- فتوی نمبر: 32-79
- تاریخ: 11 جنوری 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > قبرستان کے متعلق مسائل
استفتاء
میرے والد صاحب کی قبر جہاں پر ہے وہ جگہ ڈھلوان میں ہے تو قبر بار بار گرجاتی ہے تو مستری نے کہا کہ قبر کی اطراف (سائڈوں) سے دو دو فٹ کھدائی کرکے سریہ کا جال بچھا کر کنکریٹ بھر دی جائے تاکہ سائڈوں سے پانی نہ بیٹھے تو شرعی طور پر اس کی گنجائش موجود ہے یا پھر اس کا کوئی متبادل موجود ہے؟
وضاحت مطلوب ہے: (1)قبر کتنی پرانی ہے؟ (2) کیا سریہ کا جال بچھانے کے لیے قبر کھودنی پڑے گی؟(3)قبر گرنے سے کیا مراد ہے؟ اوپر کی ڈھیری پانی سے بہہ جاتی ہے یا قبر کھل جاتی ہے؟ (4) جو حل مستری نے بتایا ہے کیا اس کے علاوہ اور کوئی حل نہیں ہے؟ مثلاً قبر کے ارد گرد خالی اینٹوں اور سیمنٹ سے چار دیواری کردی جائے؟ (5) جس جگہ آپ کے والد کی قبر ہے کیا اس جگہ اور لوگوں کی بھی قبریں ہیں؟ اگر ہیں تو کیا ان میں یہ مسئلہ پیش نہیں آتا؟ اگر آتا ہے تو وہ کیا حل کرتے ہیں؟
جواب وضاحت: (1)5 یا 6 ماہ پرانی ہے۔ (2) مکمل نہیں کھودنی پڑے گی صرف اطراف (سائڈوں )سے سلیبوں سے اوپر تک کھودنی پڑے گی۔(3) اوپر کی ڈھیری کچھ بہہ جاتی ہے، زیادہ مٹی نیچے بیٹھ جاتی ہے، قبر کھلتی نہیں۔ (4) اینٹوں کے متعلق مستری سے پوچھا ہے کہ اگر اینٹیں لگا دی جائیں تو پھر بھی کبھی دائیں جانب سے بیٹھ جائے گی اور کبھی بائیں جانب سے بیٹھ جائے گی۔ (5) وہاں اور لوگوں کی قبریں بھی ہیں وہ بھی گر جاتی ہیں وہ صرف مٹی ڈال دیتے ہیں، پھر گر جاتی ہے وہ پھر مٹی ڈال دیتے ہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں آپ کا قبر کے گرد پانی سےبچاؤ کےلئے سریہ استعمال کرنےکی گنجائش ہے البتہ اس کی جگہ کچی اینٹ یا سیمنٹ اور بجری سے بنی ہوئی اینٹ کا استعمال بہتر ہے۔
شامی(2/236) میں ہے:
«قال في الحلية: وكرهوا الآجر وألواح الخشب. وقال الإمام التمرتاشي: هذا إذا كان حول الميت، فلو فوقه لا يكره لأنه يكون عصمة من السبع. وقال مشايخ بخارى: لا يكره الآجر في بلدتنا للحاجة إليه لضعف الأراضي
النہر الفائق شرح كنز الدقائق (1/ 403) میں ہے:
«ويكره الآجر في اللحد إذا كان يلي الميت أما فيما وراء ذلك فلا بأس به وهذا يقتضي أن بناء القبر دون اللحد لا بأس به هذا إن لم تكن الأرض رخوة فإن كانت فلا بأس بالآجر والخشب حوله.
احسن الفتاوی(4/198)میں ہے:
سوال قبر میں بوقت ضرورت سیمنٹ یا سیمنٹ اور بجری کی بنی ہوئی اینٹ یا پتھر کا استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ سیمنٹ کی اینٹ اور مٹی کی پختہ اینٹ میں کچھ فرق ہے یا دونوں کا ایک ہی حکم ہے ؟
جواب قبر کے اندر میت کے اطراف میں بلا ضرورت لکڑی کے تختے پتھر سیمنٹ کی اینٹ لوہا اور بھٹی میں پکی ہوئی ا ینٹ لگانا مکروہ تحریمی ہے اگر زمین بہت نرم ہو یا اس میں نمی ہو اور قبرکے گرنے کا خطرہ ہو تو بقدر ضرورت مذکورہ اشیاء لگانے کی اجازت ہے اگر لکڑی پتھر یا سیمنٹ کی اینٹ سے ضرورت پوری ہو جائے توبھٹی کی پختہ اینٹ اور لوہے سے احترازکیا جائے اس لیے کہ ان میں آگ کا اثر ہے پتھر اور سیمنٹ کی اینٹ میں یہ قباحت نہیں ایسی ضرورت کے وقت لکڑی پتھر اور لوہے کے تابوت میں رکھ کر دفن کرنے کی بھی گنجائش ہے البتہ لوہےکےتابوت سے حتی الامکان احتراز لازم ہے ہر قسم کے تابوت میں بہتر یہ ہے کہ نیچے مٹی بچھا لی جائے میت کے دونوں طرف کچی اینٹیں لگا دی جائیں ڈھکنے کے اندر کی طرف مٹی لیپ دی جائے۔
کفایت المفتی (2/39)میں ہے:
سوال: قبر کو اوپر سے پختہ بنانا اس طرح کہ میت کے محاذ میں کچی رہے جائز ہے یا نہیں؟
جواب: قبر کو چار طرف سے پختہ بنانا اس طرح کہ میت کے جسم کے محاذ میں نیچے سے اوپر تک کچی رہے مباح ہے، یعنی میت کا جسم چاروں طرف سے مٹی کے اندر رہے، پرے پرے پختہ ہو جائے تو حرج نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved