- فتوی نمبر: 32-171
- تاریخ: 04 اپریل 2026
- عنوانات: عبادات > متفرقات عبادات
استفتاء
ہمارا ملک پاکستان اسلام کے نام پربنا۔اب اس کی حفاظت کرنےکےمختلف مراحل ہیں۔ایک مرحلہ وہ ہےکہ حفاظت کرنے والا چوبیس گھنٹے جھوٹ بولتا ہے کیونکہ سچ بولنے پر موت کا شکار ہوتا ہے،سمجھیں چوبیس گھنٹے موت کی وادی میں سفر کرتا ہے اس ڈیوٹی کا دورانیہ چھ ماہ،ایک سال،دو سال،تین سال، کچرے کے ڈھیروں پر رہنا، پھٹے پرانے میل سےبھرےکپڑےپہننا،پورا جسم میل اور مٹی سے اٹا رہنا۔فٹ پاتھوں سڑک کنارے وغیرہ پر رہنا، ۔مقصد ملک کی حفاظت کرنا،تنخواہ کا حصول نہیں،مٹی کا عشق ایسا کرنے پر مجبور کرتاہے۔اس حفاظت میں مساجد، مدارس، خانقاہیں علماء ومفتیان سب شامل ہیں۔سوال یہ ہےکہ:
1۔ ذکر اذکار اور جو قرآن پاک کی سورتیں اور آیات یاد ہوں ان کا ذکر وتلاوت خاموشی سے جاری رہتا ہے کیا اس گندگی میں ذکر وتلاوت کی جاسکتی ہے یا نہیں؟
2۔ نماز کیلئے پاک صاف ہونا فرض ہےاس صورت میں نماز معاف ہے یا نہیں؟ یا فدیہ دیناپڑےگا؟
وضاحت مطلوب ہے: (1)سائل کو ناپاکی کی کون سی صورت لاحق ہوتی ہے؟(2)پا ک ہونے کے لیے آپ کو مٹی اور پانی میں سے کوئی چیز بھی نہیں ملتی یا کوئی ایک ملتی ہے؟
جواب وضاحت: (1)سائل کی مراد جنابت کی حالت نہیں ، جنابت کی صورت کے علاوہ تمام صورتیں ناپاکی کی لاحق ہوتی ہیں۔(2) سائل کو پانی اور مٹی دستیاب ہے۔پانی صرف پینےاور رفع حاجت کیلئے استعمال کیاجاتاہے۔لیکن جسم،بال،ناخن سے لگی میل کچیل مٹی پانی سے دھوکر ہٹانہیں سکتے کیونکہ خود کو دیوانہ اور نشئ ظاہر کرنا ہوتا ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اگر جسم اور کپڑے پاک ہوں اگرچہ پھٹے پرانے اور میلے کچیلے ہوں تو ذکر،اذکار اور زبان سے تلاوت کرسکتے ہیں تاہم ناپاک کپڑے پہن کر قرآن کی تلاوت کرنا خلافِ ادب ہے اس لیے ایسی صورت میں صرف ذکر ،اذکار پر اکتفاء کیا جائے اور تلاوت قرآن سے احتیاط کی جائے۔
2۔نماز کے لیے جسم، جگہ اور کپڑوں کا پاک ہونا فرض ہے اور اسی طرح پانی کے ہوتے ہوئے اور پانی کے استعمال پر قدرت ہوتے ہوئے وضو کرنا بھی فرض ہے لہٰذا ناپاک جسم یا ناپاک کپڑوں میں یا ناپاک جگہ پر یا وضو کے بغیر نماز پڑھنا جائز نہیں البتہ اگر کپڑوں اور جسم کو پاک کرنے کے لیے یا وضو کرنے کے لیے پانی ہی دستیاب نہ ہو یا دستیاب ہو لیکن اس کے استعمال پر قدرت نہ ہو تو ناپاک جسم اور ناپاک کپڑوں میں بھی نماز پڑھی جاسکتی ہے اور وضو کی جگہ تیمم کیا جاسکتا ہے اسی طرح اگر پاک جگہ میسر نہ ہو تو زمین پر سجدہ کے بجائے سجدے کے لیے اشارے سے نماز پڑھی جاسکتی ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ حالات میں بھی نماز معاف نہیں اورنہ ہی بعد میں اس کا فدیہ دینا کافی ہوگا البتہ اگر فی الوقت کسی مجبوری کی وجہ سے نما ز نہ پڑھی جاسکی ہو تو بعد میں قضا کرلی جائے اور اگر قضا کا موقع بھی نہ ملے تو فدیہ دینے کی وصیت کردی جائے۔
شامی(2/194) میں ہے:
وتكره قراءة القرآن في موضع النجاسة كالمغتسل والمخرج والمسلخ وما أشبه ذلك، وأما في الحمام فإن لم يكن فيه أحد مكشوف العورة وكان الحمام طاهرا لا بأس بأن يرفع صوته بالقراءة، وإن لم يكن كذلك فإن قرأ في نفسه ولا يرفع صوته فلا بأس به ولا بأس بالتسبيح والتهليل وإن رفع صوته اهـ وفي القنية لا بأس بالقراءة راكبا أو ماشيا إذا لم يكن ذلك الموضع معدا للنجاسة فإن كان يكر.
شرح مختصر الطحاوی (2/531) میں ہے:
(ولو طاف لعمرته في ثوب نجس، فلا شيء عليه) وذلك لأن نجاسة الثوب لا تأثير لها في شيء من أفعال المناسك، ولا يمنع مس المصحف، وقراءة القرآن، ولا دخول المسجد.
تبیین الحقائق (1/95) میں ہے:
قال رحمه الله (هي) أي شروط الصلاة (طهارة بدنه من حدث وخبث وثوبه ومكانه) لقوله تعالى{وإن كنتم جنبا فاطهروا} [المائدة: 6] ولقوله عليه الصلاة والسلام لفاطمة بنت أبي حبيش «اغسلي عنك الدم وصلي.
شامی(1/401) میں ہے:
باب شروط الصلاة هي ثلاثة أنواع: شرط انعقاد كنية، وتحريمة، ووقت، وخطبة وشرط دوام، كطهارة وستر عورة، واستقبال قبلة.
اللباب فی شرح الکتاب (1/61) میں ہے:
يجب على المصلي أن يقدم الطهارة من الأحداث والأنجاس على ما قدمناه، ويستر عورته، والعورة من الرجل: ما تحت السرة إلى الركبة، والركبة من العورة.
ملتقی الابحر (ص:119) میں ہے:
(باب شروط الصلاة) هي طهارة بدن المصلي من حدث وخبث وثوبه ومكانه وستر عورته واستقبال القبلة.
الدر المختار (1/18) میں ہے:
وصفتها: فرض للصلاة، وواجب للطواف، قيل ومس المصحف للقول بأن المطهرين الملائكة، وسنة للنوم، ومندوب في نيف وثلاثين موضعا ذكرتها في الخزائن.
شامی(1/413) میں ہے:
(وإذا لم يجد) المكلف المسافر (ما يزيل به نجاسته) أو يقللها لبعده ميلا أو لعطش (صلى معها) أو عاريا (ولا إعادة عليه) وينبغي لزومها لو العجز عن مزيل وعن ساتر بفعل العباد كما مر في التيمم.
شامی (2/72) میں ہے:
(قوله وعليه صلوات فائتة إلخ) أي بأن كان يقدر على أدائها ولو بالإيماء، فيلزمه الإيصاء بها وإلا فلا يلزمه وإن قلت، بأن كانت دون ست صلوات، لقوله – عليه الصلاة والسلام – «فإن لم يستطع فالله أحق بقبول العذر منه» وكذا حكم الصوم في رمضان إن أفطر فيه المسافر والمريض وماتا قبل الإقامة والصحة، وتمامه في الإمداد.
المحیط البرہانی (2/464) میں ہے:
ولو طاف طواف الزيارة وفي ثوبه نجاسة أكثر من قدر الدرهم أجزأه ولكن مع الكراهة، ولا يلزمه شيء، ولو طاف منكشف العورة قدر ما لا يجوز معه الصلاة أجزأه، وعليه دم، ذكره القدوري في «شرحه»
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved