• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

سعودیہ میں نئے آنے والوں کو رہائش اور کھانے کی سہولت فراہم کرنے کی ایک صورت

استفتاء

ایک مسئلہ کی وضاحت چاہیے  تھی ، صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ ایک بندہ سعودی عرب میں کسی کمپنی میں  کام کرتا ہے  اور  اس بندے کی اس کمپنی کے مالک کے ساتھ دعا سلام ٹھیک ہے وہ بندہ پاکستان سے کسی بندہ کو آزاد ویزے پر بلاتا ہے،جب  تک  اس بندے کا کام شروع نہیں ہوتا اس سے پہلے کا جو خرچ ہے وہ سارا خرچ وہ بندہ اٹھاتا ہے جو پہلے سے وہاں موجود ہے۔ جب نئے آنے والے  بندے کی وہاں  نوکری شروع ہوتی ہے جس کو بعد میں پاکستان سے بلایا گیا تھا اس کی تنخواہ سے نصف یا کچھ پیسے وہ بندہ لیتا ہے جو اس بندے کو وہاں بلاتا ہے تو مسئلہ یہ پوچھنا   تھا کہ  آیا یہ پیسے اس بندے کے لیے لینا جائز ہے یا نہیں؟ یہ رشوت کے زمرے میں آتا ہے یا سود کے زمرے میں؟ اور جو وہ خرچ کرتا رہا ہے اس کی نوکری لگنے سے پہلے وہ بھی پیسے  وہ اس سے وصول کرے گا،اس کی تفصیل چاہیے۔

وضاحت مطلوب ہے کہ: 1۔نئے بندے کو آزاد ویزے پر بلانے میں سعودیہ میں موجود شخص کا پیسہ لگا ہے یا نہیں؟ اگر لگا ہے تو کتنا؟ اور اگر صرف محنت ہے تو محنت کی نوعیت کیا ہے؟ 2۔خرچ اٹھاتا ہے سے کیا مراد ہے؟ کیش میں دیتا ہے یا کھانا اور رہائش مہیا کرتا ہے؟3۔” اس کی تنخواہ سے نصف یا کچھ پیسے وہ بندہ لیتا ہے جو اس بندے کو وہاں بلاتا ہے "اس کی کوئی مدت کی تعیین ہوتی ہے یا لائف ٹائم ہوتا ہے؟(۴)پہلے سے موجود شخص جس جگہ رہتا ہےوہ جگہ اس نے کرایہ پر لی ہے یا پھر جہاں وہ کام کرتا ہےاس کمپنی کی طرف سے اس کو ملی ہے؟(5) پہلے سے موجود شخص جو کھانا دوسرے کو کھلاتا ہے وہ اس کا اپنا ہوتا ہے یا پھر کمپنی کی طرف سے اس کو ملتا ہے؟

جواب وضاحت: 1۔آنے والا اپنے خرچے پر آتا ہے ، بلانے والے کا خرچہ نہیں ہوتا اور نہ محنت ہوتی ہے۔2۔کھانا، رہائش مہیا  کرتا ہے اور اس کے علاوہ جیب خرچ بھی دیتا ہے  اور کفیل/ اقامے کا خرچ بھی دیتا  ہے۔جیب خرچ  میں دیے گئے پیسے تو پورے کے پورے وصول کرتا ہے جبکہ اقامے اور کفیل کا خرچہ نصف تنخواہ میں ایڈجسٹ کرتا ہے۔

3۔جب تک ملازم لیول ون  میں رہتا ہے تب تک اس کی آدھی تنخواہ لے گا اور لیول ون میں لوگوں کو مختلف وقت لگتا ہے البتہ  مناسب استعداد والا ملازم عام طور سے ایک سال میں  لیول ون سے آگے  چلا جاتا ہے۔

۴،۵۔ مذکورہ شخص کی رہائش اپنی ہے یعنی اس نے کرائے پر لی ہے اور کھانا بھی اس کا اپنا ہے، کمپنی کی طرف سے اس کو صرف دوپہر کا کھانا دیتی ہے اور وہ کھانا یہ خود کھاتا ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت جائز نہیں، اس لیے کہ  مذکورہ صورت میں پہلے سے مقیم شخص کی طرف سے نئے آنے والے شخص کوکھانے اور رہائش کی مد میں  جو سہولیات دی جارہی ہیں وہ طے شدہ نہیں ہیں اس لیے کہ ہوسکتا ہے کہ نئے آنے والے شخص کو جلد  نوکری مل جائے اور ہوسکتا ہے کہ غیر معمولی تاخیر ہوجائے۔ اسی طرح  ان کے بدلے میں لی جانے والی رقم  بھی طے شدہ نہیں ہےجبکہ شرعی لحاظ سے سہولیات اور ان  کے بدلے میں لی جانے والی رقم کا طے شدہ ہونا ضروری ہے اسی طرح کفیل اور اقامے کی مد میں  پہلے سے مقیم شخص جو خرچے  کررہا ہے اس کا عوض بھی طے شدہ نہیں ہے۔

نوٹ: اگر سعودیہ میں پہلے سے موجود شخص یہ کرے کہ :

اس نےنئے آنے والے شخص کو جیب خرچ اور اقامے و کفیل کے خرچے  کی مد میں جتنے روپے ادا کیے ہیں ان  کو قرض سمجھتے ہوئے کمی بیشی کیے بغیر اتنی ہی رقم اس سے واپس لےاور رہائش اور کھانے کا یومیہ عوض  طے  کرلے پھر جتنے دن وہ کھانا   اور رہائش استعمال کرے اتنے دنوں کا عوض  اس سے لے لے تو اس معاملے کی گنجائش ہوسکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved