• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

قیمت کی ادائیگی سے پہلے مشتری سے کم قیمت میں بائع یا بائع کے وکیل یا تیسرے شخص کا خریدنا

استفتاء

ایک سوزوکی گاڑی نقد تین لاکھ روپے میں فروخت ہوتی ہے، میں نے یہی گاڑی چھ مہینے تک کے ادهار میں پانچ لاکھ کی بیچ دی، اب مشتری سے یہی گاڑی میں نے، یا میرے پارٹنر  نے، یا کسی تیسرے شخص نے، اسی مجلس میں، یا مجلس تبدیل کرکے۔ (اور مجلس کی تبدیلی کوئی مشکل کام  نہیں، اور کیا مجلس کی تبدیلی سے بیع تام ہوگی، یا دین کی ادائیگی تک موقوف ہوگی؟)
میں نے ڈهائی لاکھ میں واپس خرید لی، اور مشتری اس بارے میں بالکل آزاد ہے، جہاں بیچنا چاہے، بیچ سکتا ہے، بائع کو واپس بیچنا نہ معروف ہےاور نہ مشہور، لیکن آسانی کے خاطر ہمیں دوباره بیچ دی جاتی ہے، کیا ایسی بیع جائز ہوگی…..؟

نوٹ: ایک مفتی صاحب کہتے ہیں، جب تک مشتری بائع کا مکمل دین نہ اتارے، اس وقت تک بیع تام نہ ہوگی، اور مشتری یہ مبیع دوباره بائع کو نہیں بیچ سکتا یعنی ”شراء ما باع بأقل مما باع قبل نقد الثمن “.  دوسری صورت بیع عینہ ہوسکتی ہے، یہ بهی ناجائز ہے، کیا ان دونوں صورتوں کے علاوه کوئی تیسری جائز صورت ممکن ہوسکتی ہے؟

اس بیع میں مشتری نے دونوں خسارے برداشت کیے ہیں، یعنی: پہلے تین لاکھ کی گاڑی پانچ لاکھ میں خریدی، اور پھر پچاس ہزار کے نقصان کے ساتھ ہمیں واپس بیچ دی، اور مشتری یہ سب کچھ اس لئے برداشت کرتا ہے کہ وه مجبور ہےاور مجبوری سے غلط فائده اٹهانا جائز نہیں،  یا کاروباری ترقی کیلئے نقد پیسے وصول کرتا ہے، اس بارے میں کوئی مجبوری نہیں، صرف بینک بیلنس بڑهانے کیلئے ہے۔ کیا نقد پیسے وصول کرنے کا یہ طریقہ جائز ہے؟

نوٹ: اس قسم کی بیع ہمارے علاقہ میں بالکل مباح سمجهی جاتی ہے

اگر اس قسم کی بیع ناجائز ہے، تو کیا اس کے لئے کوئی متبادل ہے…..

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ مذکورہ صورت میں جب آپ نے اپنی سوزوکی گاڑی 6 مہینے کی ادھار پر پانچ لاکھ میں  بیچ دی اور خریدار نے اپنی قیمت کی ادائیگی نہیں کی تھی کہ آپ نے وہ گاڑی دوبارہ ڈھائی لاکھ میں خریدی تو آپ کا یا آپ کے پارٹنر کا یہ گاڑی خریدنا جائز نہیں۔ اگرچہ بائع کو واپس بیچنا نہ مشروط ہو اور نہ معروف ہو۔

اس کی وجہ وہی ہے جو آپ نے سوال میں ذکر کی ہے۔ یعنی ”شراء ما باع بأقل مما باع قبل نقد الثمن لا يجوز“. اور پارٹنر (یعنی شریک) چونکہ آپ کا وکیل ہے اس لیے اس کا خریدنا بھی جائز نہیں۔

فتاویٰ شامی (7/ 268) میں ہے:

و فسد شراء ما باع بنفسه أو وكيله من الذي اشتراه و لو حكما كوارثه بالأقل من قدر الثمن الأول قبل نقد كل الثمن الأول.

2۔ تیسرے آدمی کا خریدنا جائز ہے بشرطیکہ اس تیسرے آدمی سے آپ کا اندر کھاتے یہ سمجھوتہ نہ ہو کہ تم خرید کر پھر مجھے فروخت کر دینا کیونکہ یہ پہلی ہی صورت کا ایک حیلہ ہے۔

فقہ البیوع (1/ 556) میں ہے:

التورق في اصطلاح الفقهاء هو شراء شخص (المتسورق) سلعة بثمن مؤجل من أجل أن يبيعها نقداً بثمن أقل غالباً إلى غير من اشتريت منه بقصد الحصول على النقد و هذا التورق جائز شرعاً شرط أن يكون مستوفياً لشروط البيع المقررة شرعاً….. فقط و الله تعالى أعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved