- فتوی نمبر: 32-125
- تاریخ: 27 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > نشہ کی حالت میں دی گئی طلاق
استفتاء
میرا نام زینب ہے اور میرے شوہر کا نام زید ہے، ہماری شادی کو دس سال ہوگئے ہیں، ہمارے تین بچے ہیں (بیٹا جس کی عمر نو سال، بیٹی جس کی عمر 8 سال اور بیٹا جس کی عمر 6 سال ہے) ، شادی کے دس سالوں میں میرے شوہر گھر کی تمام مالی ذمہ داریوں کو بخوبی پورا کرتے رہے، ہمارے مزاج میں عدم مطابقت کی وجہ سے اکثر ہمارے جھگڑے ہوتے رہتے، میرے شوہر کو پان، سگریٹ اور شراب نوشی کی عادت ہے۔ 7 جولائی 2024 کو رات کو میرے شوہر شدید غصے کی حالت میں تھے، ہم دونوں کا ایک دن پہلے رات کو بھی شدید جھگڑا ہوا تھا پھر وہ غصہ اور جھگڑا اگلے دن بھی رہا ۔07 جولائی کو رات 10:00 بجے میرے شوہر شدید نشے اور غصے کی حالت میں کمرے میں آئے، ان کے والد بھی موجود تھے، کچھ دیر لڑائی کے بعد میرے شوہر نے میرے بڑے بھائی کو فون کیا اور اس وقت وہ شدید غصے اور شراب کے نشے میں تھے اور میرے بھائی کو فون پر کہا کہ ” زینب میرے سامنے بیٹھی ہے میں اپنے ابو کو گواہ بنا کر اسے طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، اسے آکر لے جاؤ” اس کے بعد انہوں نے میری بڑی بہن کو فون کیا اور انہیں کہا کہ “میں اپنے ہوش وحواس میں زینب کو طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں” جب انہوں نے میری بڑی بہن کو فون کیا تب ان کے ابو کمرے میں موجود نہیں تھے جب انہوں نے پہلے بھائی کو فون کیا اور طلاق کا لفظ بولا تو ان کے ابو “لا حول “پڑھتے ہوئے کمرے سے چلے گئے، اب میرے شوہر کہتے ہیں کہ ان کو بس اتنا یاد ہے کہ انہوں نے جھگڑے کے دوران تین بار طلاق کے الفاظ بولے ہیں ان کو یہ بھی یاد نہیں کہ انہوں نے میرے بھائی کو فون کیا اور پھر میری بڑی بہن کو فون کرکے دوبارہ تین بار طلاق کے الفاظ کہے تھے یعنی اپنی بات دہرائی تھی، جب یہ واقعہ پیش آیا اس وقت کمرے میں بیڈ پر میں، بچے اور ابو بیٹھے تھے اور سامنے زمین پر گدے پر میرے شوہر بیٹھے تھے انہوں نے ڈائریکٹ مجھے مخاطب کرکے نہیں کہا بلکہ میرے بڑے بھائی کو فون کرکے ان سے فون پر کہا کہ زینب میرے سامنے بیٹھی ہے اور میں اپنے ابو کو گواہ بنا کر اسے طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتاہوں، طلاق دیتا ہوں۔ اب آپ ہمارے اس مسئلہ میں رہنمائی فرمادیں کہ آیا ہماری طلاق ہوگئی ہے یا نہیں؟ اگر ہو گئی ہے تو ایک ہوئی ہے یا تین؟
نوٹ: کچھ دن قبل میری طبیعت خراب ہوئی تو ہم قاری صاحب کے پاس گئے انہوں نے میرا اور میرے شوہر کا حساب لگایا تو بتایاکہ مجھے جادو کے اثرات ہیں اور میرے شوہر کے حساب میں بہت شدید غصہ آنا آیا تھا۔
تنقیح: سائل نے دونوں میاں بیوی سے بات کروائی تو انہوں نے سوال میں لکھی ہوئی صورتحال کی تصدیق کی، اور بیوی نے کہا کہ اس وقت شوہر سب باتیں ٹھیک کر رہا تھا، کوئی اول فول بات نہیں کی، کوئی توڑ پھوڑ بھی نہیں کی، شوہر نے کہا کہ میری بیوی میری اجازت کے بغیر میری بہن کے گھر گئی تھی اس لیے مجھے غصہ آیا میں نے تھوڑی دیر پہلے شراب پی تھی نشے کی حالت میں بیوی سے جھگڑا ہوا، طلاق کے الفاظ بولتے وقت مجھے معلوم تھا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں، لیکن یہ یاد نہیں کہ میں نے بیوی کے بھائی کو فون کیا تھا
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے، لہذا اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔
نوٹ: تین طلاقیں چاہے اکھٹی دی جائیں یا الگ الگ دی جائیں بہر صورت تین ہی ہوتی ہیں ۔جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم وتابعین ؒ اور ائمہ اربعہ ؒ کا یہی مذہب ہے۔
توجیہ: نشہ کی حالت میں دی گئی طلاق اول تو اکثر وبیشتر اہل علم کے نزدیک واقع ہوجاتی ہے خواہ نشہ کی حالت کیسی ہی کیوں نہ ہو اور جن بعض اہل علم کے نزدیک نشہ کی حالت میں طلاق واقع نہیں ہوتی وہ بھی اس صورت میں ہے کہ جب کلام میں اختلاط وہذیان غالب ہو، مذکورہ صورت میں میاں بیوی کے بیان کے مطابق شوہر کا نشہ اس درجے کا معلوم نہیں ہوتا کہ اس میں ہذیان واختلاط غالب ہو لہذا مذکورہ صورت میں سب کے نزدیک تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں۔
ردالمحتار (432/4) میں ہے:
صرح المحقق ابن الهمام فى التحرير أن تعريف السكر بما مر عن الامام انما هو فى السكر الموجب للحد وأما تعريفه عنده في غير وجوب الحد من الأحكام فالمعتبر فيه عنده اختلاط الكلام والهذيان كقولهما. ونقل شارحه ابن أمير حاج عنه أن المراد أن يكون غالب كلامه هذيانا، فلو نصفه مستقيما فليس بسكر فيكون حكمه حكم الصحاة في إقراره بالحدود.
چنانچہ ابو داؤد شریف(1/666 حدیث نمبر 2197 ط بشری) میں ہے:
عن مجاهد قال كنت عند ابن عباس رضي الله عنه فجاءه رجل فقال إنه طلق امرأته ثلاثاً فسكت حتى ظننت أنه سيردها إليه فقال ينطلق أحدكم فيركب الأحموقة ثم يقول يا ابن عباس یا ابن عباس يا ابن عباس إن الله قال ومن يتق الله يجعل له مخرجاً و انك لم تتق الله فلا أجد لك مخرجاً عصيت ربك و بانت منك امرأتك.
ترجمہ: مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ( بیٹھا) تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے اپنی بیوی کو (اکٹھی) تین طلاقیں دے دی ہیں تو (کیا کوئی گنجائش ہے؟ اس پر ) عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اتنی دیر تک خاموش رہے کہ مجھے خیال ہونے لگا کہ (حضرت کوئی صورت سوچ کر) اسے اس کی بیوی واپس دلا دیں گے ، پھر انہوں نے فرمایا: تم میں سے ایک شروع ہوتا ہے تو حماقت پر سوار ہو جاتا ہے (اور تین طلاقیں دے بیٹھتا ہے ) پھر آکر کہتا ہے اے ابن عباس! اے ابن عباس ! اے ابن عباس ! (کوئی راہ نکالیے ) کی دہائی دینے لگتا ہے۔ بے شک اللہ کا فرمان ہے: ” ومن یتق الله يجعل له مخرجا ” (جو کوئی اللہ سے ڈرے تو اللہ اس کے لیے خلاصی کی راہ نکالتے ہیں) تم نے تو اللہ سے خوف نہیں کیا ( اور تم نے اکٹھی تین طلاقیں دے دیں جو کہ گناہ کی بات ہے ) تو میں تمہارے لیے کوئی راہ نہیں پاتا (اکٹھی تینوں طلاقیں دے کر ) تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور تمہاری بیوی تم سے جدا ہو گئی۔
مسلم شریف (2/962 حدیث نمبر 1471 ط بشری ) میں ہے:
عن نافع عن ابن عمر قال … أما أنت طلقتها ثلاثاً فقد عصيت ربك فيها أمر من طلاق امرأتك و بانت منك.
ترجمہ:نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے ( اکٹھی تین طلاق دینے والے سے) کہا تم نے اپنی بیوی کو (اکٹھی) تین طلاقیں دی ہیں تو بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں جو تمہارے رب کا حکم (یعنی بتایا ہوا طریقہ ) ہے اس میں تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی ہے اور تمہاری بیوی تم سے (طلاق مغلظ کے ساتھ ) جدا ہو گئی ہے۔
مؤطا امام مالک (صفحہ 521، باب طلاق البکر، ط میر محمد کتب خانہ ) میں ہے:
أن رجلاً من أهل البادية طلق امرأته ثلاثاً قبل أن يدخل بها … فقال أبو هريرة الواحدة تبينها و الثلاث تحرمها حتى تنكح زوجاً غيره و قال ابن عباس مثل ذلك.
ترجمہ: اہل بادیہ (جنگل کے رہنے والوں) میں سے ایک شخص نے اپنی بیوی کو رخصتی سے پہلے ہی (اکٹھی) تین طلاقیں دے دیں۔۔۔۔ تو مسئلہ پوچھنے پر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے (جواب میں ) فرمایا ایک طلاق دی تو اس سے جس عورت کی رخصتی نہ ہوئی ہو نکاح سے نکل جاتی ہے اور تین طلاقیں (اکٹھی ) دی ہوں (یعنی یوں کہا کہ تجھ کو تین طلاق ) تو یہ اس عورت کو حرام کر دیتی ہیں یہاں تک کہ وہ دوسرے شخص سے نکاح کرے، اورحضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بھی یہی فرمایا۔
عمدۃ القاری (232/1)میں ہے :
مذهب جماهير العلماء من التابعين ومن بعدهم من الاوزاعي والنخعي والثوري و ابو حنيفه واصحابه ومالك واصحابه والشافعي واصحابه واحمد واصحابه و اسحاق وابو ثور وابو عبيدة واخرون كثيرون على ان من طلق امراته ثلاثا يقعن ولكنه ياثم.
مرقاۃ المفاتيح ( جلد6صفحہ436) میں ہے:
قال النووي اختلفوا في من قال لامراته انت طالق ثلاثا فقال مالك والشافعي واحمد وابو حنيفه والجمهور من السلف والخلف يقع ثلاثا……وفيه أيضاً:وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاثا.
درمختار (4/509) میں ہے:
كرر لفظ الطلاق وقع الكل.
(قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق.
بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved