• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

آن لائن قرآن پڑھانے کی اجرت لینا

استفتاء

آن  لائن قرآن حکیم پڑھانا یا حدیث پڑھانا اور بدلے میں فیس کا وصول کرنا جبکہ پہلے سے طے کرے کہ اتنے لوں  گا  جس میں سے اتنے ایڈوانس ہوں گے وغیرہ جائز ہے یا ناجائز ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

آن لائن قرآن یا حدیث پڑھانے کے بدلے فیس وصول کرنا جائز ہے تاہم جو شخص یہ فیس بغیر مجبوری کے لیتا ہے اسے اس تعلیم پر اجر نہیں ملے گا اور جو بامر مجبوری لے رہا ہے اسے ثواب بھی ملے گا۔

شامی (6/55) میں ہے:

(قوله ويفتى اليوم بصحتها لتعليم القرآن إلخ) قال في الهداية: وبعض مشايخنا – رحمهم الله تعالى – ‌استحسنوا ‌الاستئجار على تعليم القرآن اليوم لظهور التواني في الأمور الدينية، ففي الامتناع تضييع حفظ القرآن وعليه الفتوى اهـ، وقد اقتصر على استثناء تعليم القرآن أيضا في متن الكنز ومتن مواهب الرحمن وكثير من الكتب، وزاد في مختصر الوقاية ومتن الإصلاح تعليم الفقه، وزاد في متن المجمع الإمامة، ومثله في متن الملتقى ودرر البحار

البحر الرائق (8/22) ميں  ہے:

قال رحمه الله (والفتوى اليوم ‌على ‌جواز ‌الاستئجار لتعليم القرآن) ، وهذا مذهب المتأخرين من مشايخ بلخ استحسنوا ذلك وقالوا بنى أصحابنا المتقدمون الجواب على ما شاهدوا من قلة الحفاظ ورغبة الناس فيهم؛ ولأن الحفاظ والمعلمين كان لهم عطايا في بيت المال وافتقادات من المتعلمين في مجازات التعليم من غير شرط، وهذا الزمان قل ذلك واشتغل الحفاظ بمعائشهم فلو لم يفتح لهم باب التعليم بالأجر لذهب القرآن فأفتوا بالجواز، والأحكام تختلف باختلاف الزمان

دررالحکام (1/530) میں ہے:

(المادة 467) ‌تلزم ‌الأجرة ‌بالتعجيل يعني لو سلم المستأجر الأجرة نقدا ملكها الآجر وليس للمستأجر استردادها

ردالمحتار (2/ 74) میں ہے:

”أقول: لا يلزم من حل الأجرة المعلل بالضرورة حصول الثواب ولا سيما إذا كان لولا الأجرة لا يؤذن فإنه يكون عمله للدنيا وهو رياء لأنه لم يحتسب عمله لوجه الله تعالى، فهو كمهاجر أم قيس، وإذا كان الجاهل المحتسب لا ينال ذلك الأجر فهذا بالأولى. كيف وقد ورد في عدة أحاديث التقييد بالمحتسب: منها ما رواه الطبراني في الكبير كما في الفتح «ثلاثة على كثبان المسك يوم القيامة، لا يهولهم الفزع الأكبر، ولا يفزعون حين يفزع الناس: رجل علم القرآن فقام به يطلب وجه الله وما عنده. ورجل ينادي في كل يوم وليلة خمس صلوات يطلب وجه الله وما عنده. ومملوك لم يمنعه رق الدنيا عن طاعة ربه» نعم قد يقال: إن كان قصده وجه الله تعالى لكنه بمراعاته للأوقات والاشتغال به يقل اكتسابه عما يكفيه لنفسه وعياله، فيأخذ الأجرة لئلا يمنعه الاكتساب عن إقامة هذه الوظيفة الشريفة، ولولا ذلك لم يأخذ أجرا فله الثواب المذكور، بل يكون جمع بين عبادتين: وهما الأذان، والسعي على العيال، وإنما الأعمال بالنيات“

بہشتی زیور (حصہ یازدہم ص:766) میں ہے:

’’جن اعمال دینیہ پر اجرت لینا جائز ہے ان کے کرنے سے بالکل ثواب نہیں ملتا مگر بچند شروط ثواب بھی ملے گا خوب غور سے سنو۔ کوئی غریب آدمی جس کی بسر اوقات اور نفقات واجبہ کا سوائے اس اجرت کے اور کوئی ذریعہ نہیں وہ بقدر حاجت ضروریہ دینی کام کرکے اجرت لے اور یہ خیال کرے سچی نیت سے کہ اگر ذریعہ معیشت کوئی اور ہوتا تو میں ہرگز اجرت نہ لیتا اور حسبةلله کام کرتا یا اب حق تعالی کوئی ذریعہ ایسا پیدا کردیں تو میں اجرت چھوڑ دوں اور مفت کام کروں تو ایسے شخص کو دینی کام کا ثواب ملے گا کیونکہ اس کی نیت اشاعت دین ہے مگر معاش کی ضرورت مجبور کرتی ہے اور چونکہ طلب معاش بھی ضروری ہے اور اس کا حاصل کرنا بھی ادائے حکم الٰہی ہےاس لیے اس نیت یعنی تحصیل معاش کا بھی ثواب ملے گا اور نیت بخیر ہونے سےیہ دونوں ثواب ملیں گے مگر ان قیود پر نظر غائر کرکے عمل کرنا چاہیے خواہ مخواہ کے خرچ بڑھا لینا اور غیر ضروری اخراجات کو ضروری سمجھ لینا اور اس پر حیلہ کرنا اس عالم غیب کے ہاں نہیں چلے گا وہ دل کے ارادوں سے خوب واقف ہے۔ یہ تدقیق نہایت تحقیق کے ساتھ قلم بند کی گئی ہے اور ماخذ اس کا شامی وغیرہ ہے‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved