• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

نصاب کے مالک کا زکوٰۃ لینا

استفتاء

ایک خاتون بیوہ ہے اور اس کی صرف دو جوان بیٹیاں ہیں، اس خاتون کا کوئی ذریعہ آمدن نہیں، ما سوائے 12000 روپے ماہانہ اپنے مکان کے کچھ حصہ جو کہ کرایہ پر دیا ہوا ہے، اس خاتون کے پاس کچھ زیور ہے جو کہ اپنی دونوں جوان بیٹیوں کےنام ہبہ کر دیا ہوا ہے، خاتون ہذا مبلغ پانچ لاکھ اپنے  پاس رکھتی ہے جو کہ موصوفہ نے اپنی دونوں بیٹیوں کے نام ہبہ کر دیے ہوئے ہیں، دونوں بچیاں زیر تعلیم ہیں، تعلیم کے اخراجات و جملہ تعلیمی لوازمات کے اخراجات، روز مرہ کے سادہ زندگی بسر کرنے اور زندہ رہنے کے لیے خورد و نوش کے اخراجات، جس مکان میں خاتون رہائش پذیر ہے وہ اس کی ذاتی ملیت ہے اس کے علاوہ اس کا کوئی جائیداد نہیں، یہ مکان تقریباً ساڑھے سات مرلے ہے۔ اس مہنگائی کے دور میں مبلغ بارہ ہزار روپے صرف ماہانہ آمدن میں تین عدد افراد پر مشتمل خاندان کا دو وقت کا کھانا اور دو بچیوں کے تعلیمی اخراجات کے برداشت کرنا ممکن نہیں۔ آپ سے استدعا ہے کہ از روئے شرع یہ ارشاد فرما دیں کہ کیا اس خاتون کی کفالت زکوٰۃ کی مد سے کی جا سکتی ہے؟

نوٹ: بچیوں کو زیور اور پیسے زبانی ہبہ کیے ہیں ان کے قبضہ میں نہیں دیں، اور جس وقت بچیوں کو زبانی ہبہ کیا بچیاں بالغ تھیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

صورت مذکورہ میں یہ خاتون مستحق زکوٰہ نہیں، کیونکہ بالغ بچیوں کو انہوں نے جو مال اور زیور ہبہ کیا ہے یہ ہبہ قبضہ نہ ہونے کی وجہ تام نہیں ہوا، اور یہ مال اور زیور بدستور خاتون ہی کی ملکیت میں ہے جو کہ زکوٰۃ کی وصولی سے مانع ہے۔

و شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضاً غير مشاع مميزاً غير مشغول) كما سيتضح. (الدر المختار: 8/ 560)

قلت و رأيته في جامع و نصه: و في المبسوط لا يجوز دفع الزكاة إلی من يملك نصاباً. (رد المحتار: 3/ 335)

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved