- فتوی نمبر: 8-390
- تاریخ: 07 مئی 2016
- عنوانات: مالی معاملات > رہن و گروی
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ شرعیہ کے بارے میں کہ *** نے *** سے کہا کہ تم اپنا فلاں مکان مجھے دو سال کے لیے بعوض دو لاکھ روپے کے دے دو۔ میں دو سال بعد تمہارا مکان تمہیں واپس کردوں گا اور تم مجھے میرے دو لاکھ روپے واپس کر دینا۔ اور گھر کا ہر قسم کا بل (بجلی، گیس وغیرہ) نصف نصف ہو گا۔ نصف تم دو گے اور نصف میں۔ آیا شریعت کی رو سے یہ صورت درست ہے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ معاملہ گروی کا ہے جو کہ ناجائز ہے۔ کیونکہ مذکورہ معاملے میں *** نے جو رقم *** کو دی ہے اس کی حیثیت قرض کی ہے اور اسی قرض کی بنیاد پر *** *** کے مکان کو استعمال کرتا ہے جو کہ سود کی صورت ہے۔………………………. فقط و الله تعالى أعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved