- فتوی نمبر: 31-338
- تاریخ: 07 اپریل 2026
- عنوانات: مالی معاملات > سود
استفتاء
كيا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی بندہ کسی آٹا چکی والے کو پیسے دے کہ وہ ان پیسوں سے میرے لیے 50 بوری گندم خرید لیں اور جب بھی مجھے ضرورت ہو مجھے ایک من گندم پسوا کر دے دیا کریں ۔ باقی گندم آپ ہر طرح سے اپنے استعمال میں لاسکتے ہیں تو یہ صورت صحیح ہے یا نہیں؟ گندم خریدنے اور وصول کرنے کے وقت میں قیمتیں مختلف ہوسکتی ہیں۔
وضاحت مطلوب ہے: (۱) گندم چکی والے سے فر ی پسوائی جائے گی یا اس کے پیسے دیے جائیں گے؟(۲) چکی والے کو یہ کہنا کہ باقی گندم آپ ہر طرح سے اپنے استعمال میں لاسکتے ہیں؟ اس سے کیامراد ہے؟(۳) کیا چکی والاعملا اس گندم کو اپنے پاس محفوظ رکھے گا یا اسے استعمال کرے گا؟
جواب وضاحت: (۱) گندم چکی والے سے فر ی پسوائی جائے گی۔(۲) بطور قرض چکی والا گندم استعمال کرسکتا ہے جب مجھے ضرورت ہوگی تو میں واپس لے لوں گا۔(۳) میں نے چکی والے کو گندم دیدی ہے اب اس گندم کا ذمہ دار وہ ہے۔استعمال کرے یا نہ کرے یہ اس کا مسئلہ ہے۔مجھے اس سے اپنی گندم چاہیے ہوگی اگر خدانخواستہ اس کا کوئی نقصان بھی ہو جائے تب بھی وہ ذمہ دار ہوگا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت جائز نہیں۔
توجیہ:مذکورہ صورت میں مندرجہ ذیل خرابیاں ہیں:
- مذکورہ صورت صفقۃ فی صفقۃ کی ہے پہلا صفقہ توکیل بالشراء کا ہے اور دوسرا قرض کا اور تیسرا اس گندم کی پسوائی یعنی اجارے کا۔
- گندم دینے والا کسی بھی مرحلے میں اس کا ضمان لینے کے لیے تیار نہیں حالانکہ کم از کم چکی والے کے اس گندم کو اپنی گندم کے ساتھ خلط کرنے سے پہلے تک کا ضمان گندم دینے والے کے ذمے بنتا ہے۔
- قرض سے فائدہ اٹھانا ہے یعنی گندم قرض دینےوالا مقروض سے یہ گندم مفت میں پسوائے گا جو کہ سود ہے۔
1۔شامی(7/413) میں ہے:
كل قرض جر نفعا حرام أى اذا كان مشروطا كما علم مما نقله البحر
الدر المختار(7/413)میں ہے:
وفى الاشباه: كل قرض جر نفعا حرام
2۔ہندیہ(7/264) میں ہے:
إذا كان عند رجل وديعة دراهم أو دنانير أو شيء من المكيل أو الموزون وأنفق شيئا منها في حاجته حتى صار ضامنا لما أنفق لا يصير ضامنا لما بقي، وإن جاء بمثل ما أنفق فخلط بالباقي صار ضامنا للكل، وهذا إذا لم يجعل على ماله علامة حين خلطه بمال الوديعة أما إذا جعل بحيث يتأتى التمييز لا يضمن إلا ما ينفق، كذا في الذخيرة ………… فإن أخذ بعضها على نية الإنفاق ولم ينفقه حتى خلطه بالباقي ثم هلك كله لا ضمان عليه، كذا في المضمرات
الجوہرۃ النیرۃ (1/349) میں ہے:
قوله (فإن أنفق المودع بعضها ثم رد مثله فخلطه بالباقي ضمن الجميع)
وقوله فخلطه بالباقي إنما ذكر الخلط احتراز عما إذا هلك الباقي قبل الخلط فإنه يهلك أمانة
3۔المبسوط للسرخسی (12/196) میں ہے:
نهى رسول الله – صلى الله عليه وسلم – عن صفقتين في صفقة
حاشیۃ الشلبی علی تبیین الحقائق (4/44) میں ہے:
نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صفقتين فى صفقة وعن بيعين فى بيع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved