- فتوی نمبر: 35-28
- تاریخ: 21 جنوری 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > نماز میں قراءت کی غلطیوں کا بیان
استفتاء
ایک شخص نے نماز میں “ومن يكفر بآيات الله فإن الله سريع الحساب” کے بجائے “ومن يغفر بآيات الله فإن الله سريع الحساب“پڑھ لیا تو نماز کا کیا حکم ہوگا؟
وضاحت مطلوب ہے:” يغفر “پر کیا اعراب پڑھے تھے؟یعنی ” يغفر “کو “يكفر “کے وزن پر پڑھا تھا یا “فاء”پر زبر پڑھا تھا یا ” يغفر “مجہول پڑھا تھا؟
جوابِ وضاحت:”یاء”پر زبر جبکہ”فاء”پر زیر پڑھا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگر نماز کے اعادے میں کوئی خاص دشواری نہ ہو تو نماز کا اعادہ کرلینا چاہیے ۔تاہم اگر اعادے میں کوئی خاص دشواری ہو تو اعادہ نہ کرنے کی بھی گنجائش ہے۔
توجیہ:مذکورہ صورت میں امام نے ایک کلمہ کی جگہ دوسرا کلمہ پڑھا ہےاور جب نماز میں قراءت کے دوران ایک کلمہ کی جگہ دوسرا کلمہ پڑھا جائے تو اس بارے میں ضابطہ یہ ہے کہ اگروہ کلمہ قرآنِ کریم میں دوسری جگہ موجود نہ ہو اور اس کی وجہ سے معنی میں بھی تغیرِ فاحش پیدا ہو تو بالاتفاق یعنی امام ابوحنیفہؒ،امام ابویوسفؒ اور امام محمدؒ سب کے نزدیک نماز فاسد ہوجائے گی اور اگر معنیٰ میں تغیر فاحش پیدا نہ ہو تو امام ابو یوسفؒ کے نزدیک پھر بھی نماز فاسد ہوجائے گی اور اگر وہ کلمہ قرآنِ کریم میں دوسری جگہ موجود ہو اور معنی میں تغیرِ فاحش پیدا ہو تو صحیح قول کے مطابق بالاتفاق نماز فاسد ہوجائے گی لیکن بعض مشائخؒ کے نزدیک امام ابو یوسفؒ کے قول کے پیشِ نظر نماز فاسد نہ ہوگی کیونکہ جب قرآن میں دوسری جگہ وہ کلمہ موجود ہے تو گویا وہ اس جگہ سے چھوڑکر قرآن کی دوسری جگہ سے پڑھ رہا ہے اور قرآن سے پڑھنے کی صورت میں امام ابویوسفؒ کے نزدیک نماز فاسد نہیں ہوتی ۔
مذکورہ صورت میں “يكفر “کی جگہ “يغفر“پڑھا ہے اور اس کی وجہ سے معنی میں تغیر فاحش پیدا نہیں ہوا دونوں کےلغوی معانی ایک دوسرے کے قریب ہیں کیونکہ”يكفر “اگرچہ یہاں انکار کے معنی میں ہے لیکن اس کا لغوی معنی “چھپانا” ہے اسی طرح ” يغفر “کا معنی اگرچہ “گناہ بخشنااور معاف کرنا”ہے لیکن اس کا لغوی معنی “چھپانا”بھی ہے ،لہذا آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ جو اللہ کی آیات کو چھپاتا ہے تو اللہ (اس کا )بہت جلد حساب کرنے والا ہےاس لیے اس تاویل کی رو سے نماز فاسد نہ ہوگی۔
نیز مذکورہ صورت میں اگر معنی میں تغیرِ فاحش مان بھی لیا جائے تب بھی بعض مشائخ کے نزدیک نماز فاسد نہ ہوگی کیونکہ “يغفر”قرآنِ کریم میں دوسری جگہ موجود ہے لیکن چونکہ راجح قول کے مطابق تغیرِ فاحش کی صورت میں امام ابویوسفؒ کے نزدیک بھی نماز فاسد ہوجائے گی اس لیے اگر خاص دشواری نہ ہو تو نماز کا اعادہ کرلینا چاہیے ۔
شامی (1/ 633)میں ہے:
«(قوله كما لو بدل إلخ) هذا على أربعة أوجه لأن الكلمة التي أتى بها، إما أن تغير المعنى أو لا، وعلى كل فإما أن تكون في القرآن أو لا، فإن غيرت أفسدت لكن اتفاقا في نحو فلعنة الله على الموحدين وعلى الصحيح في مثال الشارح لوجوده في القرآن، وقيد الفساد في الفتح وغيره بما إذا لم يقف وقفا تاما، أما لو وقف ثم قال – لفي جنات – فلا تفسد، وإذا لم تغير لا تفسد، لكن اتفاقا في نحو الرحمن الكريم، وخلافا للثاني في نحو إن المتقين لفي بساتين على ما مر، ومن هذا النوع تغيير النسب نحو مريم ابنة غيلان فتفسد اتفاقا، وكذا عيسى بن لقمان لأن تعمده كفر؛ بخلاف موسى بن لقمان كما في الفتح والله تعالى أعلم.
المحیط البرہانی (1/322) میں ہے:
فرع في ذكر كلمة مكان كلمة على وجه البدل ……..إن كان اختلافا متباعدا، نحو أن يختم آية الرحمة بآية العذاب أو آية العذاب بآية الرحمة أو أراد أن يقرأ {الشيطن يعدكم الفقر} (البقرة: 268) فجري على لسانه الرحمن يعدكم الفقر؛ فعلى قول أبي حنيفة ومحمد تفسد صلاته.
وأما على قول أبي يوسف اختلف المشايخ فيه، قال بعضهم: لا تفسد إذا لم يتعمد بقصد ذلك، ومر على لسانه غلطا، ويجعل على أنه ابتدأ بكلمة من كلمات القرآن، وهذا لأنه قصد قراءة القرآن على ما أنزل، فيجعل التقدير كأنه ترك القراءة من هذا الموضع، وأخذ بالقراءة من ذلك الموضع، وهو في ذلك الموضع قرآن، فلا تفسد صلاته، وبه كان يفتي الفقيه أبو الحسن، وهو اختيار محمد بن مقاتل الرازي.
فتاویٰ تاتارخانیہ (1/480) میں ہے:
ان يقرأ “الرحمن علم القرآن” فجرى على لسانه “الشيطان” او اراد ان يقرأ “الشيطان يعدكم الفقر” فجرى على لسانه “الرحمن” فعلى قول ابى حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى تفسد وأما على قول ابي يوسف لا تفسد صلاته اذا لم يقصد ذلك ومر على لسانه غلطا وبه كان يفتي الشيخ الامام ابو الحسن وهو اختيار محمد بن مقاتل الرازي.
خلاصۃ الفتاویٰ(1/115)میں ہے:
وان لم يكن تلك الكلمة فى القرآن ولا يتقاربان في المعنى تفسد صلوته بلاخلاف اذا لم يكن تلك الكلمة تسبيحا ولا تحميدا ولا ذكرا و ان كان في القران ولكن لا يتقاربان في المعنى نحو ان قرأ “وعدًا علينا انا كنا غافلين “مكان” فاعلين “او قرأ “ان ربكم الشيطان “أو “الشيطان على العرش “او “را بعهم ربهم “ونحوها مما لو اعتقده يكفر.عند عامة مشائخنا يفسد و بعضهم قالوا على قياس قول ابي يوسف ينبغى ان لا تفسد والصحيح من مذهب ابي يوسف انه تفسد ومحمد بن مقاتل الرازى كان يفتى بأنه لا تفسد وكذا لوقرأ“واذكر في الکتاب ابلیس” مکان “ادریس “أو شهد بالجنة لمن شهد الله له بالنار او على القلب قال الفقيه ابو الليث قرأت في الصلاة “أعجزت أن أكون مثل هذا الغبار“مكان الغراب فسالت الفقيه أبا جعفر:فقال لي :تفسد صلوتك.
القاموس الوحيد(مادہ:کفر اورغفر)میں ہے:
كَفَرَ الشَّي وَعَلَيْهِ كَفْرًا : چھپانا ، ڈھانکناجیسے : كَفَرَ الزَّارِعُ البذر بالتراب کسان نے بیچ مٹی میں چھپادیا۔ ھو كَافِرُ.
غَفَرَ الجَرِيح او المَرِيضُ -غفراً ، بیمار کی بیماری لوٹ آنا ، زخم کا دوبارہ ہرا ہو جانا . .
العَاشِق : دلاسے کے بعد عاشق کا دوبارہ مبتلائے کیفیات عشق ہونا۔
الشئ : چھپانا – غَفَرَ الشَّيْبَ بالخضاب : بالوں کی سفیدی کو خضاب سے چھپانا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved