• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

سفر میں روزہ توڑنے کا حکم

استفتاء

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ مفتی صاحب!

ہم اکثر مسافر ہوتے ہیں ٹرک چلاتے ہیں۔ آج کل روزہ گرمی  میں آ رہا ہے۔ بعض اوقات گاڑی خراب ہو جاتی ہے، اور بعض اوقات سہولت نہ ہونے کی وجہ سے روزہ مشکل ہو جاتا ہے، ہم مسافر ہونے کی حیثیت سے سفر سے فائدہ اٹھا ہوئے روزہ توڑ دیتے ہیں ۔ اس کا کیا حکم ہے کیا ایسا کرنے سے صرف قضا ہے یا کفارہ بھی ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اگر واقعتاً روزے کو نبھانا مشکل ہو جائے تو روزہ توڑ سکتے ہیں۔ روزہ توڑنے کی صورت میں صرف قضاء ہو گی، کفارہ نہ ہو گا۔

کتاب الاصل المعروف بمبسوط شیبانی (2/153) میں ہے:

قلت: أرأيت رجلاً مسافراً أصبح صائماً في شهر رمضان ثم أفطر؟ قال: عليه القضاء ولا كفارة عليه.

محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة عن مسلم الأعور عن أنس بن مالك عن النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه خرج من المدينة إلى مكة في شهر رمضان، فشكا إليه الناس في بعض الطريق الجهد، فأفطر حتى أتى مكة.

فتاویٰ محمودیہ () میں ہے:

’’سوال: ***نے فرض روزے کی نیت کی اور دن کا کچھ حصہ گذرا تھا کہ وہ اتفاقیہ سفر پر روانہ ہو گیا، سفر کافی طویل ہے۔ کیا ***اس روز ے کو توڑ سکتا ہے؟

الجواب: اگر مشقت ہے پورا کرنا دشوار ہے تو اس کو توڑ سکتا ہے۔‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved