- فتوی نمبر: 34-162
- تاریخ: 08 دسمبر 2025
- عنوانات: عبادات > نماز > نماز میں قراءت کرنے کا بیان
استفتاء
1۔اگر سری نمازوں میں قراءت صرف تصحیح حروف کے ساتھ کی جائے اسماع نفس نہ کیا جائے اور ایسا کرنے میں ہی خشوع وخضوع محسوس ہوتا ہو اور نماز میں توجہ زیادہ ہو تی ہو بر عکس اسماع نفس کے کہ اس میں دماغ منتشر ہوتا ہو اور توجہ صرف اس بات میں لگ جاتی ہو کہ بس آواز اپنے کانوں تک پہنچانی ہے تو کیا ایسے شخص کیلئے اسماع نفس کے بغیرصرف تصحیح حروف والی قراءت کی گنجائش ہے ؟جبکہ دو نوں طرح کی قرأت کی صحت کے قول بھی منقول ہیں فرق صرف صحیح اور اصح کا ہے؟
2۔ اگر اسطرح کی قراءت جائز نہیں ہے تو سوال یہ ہے کہ گزشتہ نمازوں کی قضا ضروری ہے یا اختلافی مسئلہ ہونے کی وجہ سے تخفیف کی گنجائش ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔ گنجائش ہے۔
2۔ گنجائش ہے۔
بدائع الصنائع (1/161) میں ہے:
ثم المنفرد إذا خافت وأسمع أذنيه يجوز بلا خلاف لوجود القراءة بيقين، إذ السماع بدون القراءة لا يتصور، أما إذا صحح الحروف بلسانه وأداها على وجهها ولم يسمع أذنيه ولكن وقع له العلم بتحريك اللسان وخروج الحروف من مخارجها – فهل تجوز صلاته؟ اختلف فيه، ذكر الكرخي أنه يجوز، وهو قول أبي بكر البلخي المعروف بالأعمش، وعن الشيخ أبي القاسم الصفار والفقيه أبي جعفر الهندواني والشيخ الإمام أبي بكر محمد بن الفضل البخاري أنه لا يجوز ما لم يسمع نفسه
امداد الفتاویٰ (1/568) میں ہے:
سوال: نمازمیں قراء ت کو قاری نہ سنے نمازنہیں ہوتی، بہشتی زیور میں لکھاہے اس کاکیا مطلب ہے؟ اکثرنمازی اپنے پڑھنے کوبوجہ شور وغل کے نہیں سن سکتا یابہر اہے؛ کیونکہ ہر چیزکے دو درجے ہیں ایک اعلیٰ اورایک ادنی مثلاً جہرکا اعلی درجہ یہ ہے کہ قاری کی قرا ء ۃکو دورکے لوگ بھی سن لیں ۔ اورادنیٰ یہ کہ قریب جوکھڑاہے وہ سن سکے۔ اورسری قراء ت کااعلی درجہ یہ ہے کہ قاری کی قراء ت قاری ہی سنے اور دوسرا نہ سنے اگرچہ برابر کھڑا ہو۔ اورادنی درجہ یہ کہ قاری کی زبان اورحلق کو حرکت ہو اور قاری خودنہ سنے مگرقلبی دھیان رہے کہ میں پڑھ رہاہوں ۔ چونکہ حنفیہ کے یہاں جن نمازوں میں جہرنہیں ہے بہت آہستہ پڑھنااولی ہے وہ کونسادرجہ ہے ادنیٰ یااعلی اوراس طرح سے کہ نمازی کے حلق اور زبان کوحرکت ہواورکان نہ سنے تونمازہوجاوے گی یانہیں ؟
الجواب : في الدر المختار، فصل فى القراءة: وأدنی الجهر إسماع غیره، وأدنی المخافة إسماع نفسه اور ’’رد المحتار‘‘ میں اس قول کوہندوانی کی طرف منسوب کرکے اصح اور ارجح کہاہے، اور چونکہ اس میں احتیاط تھی؛ لہٰذا ’’بہشتی زیور‘‘ کے مؤلف نے اسکو اختیار کیا اور ایک قول امام کرخیؒ کاہے، صرف تصحیح حروف کافی ہے، گوخودبھی نہ سنے۔ اوربعض نے اس کی بھی تصحیح کی ہے۔ کذا فی رد المحتار۔ پس احوط تو امام ہندوانیؒ کاقول ہے، باقی نماز امام کرخیؒ کے قول پرعمل کرنے والے کی بھی ہوجاوے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved