- فتوی نمبر: 35-39
- تاریخ: 04 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
میرے والد کا انتقال اکتوبر 2021 میں ہوا تھا اور والدہ کا انتقال بھی 2019میں ہو چکا ہے۔ ہم پانچ بہن بھائی (دو بہنیں اور تین بھائی) ہیں ۔ والد کا کل اثاثہ ایک گھر ہے جس میں ہم بھائی رہائش پذیر ہیں بہنوں کی شادی ہو چکی ہے اور وہ اپنے شوہروں کے ساتھ ان کے گھروں میں رہتی ہیں۔ میں اپنی بہنوں کو گھر کی وارثت دینا چاہتا ہوں گھر کی قیمت لگوائی ہے اور اس کو آٹھ حصوں میں تقسیم کر دیا ہے جب سے ابو کا انتقال ہوا ہے اس مہینے سے گھر کے ایک فلور پر میں رہتا ہوں باقی دو فلور پر دونوں بھائیوں کی رہائش ہے ، میں نے اپنے حصے کی وراثت بہنوں کو دے دی ہے والد کے انتقال کے وقت سے اب تک جتنا کرایہ گھر کا ان کے حصے میں بنتا ہے وہ ماہانہ کرایہ بھی دینا چاہتا ہوں اس کا طریقہ اور حساب بتادیں میرے فلور کا کرایہ مارکیٹ میں 40 ہزار ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں ہر مہینے کا (جتنے مہینے گزرے ہیں) پانچ پانچ ہزار دونوں بہنوں کو دیدیں ۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں چونکہ تمام ورثاء (دو بہنوں اور تین بھائیوں ) میں مکان مشترکہ تھا اس لیے مارکیٹ ریٹ کے مطابق کرایا (40 ہزار )کے آٹھ حصے کریں گے دو ، دو حصے بھائیوں کے حصے میں آئیں گے اور ایک، ایک حصہ بہنوں کے حصے میں آئے گا جو پانچ ہزار بنتا ہے اس لحاظ سے ہر مہینے کا کرایہ پانچ ہزار ایک بہن کا حق بنے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved