- فتوی نمبر: 33-290
- تاریخ: 07 جولائی 2025
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
السلام علیکم مفتی صاحب یہ جو سڑک پر لوگ چڑیاں پکڑ کر بیٹھے ہوتے ہیں اور لوگوں سے پیسے لے کر صدقے کے طور پر آزاد کردیتے ہیں تو آیا اسطرح چڑیاں پکڑنا جائز ہے ؟ اور انکو آزاد کروانے والے کو ثواب ملے گا یا نہیں ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
پرندوں کو پکڑنا اور بیچنا دونوں جائز ہے بشرطیکہ ان کے کھانے پینے کا پورا اہتمام کیا جائے البتہ انہیں اس خیال سے خرید کر آزاد کرنا کہ یہ کوئی قابل ثواب عمل ہے شرعا ً درست نہیں کیونکہ پرندوں کو آزاد کرنے پر ثواب نہیں ہوتا۔
شامی (6/401) میں ہے:
(قوله وأما للاستئناس فمباح) قال في المجتبى رامزا: لا بأس بحبس الطيور والدجاج في بيته، ولكن يعلفها وهو خير من إرسالها في السكك اهـ وفي القنية رامزا: حبس بلبلا في القفص وعلفها لا يجوز اهـ.
أقول: لكن في فتاوى العلامة قارئ الهداية: سئل هل يجوز حبس الطيور المفردة وهل يجوز عتقها، وهل في ذلك ثواب، وهل يجوز قتل الوطاويط لتلويثها حصر المسجد بخرئها الفاحش؟ فأجاب: يجوز حبسها للاستئناس بها، وأما إعتاقها فليس فيه ثواب، وقتل المؤذي منها ومن الدواب جائز اهـ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved