• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

پاس ورڈ چوری کرنا یا اس کا توڑ کرنا۔ ایک مرتبہ خریدنے کے بعد اس کی مزید ڈسک کاپی کر کے آگے بیچنا یا کسی کو دینا۔ ڈاکٹر کو دیے جانے ہدایا اور سیمپل کا حکم

استفتاء

محترم مفتی صاحب! السلام علیکم

عرض ہے کہ میرا نام ڈاکٹر نوید رشید ہے۔ مسئلہ پوچھنے سے پہلے تھوڑا سا اپنا تعارف کروانا چاہتا ہوں تاکہ مسائل اسی روشنی میں سمجھے جا سکیں۔ میری دو ڈگریاں ہیں۔ ایک (Medicine)FCPS ، دوم (Infectious Diseases)FCPS ۔ دوسری ڈگری کا شعبہ پاکستان میں 2010ء میں (College of Physicians and Surgeons Pakistan) CPSP نے شروع کروایا۔

میں اس پروگرام کا پہلا فارغ التحصیل شاگرد ہوں۔ 2012ء میں تعلیم مکمل ہوئی۔ اس وقت سے ہی بطور  (Infectious Diseases Specialist) مصروف عمل ہوں۔ پاکستان میں اس کے کل سپیشلسٹ (بشمول ان کے جنہوں نے باہر سے تعلیم لی، اس شعبے میں) مشکل سے 25 تک ہیں۔ لاہور میں بھی صرف تین یا چار ہیں۔ میں لاہور سے ہی تعلق رکھتا ہوں اور یہیں پریکٹس کرتا ہوں۔

اب میں کچھ مسائل پر آپ کی ماہرانہ رائے چاہتا ہوں۔

1۔ میں نے اکتوبر 2016ء میں شالا مار میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج اور ہسپتال اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت میں جوائن کیا ہے۔ یہاں پر میڈیکل ریپس بھی آتے ہیں۔ Biocare کمپنی کے نمائندے میرے پاس آئے اور انٹی بائیوٹک میں اپنی نئی دوا (penitrax) کے نام سے مجھے متعارف کروائی۔ اس کا  original brind،) (Tazocin ہے، ساتھ ہی انہوں نے مجھ سے Up-to-date دینے کی آفر کی۔ Up-to-date ایک آن لائن میڈیکل ریفرنس بک ہے، جو کہ میڈیسن کی فیلڈ میں ایک Gold Standard کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ اس کو اگر انفرادی حیثیت میں آن لائن حاصل کرنا چاہیں تو سالانہ 35 ہزار رواپے فیس ہے۔ جو کہ ایک  Password پر کھلتی ہے۔ لیکن میرے استفسار پر کمپنی کے نمائندوں نے بتایا کہ یہ Cracked Version  ہے، (آسان لفظوں میں  انہوں نے اس کا پاس ورڈ چوری یا توڑ کر لیا ہے ، میری سمجھ کے مطابق، بہر حال اس پر  بہتر رائے تو کمپیوٹر سپیشلسٹ دے سکتا ہے)۔ میں نے جواباً کہا کہ میں کچھ دنوں میں بتاوں گا کہ یہ مجھے چاہیے یا نہیں؟

کچھ دنوں بعد میرے کہے بغیر ہی یہ لوگ منی SD کارڈ میں مجھے Up-to-date دے گئے۔ اب میں پریشانی میں مبتلا ہوں کہ اپنے موبائل میں لگا کر استعمال کر سکتا ہوں یا نہیں، میری سمجھ کے مطابق ہم جب ایم بی بی ایس کر رہے تھے تو ہماری میڈیکل بک خریدنا (original) سکت سے باہر تھا، اس لیے ایرانی کاپی جو کہ سستی تھی وہ خریدتے تھے۔ کیا یہ اسی قسم کی چیز ہے یا کہ اس کو تحفہ سمجھا جائے؟ تحفہ میں اس لیے سوچ رہا ہوں کہ جب یہ میرے پاس آگئی ہے تو میں بآسانی اسے paste, copy کر کے کسی بھی اور کو دے سکتا ہوں۔ تو کیا انہوں نے بھی ایسے ہی کیا ہو گا؟ میرے استفسار پر کمپنی کے نمائندے نے بتایا کہ یہ تو کمپنی نے اپنے Vender سے لیا ہے، اور یہ کہ یہ Cracked version  ہے، اور اسے آپ کو تحفتاً دیا گیا ہے، اس کے دینے کے پیچھے کوئی غرض

نہیں ہے، اور یہ کہ کوئی بھی ڈاکٹر اگر چاہے تو ہم سے لے سکتا ہے۔

2۔ دوسرا مسئلہ ایک اور میڈیسن کمپنی ہے BOSCH کے نام سے، میں اس کی پروڈکٹس خاص طور پر Antibiotics کا پہلے سے ہی معترف ہوں، اور 2014ء میں انہوں نے ایک  CME، (continued medical education) پر لے جانے کی مجھے پیشکش کی۔ یہ کانفرنس PC ہوٹل بھوربن میں رکھی گئی تھی۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ ہم شہر کے مشہور یا نمایاں ڈاکٹر حضرات کو اس میں مدعو کرتے ہیں، اور چونکہ یہ کمپنی  Antibiotic بناتی ہے تو وہاں کے سارے لیکچرز Infection  سے متعلق تھے۔ مجھے  فیملی کے ساتھ مدعو کیا گیا۔ کل 30 کے قریب ڈاکٹر اپنی اپنی فیملی کے ساتھ مدعو تھے۔ تین دن کا قیام تھا، پہلا دن جمعہ ہم ظہر کے بعد وہاں پہنچے، آرام کیا اور پھر رات کا کھانا کھا کر سو گئے۔ دوسرے دن صبح آٹھ بجے سے لیکچرز/ کانفرنس شروع ہو گئی، جو تقریباً 3 بجے دوپہر تک  چلی۔ پھر ایک گھنٹے کے آرام کے بعد کمپنی کی بس ہمیں مری لے گئی، وہاں گھومنے پھرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ وہاں سے 7 بجے انہوں نے ہمیں بس میں واپس بٹھایا، اور PC بھوربن پہنچا دیا۔ اگلے دن صبح صبح لاہور واپسی ہو گئی۔

2015ء میں بھی اپنی فیملی کے ساتھ اس میں مدعو کیا گیا۔ ان کمپنی کے لوگوں نے کبھی بھی مجھے اپنی پراڈکٹس کے بارے میں زور نہیں دیا، اور نہ ہی میں نے اپنے آپ کو یہ پراڈکٹس لکھنے پر دباؤ کا شکار پایا۔ کیونکہ یہ پراڈکٹس پہلے بھی میرے قلم پر تھیں اور میری طرح بہت سے اور ڈاکٹرز بھی اسے اچھی دوائی کے طور پر تجویز کرتے ہیں، اور Results بھی اچھے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کمپنی مجھے تیسری دفعہ 16 تا 18 دسمبر کو مدعو کر رہی ہے۔( فائنل ہو گیا ہے کوئی لیکچر مجھ سے نہیں کروانا۔)

i۔ کیا میں ایسی کانفرنس میں جا سکتا ہوں، اور کیا 2014، 2015 کا جانا ٹھیک تھا؟ (اس میں جانے سے لے کر لاہور واپسی تک کا سارا خرچہ Bosch کمپنی کا تھا)۔

ii۔ کیا فیملی کے ساتھ اگر کمپنی کی طرف سے ہی سب کو مدعو کیا گیا تو یہ ٹھیک ہے؟

iii۔ اگر اس میں مجھے لیکچر کا کہا جائے تو کیا میں اس کی فیس یا معاوضہ لینے کا مجاز ہوں؟

3۔ میں نے حال ہی میں شالا مار ہسپتال جوائن کیا ہے، نوکری نامہ کی شرائط میں یہ بھی شامل تھا کہ میں یہاں شام کے ٹائم پرائیویٹ کلینک شروع کروں اور اپنے سارے پرائیویٹ مریض شالا مار میں ہی داخل کروں۔ ہسپتال شروع میں جوائن کرنے سے پہلے مجھے ہسپتال کے بارے میں جو دورہ کروایا گیا اور جو باتیں اس کی خوبیوں کے طور پر بتائی گئیں وہ بعد میں پتا چلا کہ سچ نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر انہوں نے بتایا کہ ہمارے پاس ہر قسم کے ٹیسٹوں کی سہولت ہے (جبکہ ان کی سی ٹی سکین مشین خراب پڑی ہے)، جو کہ انتہائی بیمار مریضوں کے لیے بہت ضروری چیز ہے۔ ایسی سہولتوں کے فقدان سے مجھے یہ خطرہ ہے کہ اگر میں نے یہ مریض جو کہ پرائیویٹ طور پر مجھ سے علاج کروانا چاہتے ہیں اور ہر طرح کا وہ خرچ اٹھانے کو تیار ہیں جس کے نتیجے میں ان کی صحت ہو تو مجھے لگتا ہے کہ انہیں شالا مار ہسپتال میں داخل کر کے میں ان کے ساتھ زیادتی  کر سکتا  ہوں۔ ایک اور مثال یہ ہے کہ شالا مار ہسپتال کا آئی سی یو (انتہائی نگہداشت یونٹ) بالکل ہی ناگفتہ بہ حالات کا شکار ہے، اور چونکہ میرے مریض اس قسم کے انفیکشن لے کر میرے پاس آتے ہیں جو بارہا کوششوں اور ٹیسٹوں اور مختلف قسم کے علاج معالجے کے بعد بھی ٹھیک نہیں ہو سکے، تو یہ میرا پیشہ ورانہ فریضہ ہے ان کو بہترین علاج اور سہولیات فراہم کی جائیں۔

اب میں اس طرح سے پھنس گیا ہوں کہ میں نے شروع میں ان کی دی ہوئی معلومات کے مطابق اس معاہدے (نوکری نامے) پر دستخط کر دیے تھے، اور ابھی ایک ماہ میں ہی یہ سب خرابیاں مجھ پر آشکار ہو گئی ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ میں ہسپتال کے سربراہ (ایگزیکٹو ڈائریکٹر سے) سے مل کر یہ مسئلہ بتاؤں یا اس میں ترمیم کرواؤں۔ بصورتِ دیگر یہ نوکری مجھے چھوڑنی پڑے گی۔ اب اس میں یہ مسئلہ ہے کہ جس ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے مجھے یہ نوکری دی تھی اس نے تقریباً میری نوکری شروع کرنے کے دو ہفتے بعد ہی اس نوکری کو چھوڑ دیا ہے، اور ہسپتال انتظامیہ کوئی نیا ایگزیکٹو ڈائریکٹر ابھی رکھ نہیں سکی، اور سننے میں آرہا ہے کہ کافی ٹائم لگ سکتا ہے، ہسپتال کا باقی عملہ اور انتظامیہ حالات کو جوں کے توں ہی چلانا چاہتے ہیں  یعنی کوئی بڑا فیصلہ نہیں کرنا چاہتے۔ لہذا اب مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ اگر میں اپنے پرائیویٹ مریضوں کو داخلے کے لیے کسی اور ہسپتال کا مشورہ دیتا ہوں جہاں ان کی بیماری کے علاج کی سب ممکنہ سہولیات میسر ہوں تو کیا میں خیانت کا مرتکب ہوں گا؟ یا اگر اس کےبرعکس انہیں شالا مار میں داخل کروا کر ان کا پورا اور ایمانداری سے علاج نہ کر سکوں اور جان کا خطرہ پیدا ہو جائے تو کون ذمہ دار ہو گا؟

میں نے تین سال بعد یہ نیا کالج جوائن کیا ہے، اس سے پہلے تین سال تک راشد لطیف میڈیکل کالج میں پڑھاتا  رہا ہوں، اور روز میڈیکل کالج بدلنا ہماری پیشہ ورانہ زندگی کے لیےبرا سمجھا جاتا ہے اور مزید یہ کہ نئی جاب / نوکری بھی فوری نہیں مل  پاتی۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ Pass-word  چوری کرنا یا اس کا توڑ کرنا یہ ایک علیحدہ مسئلہ ہے، لیکن توڑنے کرنے والا اگر کتاب شائع کر دے یا اس کی مزید Discs بنا کر فروخت کرے تو اس کی یہ مصنوعات خریدی جا سکتی ہیں۔ امید ہے کہ اس میں خریدار کو گناہ نہ ہو گا، کیونکہ اس میں بیچنے والے کا سامان لگا ہے۔

2 منسلکہ اوراق ملاحظہ فرمائیں۔

3۔ جو بھی انتظامیہ ہے اس سے بات کیجئے کہ اپنے مریضوں سے ہسپتال میں مذکورہ سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے انصاف نہ ہو سکے گا، اس لیے اجازت دی جائے کہ آپ (سائل) جس کو مناسب سمجھیں اس کو ہسپتال میں داخل کریں اور جس کو مناسب نہ سمجھیں، اس کو  دوسرے ہسپتال میں داخل کرائیں۔

اگر انتظامیہ کہے کہ وہ آپ کو کسی قسم کی اجازت دینے کی مجاز نہیں ہے تو آپ اپنی صوابدید پر عمل کر سکتے ہیں۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved