- فتوی نمبر: 32-01
- تاریخ: 22 مارچ 2025
- عنوانات: عبادات > قسم اور منت کا بیان
استفتاء
(1)کوئی آدمی کسی کام کی نذر مانے کہ میرا فلاں کام ہوجائے تو میں 50 نفل پڑھوں گا اور کسی وجہ سے نفل نہیں پڑھے جا رہے تو ایسا ممکن ہے کہ کوئی 25 پڑھ کر یا 10 پڑھ کر مجھے ہدیہ کر دیں تو کیا نذر پوری ہو جائے گی ؟( 2)اگر نذر پوری نہ کر سکیں تو کیا کفارہ ہوگا؟(3) اور کفارہ کب ادا کرنا لازمی ہے وہ کام کرنے سے پہلے یا بعد میں؟
وضاحت مطلوب ہے کہ(1) خود پچاس کیوں نہیں پڑھ سکتا ؟(2) کیا تھوڑے تھوڑے کر کے پڑھنا بھی ممکن نہیں؟
جواب وضاحت: اس وقت پڑھنا ممکن نہیں۔
مزید وضاحت مطلوب ہے کہ (1 ) اس وقت پڑھنا کیوں ممکن نہیں ؟ اور کیا بعد میں پڑھنا ممکن ہے یا نہیں؟
(2) کیا وہ کام ہوگیا ہے جس پر نفل کی نذر مانی تھی ؟
جواب وضاحت: (1) جی بعد میں پڑھنا ممکن ہے۔(2) ابھی نذر پوری نہیں ہوئی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
(1)کسی کے پڑھ کر آپ کو ہدیہ کردینے سے نذر پوری نہ ہو گی بلکہ خود پڑھنا ضروری ہے۔
(2)جب نذر پوری ہوجائے تو آپ پچاس نفل پڑھیں خواہ اکٹھے پڑھیں یا تھوڑے تھوڑے کرکے پڑھیں۔ تاہم اگر کسی وجہ سےنفل پڑھنا ممکن نہ رہے تو ایسی صورت میں ہر دو نفل کے بدلے میں پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت کسی مستحق زکوٰۃ کو دینے کی وصیت کردیں۔
(3)جس کام پر نفل کی نذر مانی ہے جب وہ کام ہو جائے تو اس کے بعد نذر کو پورا کرنا ضروری ہو گا کام ہوجانے سے پہلے نذر پوری کربھی لی تو اس کا اعتبار نہ ہوگا نیز اگر کام ہوجانے کے بعد اگر کسی وجہ سے نذر پوری نہ ہوسکے تو کفارے کی وصیت کردیں جیساکہ نمبر 2 کے ذیل میں ذکر ہوا۔
فتاویٰ شامی (5/542) میں ہے
(ثم إن ) المعلق فيه تفصيل فإن (علقه بشرط يريده كإن قدم غائبي ) أو شفي مريضي (يوفي) وجوباً (إن وجد) الشرط.
تنویر الابصار (5/538) میں ہے:
(ومن نذر نذراً معلقاً بشرط وكان من جنسه واجب ) أي فرض كما سيصرح به تبعا للبحر والدرر (وهو عبادة مقصودة) … (ووجد الشرط) المعلق به (لزم الناذر) لحديث: من نذر وسمى فعليه الوفاء بما سمى (كصوم وصلاة).
فتاویٰ شامی (2/120) میں ہے:
ولا بد من التعيين عند النية لفرض ولو قضاء وواجب أنه وتر أو نذر. قال الشامي تحت قوله: (أو نذر) هو قد يكون منجزاً أو معلقاً على نحو شفاء مريض أو قدوم غائب فالظاهر أنه لا بد من تعيينه بذلك لاختلاف أسبابه واختلاف أنواع ما علق عليه.
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (1/ 335) میں ہے:
قال ابن عبد البر أما الصلاة فبالإجماع من العلماء أنه لا يصلي أحد عن أحد حال حياته ولا بعد موته هذا لا خلاف فيه.
فتاویٰ ہندیہ (2/65) میں ہے:
لو جعل عليه حجة او عمرة او صوما او صلوة او صدقة او ما أشبه ذلك مما هو طاعة إن فعل كذا فعل لزمه ذلك الذى جعله على نفسه.
امداد الفتاویٰ (545/2) میں ہے:
سوال: ایک شخص خون کی علت میں گرفتار ہوکر قید ہوا خدا جانے و ہ علت صحیح ہے یا غلط اس سے کوئی غرض نہیں ۔ مقصود یہ ہے کہ ایک شخص نے اُس کے لئے جناب باری تعالیٰ میں اِس طریقہ سے نذر مانی کہ اگر یہ شخص قید فرنگ سے رہا اور بری ہوجائے اور جان اُس کی سلامت رہے تو میں ہزار رکعت نماز ادا کروں گا وہ شخص جان سے تو سلامت رہا مگر سات برس کی قید اُس کو ہوگئی، اِس صورت میں صلوٰۃ نذر کے بارے میں کیاکرنا چاہیے؟
الجواب: اس شخص سے پوچھا جائے کہ رہائی اور برا ء ت سے کیا مراد ہے آیا سزائے موت سے رہائی اور برا ء ت یا مطلق سزا سے رہائی اور براء ت ، شق اول میں شرط نذر کی پائی گئی ؛ لہٰذا ایفاء نذر واجب ہے اور شق ثانی میں شرط نہیں پائی گئی اس لئے ایفاء واجب نہیں ۔
فتاویٰ دار العلوم دیوبند (12/77) میں ہے:
سوال: زید نے نذر کی تھی کہ اگر میرا کام ہو گیا تو ہر نماز کے بعد دو رکعت نفل پڑھوں گا، بفضلہ اس کا کام پورا ہو گیا، پس زید اپنی نذر کے موافق کئی دن تک پانچوں نذر کا دوگانہ ادا کرتا رہا، پھر کبھی قضاء ہونے لگا، رفتہ رفتہ بالکل چھوٹ ہی گیا، اب حساب بھی یاد نہیں رہا کہ کتنے دو گانہ قضاء ہوئے اور کتنے پڑھے ، گذری ہوئی نذر کی نمازوں کے متعلق کیا کیا جاوے جن کا حساب بھی یاد نہیں رہا اور آئندہ بھی اس نذر کے دو گانہ کو ادا کرنا لازم ہے یا اس سے بچنے کی کوئی صورت ہو سکتی ہے؟
الجواب: اس قسم کی نذر لازم ہو جاتی ہے اور پورا کرنا اس کا لازم ہے، جو دوگانہ وقت پر ادا نہیں ہوا اس کی قضاء لازم ہے۔ اور زندگی میں فدیہ دینا ان نمازوں کا درست نہیں ہے، فدیہ کی وصیت بوقت موت لازم ہوتی ہے کہ اس قدر دو گانہ میرے ذمہ رہے ان کا فدیہ میرے مال سے دیا جائے، ہر ایک دو گانہ کا فدیہ مثل صدقۃ الفطر کے بوزن اسی (80) پونے دو سیر گندم تقریباً ہوتے ہیں، ہر ایک دو گانہ کے عوض وارث اس قدر گندم یا اس کی قیمت ادا کریں۔ یہ تو بعد الموت کا حکم ہے، زندگی میں سوائے ادا کرنے یعنی قضاء کرنے ان دو گانوں کے اور کوئی صورت خلاصی کی نہیں ہے۔ پس اب یہ کیا جاوے کہ آئندہ ہر نماز کے ساتھ دو گانہ منذورہ ادا کرے مگر جن نمازوں کے بعد قسم کی نماز درست نہیں ہے جیسے فجر اور عصر اس میں یہ کرے کہ عصر سے پہلے اور فجر کے بعد کا دو گانہ آفتاب نکلنے کے بعد یا صبح صادق سے پہلے پڑھ لیا کرے، اور باقی نمازوں کے بعد اس دو گانہ ادا کیا کرے۔ اور گذشتہ فوت شدہ دو گانوں کا تخمینہ کر لے کہ کب سے نہیں پڑھی، ہر ایک شب روز کے پانچ دو گانہ واجب ہیں ان کو جس طرح سہل ہو قضا کرتا رہے، اور پھر اس کے اندازہ میں جس قدر رہ جاویں ان کے لیے وصیت کر دے کہ اس قدر فدیہ دوگانوں کا میرے بعد ادا کیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved