- فتوی نمبر: 31-342
- تاریخ: 07 اپریل 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
(1)سخاوت(2) بخل اور(3) اسراف میں کیا فرق ہے؟ کس مقدار کو سخاوت اور کس مقدار کو بخل اور کس مقدار کو اسراف میں شمار کیا جائے گا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔شریعت ومروت کے تقاضے کے مطابق خرچ کرنا سخاوت ہے اور سخاوت قابل تعریف بھی ہے لہٰذا جہاں شریعت کے تقاضے پر خرچ کرنا فرض ہے وہاں سخاوت بھی فرض ہے اور جہاں شریعت کے تقاضے پر خرچ کرنا مستحب ہے وہاں سخاوت مستحب ہے اس لیے سخاوت کی دو قسمیں ہیں: (۱) فرض (۲) مستحب۔
2۔بخل چونکہ سخاوت کی ضد ہے اس لیے جہاں خرچ کرنا شرعا فرض ہو وہاں خرچ نہ کرنا یعنی بخل حرام ہوگا اور جہاں خرچ کرنا پسندیدہ ہو وہاں خرچ نہ کرنا یعنی بخل پسندیدہ کام کو ترک کرنا ہوگا (تاہم یہ گناہ کی بات نہیں ہے)
3۔اسراف کا مطلب ہے کہ قابل تعریف مقام میں ضرورت سے زائد خرچ کرنا ۔رہا یہ کہ کہاں ضرورت کے مطابق ہے اور کہاں ضرورت سے زائد ہے یہ موقع محل کی تعیین سے ہی طے ہوسکتا ہے۔
کشاف اصطلاحات الفنون (1/192) میں ہے:
البخيل الممتنع عن اداء الحقوق الواجبة كالزكوة والنفقات وغيرها.
فیض القدیر (5/252) میں ہے:
وحد السخاء أي في المخلوق بذل ما يحتاج إليه عند الحاجة وأن يوصل إلى مستحقه بقدر الطاقة
شامی (10/529) میں ہے:
ان الاسراف صرف الشئ فيما ينبغى زائدا على ما ينبغى
الوابل الصیب (ص:34) میں ہے:
وحد السخاء بذل ما يحتاج إليه عند الحاجة، وأن يوصل ذلك إلى مستحقه بقدر الطاقة، وليس كما قال البعض من نقص عمله ـ حد الجود بذل الموجود.
ولو كان كما قال هذا القائل لارتفع اسم السرف والتبذير، وقد ورد الكتاب بذمهما، وجاءت السنة بالنهي عنهما.وإذا كان السخاء محموداً فمن وقف على حده سمي كريماً وكان للحمد مستوجباً، ومن قصر عنه كان بخيلاً وكان للذم مستوجباً
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved