات > متفرقات عبادات
استفتاء
1۔نماز میں دو سجدے کیوں ہیں؟
2۔جمعہ کے دن دو خطبوں کے درمیان بیٹھنا کیوں ضروری ہے؟ کسی نے مجھ سے پوچھاہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
2،1- اس بارے میں اصل تو یہ ہے کہ آپﷺ نے ہر رکعت میں دو سجدے کیے ہیں اور آپﷺ دو خطبوں کے درمیان بیٹھے ہیں، عمل کے لیے صرف اتنا ہی کافی ہے اگرچہ اس کی وجہ ہمیں معلوم نہ بھی ہو۔
تاہم بعض علماء نے اپنی رائے سے دو سجدوں کی ایک حکمت یہ بتائی ہے کہ ہر دو رکعت میں دو سجدے شیطان کو ذلیل کرنے کے لیے ہیں کہ اس نے ایک مرتبہ سجدہ نہیں کیا اور مسلمان ہر رکعت میں دو سجدے ادا کرتا ہے۔ اور ایک حکمت یہ بتائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام بنو آدم سے وعدہ لیتے وقت انہیں سجدے کا حکم فرمایا تو مسلمانوں نے سجدہ کیا ، جب انہوں نے سجدے سے سر اٹھا کر دیکھا کہ کافروں نے سجدہ نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اللہ کا حکم ماننے کے شکرانے کے طور پر دوسرا سجدہ کیا۔اور بعض حضرات فرماتے ہیں کہ نماز کی ہر رکعت میں دو سجدوں کی حکمت یہ ہے کہ پہلے سجدہ میں یہ اشارہ ہے کہ وہ مٹی سے پیدا ہوا ہے اور دوسرے سجدے میں یہ اشارہ ہے کہ اسی مٹی میں واپس جانا ہے۔
اسی طرح دو خطبوں کے درمیان بیٹھنے کی حکمت بعض علماء نے یہ بیان کی ہے کہ خطیب کو بیٹھنے کی وجہ سے تھوڑا آرام مل جائے اور سننے والوں کو خطیب کے بیٹھنے کی وجہ سے دوسرا خطبہ سننے کا نشاط اور تازگی پیدا ہوجائے۔
مراقی الفلاح( ص:126) میں ہے:
وحكمة تكرار السجود قيل تعبدي وقيل ترغيما للشيطان حيث لم يسجد مرة وقيل لما أمر الله بني آدم بالسجود عند أخذ الميثاق ورفع المسلمون رؤوسهم ونظروا الكفار لم يسجدوا خروا سجدا ثانيا شكرا لنعمة التوفيق وامتثال الأمر.
احکام اسلام عقل کی نظر میں ،از حکیم الامت اشرف علی تھانوی صاحبؒ(ص:63) میں ہے:
نماز میں دو سجدے مقرر ہونے کی وجہ: سجدہ اول نفس کو اس بات پر متنبہ کرنے کے لیے ہے کہ میں اس خاک سے پیدا ہوا ہوں اور دوسرا سجدہ اس بات پر دال ہے کہ میں اس خاک میں لوٹ جاؤں گا۔
احکام اسلام عقل کی نظر میں ،از حکیم الامت اشرف علی تھانوی صاحبؒ(ص:86) میں ہے:
نبی علیہ السلام نے جمعہ کے دو خطبوں کے درمیان جلسہ کرنے کو مسنون فرمایا ہے کہ امر مطلوب بھی پورا ہوجائے اور خطیب کو بھی آرام مل جائے ۔ نیز سامعین کا نشاط از سر نو تازہ ہوجائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved