• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

پرائز بانڈ کی حرمت کی وجہ

استفتاء

پرائز بانڈ کو حرام کہنے کی شرعاً کیا وجہ ہے؟ جبکہ یہ اپنی ہی رقم ہر وقت واپس لینے کا اختیار ہوتا ہے، اور گورنمنٹ کی طرف سے انعام بھی پیسوں کی شکل میں کبھی مل جاتا ہے۔ ازراہ کرم دونوں طرف کے معاملے کی شرعی حیثیت مفصل اور مدلل انداز میں بیان فرما دیں۔ ہمارے ہاں ہر دوسرا آدمی تقریباً اس کام میں مبتلا ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

پرائز بانڈ کو حرام کہنے کی وجہ یہ ہے کہ انعامی بانڈ حقیقت میں سود کے حکم میں ہے اور سود ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اگرچہ انفرادی طور سے ہر شخص کے ساتھ زیادتی کا معاہدہ مشروط نہیں لیکن مجموعہ مقرضین کے ساتھ یہ معاملہ طے ہے کہ ہر ایک کی قرعہ اندازی کریں گے اور جن کا قرعہ نکل آئے گا ان کو انعام دیا جائے گا تو اگرچہ انفرادی طور پر ہر شخص کے ساتھ زیادتی مشروط نہیں لیکن اجتماعی طور سے سب سے یہ معاہدہ کر لیا گیا کہ ہم قرعہ اندازی کر کے پھر انعام تقسیم کریں گے۔ لہذا اگر کسی وجہ سے حکومت قرعہ اندازی نہیں کرتی تو ہر بانڈ ہولڈر کو جس کے پاس بانڈ ہے اس کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ عدالت میں جا کر کہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ ہم قرعہ اندازی کریں گے لیکن انہوں نے قرعہ اندازی نہیں کی قرعہ اندازی کروا دیجیے۔

جس کے معنیٰ یہ ہوئے کہ تمام مقرضین کو مطالبہ کا حق حاصل ہو گیا تو اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ معاملہ مشروط ہو گیا البتہ فرق صرف یہ ہے کہ یہ مشروط انفرادی طور سے نہیں بلکہ اجتماعی طور سے ہے لیکن ’’القرض المشروط فيه الاجل و زيادة مال علی المستقرض‘‘ کی تعریف اس پر صادق آ رہی ہے۔

اور عملاً ہوتا یہ ہے کہ جس جس نے بھی قرض دے کر اس کے وثیقے کے لیے بانڈ لیا ہے ہر شخص کی رقم پر ذہنی طور سے وہ سود لگاتے ہیں مثلاً زید، عزیز، بکراور خالد انہوں نے بانڈ لیا کہ اب انہوں نے چاروں کی دی ہوئی رقم اس شرح سے جو کہ معروف ہے سود لگایا۔ اب بجائے اس کے کہ وہ زید کو اس کا سود، عزیز کو اس کا سود، بکر کو اس کا سود اور خالد کو اس کا سود دیں، وہ کہتے ہیں کہ چاروں کا جو اجتماعی سود ہے وہ ہم قرعہ اندازی سے ایک کو دیں گے، لہذا جو قرعہ ڈالا تو اس کے نتیجے میں مثلاً بکر کا نام نکل آیا، تو اب چاروں آدمیوں کے رقم پر جو سود لگا تھا وہ صرف بکر کو دیدیا۔

تو سود اس معنیٰ میں تو بظاہر نظر نہیں آتا کہ ہر آدمی کو مل رہا ہے لیکن حساب لگانے میں وہ ہر ایک پر سود لگاتے ہیں اور اس سود کو سب کو دینے کے بجائے قرعہ اندازی کے ذریعے ایک کو دیدیتے ہیں لہذا یہ سود ہے البتہ اس سود کو قمار کے ذریعے دیا جاتا ہے یعنی اصلاً قمار نہیں ہے لیکن سود میں قمار ہے یعنی ہر ایک کے اوپر سود لگایا گیا پھر ہر ایک کے پاس وہ پورا پورا سود چلا گیا یا  بہت ساروں کا سود لے کر آ گیا لہذا سود میں قمار ہے اور چونکہ سود شرعاً معتبر نہیں بلکہ باطل ہے لہذا اس قمار کو فقہی اصطلاح کے مطابق قمار نہیں کہیں گے۔ اگر اصل میں ہوتا تو فقہی طور پر اس کو بھی قمار کہا جاتا، لیکن چونکہ یہاں اصل میں نہیں ہے بلکہ سود میں ہے اس واسطے اس کو اصطلاحی طور پر تو قمار نہیں کہیں گے لیکن قمار کا طریقہ کار اور قمار کی روح اس میں موجود ہے کہ سود کو قمار کر کے دیا جا رہا ہے۔ تو اس واسطے سود ہونے کی وجہ سے یہ نا جائز ہے۔ (ماخوذ از اسلام اور جدید معاشی مسائل: 81- 80)۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved