• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

پرانے آئی فون کو دوبارہ واٹر پروف بنا کر بیچنا

استفتاء

آئی فون کمپنی والے جب مارکیٹ میں فون بھیجتے  ہیں  تو وہ Water Resistant ہوتے  ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ  جب آپ راستے میں ہوں  اور بارش ہو جائے  یا آپ کے ہاتھ سے فون گر جائے  پانی وغیرہ میں چند سیکنڈ کے لیے تو موبائل فون میں پانی  نہیں جاتا کیونکہ وہ Water Resistant ہوتا ہے۔ پر انے یا استعمال شدہ آئی فون موبائل میں Water Resistant کا سسٹم خراب  ہوجاتا ہے کمپنی والا Water Resistant اس طرح ہوتا ہے کہ فون کے ارد گرد ایک ربڑ سا ہوتا ہے جب وہ خراب ہو جاتا ہے  تو لوگ یہاں پر خاص طور پر دوکاندار بھائی اس کو Repairing والے کےذریعے  ایک خاص قسم کا گم لگا کر  لوکل Water Proof بناتے  ہیں اگر Repair والے اس کو اچھے  طریقے سے Water Proof   کردیں تو  اس میں بھی پانی نہیں جاتا جس طرح کمپنی والے آئی فون میں پانی نہیں جاتا۔

اب پاکستان میں جب کسٹمر آئی فون کا وہ پر انا ماڈل لیتا ہے تو وہ اس کا Water Proof  ہونا اسطرح چیک کرتا ہے  کہ سم کی جگہ سے سم ٹرے نکال کر سوراخ میں پھونک مارتا ہے۔ اگر سکرین کے ارد گر دیا سپیکر کی جگہ سے ہو ا نکل جائے تو وہ Water Proof نہیں ہوتا اور  کسٹمر اس طرح کا فون نہیں لیتا کیونکہ یہ موبائل  Water Proof نہیں ہوتا۔ تو آج کل دوکان دار بھائی اس کو Repairing والے کے ذریعے Water Proof کرتے  ہیں  پھر جب کسٹمر اس میں پھونک مارتے  ہیں  تو ہو انہیں نکلتی  کسٹمر جب پوچھتا ہے کہ یہ Water Proof ہے تو ہم کہتے ہیں  کہ ہاں یہ Water Proof ہے اب سوال یہاں پر یہ ہے کہ:

1۔ یہ آئی فون موبائل دوبارہ Water Proof کرنا جائز ہے  یا  نہیں ؟

2۔ میں جب اس آئی فون موبائل کو Water Proof کرتا ہوں تو کیا   بیچتے  وقت  مجھ پر لازم ہو گا کہ میں کسٹمر کو بتاؤں  یہ دوبارہ Water Proof  کیا ہوا  ہے اگر نہ بتاؤں تو  بھی موبائل فون میں کچھ مسئلہ نہیں ہوتا۔کیا خریدار کو بتائے بغیر میں اسکو اسطرح  بیچ  سکتا ہوں۔ اسکا  میری  کمائی پر کوئی اثر ہو گا  یا  نہیں؟

وضاحت مطلوب ہے:  کیا عام طور پر عام لوگوں (خریداروں)کو معلوم ہے کہ اس طرح پرانے موبائلوں کو دوبارہ بھی واٹر پروف کیا جاتا ہے؟ اگر باقاعدہ خریدار کو بتا دیا جائے کہ موبائل کو دوبارہ واٹر پروف کیا گیا ہے تو کیا اس سے فرق پڑتا ہے؟ کیا گاہگ اتنے ہی پیسوں میں لینے پر تیار ہو جاتا ہے؟

جواب وضاحت: اگر خریدار کو بتا دیا جائے کہ موبائل دوبارہ واٹر پروف ہوا ہے تو وہ پھر نہیں لیتا  بمشکل وہ  بکتا ہے کیونکہ واٹر پروف کے لیے موبائل کھل جاتا ہے اور جب موبائل کھل جاتا ہے تو کوئی  اس طرح کے موبائل کو پسند نہیں کرتا ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ مذکورہ صورت میں  موبائل فون   کودوبارہ واٹر پروف کرنا جائز ہے۔

2-کسی عیب دار چیز کا عیب بتائے بغیر اس کو فروخت کرنا دھوکا ہے اور دھوکہ دینا اسلام میں ناجائز ہے۔ مذکورہ صورت میں دکاندار کا اس عیب کے علم ہونے کے باوجود عیب بتائے بغیر فروخت کرنا ناجائز ہے البتہ اگر دکاندار آئی فون فروخت کرتے وقت تمام عیوب سے برات کر کے یوں کہہ  دے کہ اس کو اچھی طرح دیکھ کر پسند کر لیں اگر بعد میں کوئی مسئلہ ہو تو میں ذمہ دار نہ ہوں گا تو اس صورت میں فروخت کرنے والا گنہگار نہیں ہوگا۔البتہ اگر خریدار صراحتاً پوچھ لے کہ کیا یہ دوبارہ واٹر پروف بنایا گیا ہے تو پھر جھوٹ بولنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

صحیح مسلم (رقم الحدیث:3808) میں ہے:

عن أبي هريرة، قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌عن ‌بيع ‌الحصاة، وعن بيع الغرر

شامی (5/47) میں ہے:

‌لا ‌يحل ‌كتمان ‌العيب في مبيع أو ثمن؛ لأن الغش حرام اذا باع سلعة مبيعة عليه البيان

شامی (5/42) میں ہے:

(قوله ‌وصح ‌البيع ‌بشرط البراءة من كل عيب) بأن قال بعتك هذا العبد على أني بريء من كل عيب

ہدایہ (3/62) میں ہے:

قال: “وكل ما أوجب نقصان الثمن في عادة التجار فهو عيب”؛ ‌لأن ‌التضرر ‌بنقصان المالية، وذلك بانتقاص القيمة والمرجع في معرفته عرف أهله

ہدایہ (3/73) میں ہے:

ومن باع عبدا وشرط البراءة من كل عيب فليس له أن يرده بعيب وان لم يسم العيوب بعددها

امداد الاحکام (3/417) میں  ہے:

سوال میری دکان میں ایسے کپڑے ہیں جن میں کوئی نہ کوئی عیب ہوتا ہے کسی میں کوئی داغ ہوتا ہے کوئی کسی مقام سے کٹا ہوتا ہے اس لیے یہ ٹکڑے بازار کے تھانوں سے کم نرخ پر بکتے ہیں جو لوگ کپڑے میں تفاوت چاہتے ہیں وہ میرے یہاں خریدنے آتے ہیں ان کو کپڑے کا عیب بتانا ضروری ہے یا نہیں؟

جواب: بہتر  ہے کہ صاف صاف بیان کر دیا جائے اگر اس کی ہمت نہ ہو تو کم از کم یوں کہہ دیں کہ اچھی طرح دیکھ لو بعد میں عیب کا ذمہ دار نہیں جیسا مال ہے سامنے ہے اس کے بعد بھی جو راضی ہو کر خریدے گا تو آپ پر شرعا ً کتمان  عیب کا گناہ نہیں ہوگا۔

بہشتی زیور (629)  میں ہے:

بیچتے وقت اس (فروخت کرنے والے)نے کہہ دیا کہ خوب دیکھ بھال لو اگر اس میں کچھ عیب نکلے یا خراب ہو تو میں ذمہ دار نہیں اس کہنے پر بھی اس(خریدار) نے لے لیا تو اب چاہے جتنے عیب اس میں نکلیں پھیرنے (واپس کرنے) کا اختیار نہیں ہے  اور اسی طرح بیچنا بھی درست ہے یہ کہہ دینے کے بعد عیب کا بتلانا واجب نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved